Complete Novels

Jafa Ka Mausam Khatam Hi Samjho By Qamrosh Shehk

Jafa Ka Mausam Khatam Hi Samjho is a Romantic Novel by Qamrosh Shehak.
“تو بےحیا بےغیرت بدکردار لڑکی۔جانے کب سے میرے شوہر پہ ڈورے ڈال رہی تھی۔بدچلن آوارہ تو خود کو سمجھتی کیا ہے۔اپنی دادی کیلیے روز اذلان کو یہاں بلالیتی اور یہ گل کھلارہی تھی۔میرے ہی حق پر ڈاکہ ڈالنا تھا تجھے۔”
ہ”ہانیہ پاگل ہوگئی ہو کیا۔کس قسم کی لینگویج استعمال کررہی ہو۔”اذلان نے ایک بار پھر سے اسکو قابو کیا تھا۔
“اس جیسی لڑکیوں کیلیے تو یہی لینگویج استعمال کرنی چاہیے۔جانے کہاں سے یہ دادی پوتی اٹھ کر آگئی ہیں بازاری مورت طوائف کا اڈہ بنارکھا ہے اس جگہ کو۔نیچ خاندان کی نیچ لڑکی۔جانے کتنے مرد یہاں آئے ہونگے۔”
“ہانیہ۔”اذلان کی برداشت کی حد ختم ہوگئی تھی۔اس نے دو تین تھپڑ ذور ذور سے ہانیہ کے منہ پہ جڑے تھے کہ اس کے ناک اور ہونٹوں کے پاس سے خون کی ایک لکیر نمودار ہوئی تھی۔
“شکر کرو کہ میرا ظرف یہی تک تھا۔”
ہانیہ اپنے چہرے پہ ہاتھ رکھے ازلان کو قاتلانہ نظروں سے گھور رہی تھی جبکہ مشعل نے دونوں ہاتھ اپنے منہ پہ رکھ لیے۔ہرنی انکھیں ہونق کی طرح پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔
“مشعل میری منکوحہ ہے میں جانتا ہوں اور وثوق سے اسکے بارے میں اسکے باکردار ہونے کی گواہی بھی دیتا ہوں۔تمہیں کیا لگا میں نے اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھ رکھی ہے۔تم اتنے ٹائم سے غائب رہی کہاں تھی کس کے پاس تھی۔کس کے ساتھ تمہارے شب و روز گزر رہے ہیں۔تم جس راستے پہ چل نکلی ہو۔”
“اپنا گناہ چھپانے کیلیے مجھ پر الزام مت رکھو اذلان۔”ہانیہ دھاڑی تھی۔
“میں اس سے ذیادہ کچھ نہیں کہ سکتا۔دفع ہوجاؤ یہاں سے۔”ازلان کا غصہ ساتویں آسمان سے باتیں کررہا تھا۔

Jahad e Istaqalal

یہ کہانی ہے اقتدار کی چاہ میں بہتے خون کی،سمندر سے گہری نفرت کی ،آسمان کو چھوتی محبت کی،فریب کی چادر اوڑھے رشتوں کی، دھوکہ سے ابھرتی سچایوں کی اور حاصل ہوتے ہوے بھی خسارے میں رہ جانے کی
یہ کہانی ہے ہر اس کردار کی جس کے لیے سچ کاآٸینہ صرف اس کی اپنی ذات رہی ہے یہ کہانی فیری ٹیلز کے سچ ہونے کی ہے مگر حقیقت کے سانچے میں۔۔

Jahad e Musalsal

یہ کہانی ہے ٹوٹے ہوۓ رشتوں کی, چند یونیورسٹی فیلوز کی اور  ایک ان چاہے رشتے کی. یہ کہانی ہے بہادر نقابی لڑکی کی کیونکہ بہادر وہ نہیں ہوتے جو ڈرتے ہی نہیں ہیں بلکے وہ ہوتے ہیں جو ڈر کے باوجود سر نہیں جھکاتے. ایک بزدل لڑکے کی کیونکہ با ادب لڑکے اس دنیا میں بزدل ہی کہلاتے ہیں.
1 118 119 120 312