کچھ خواہشیں گناہ نہیں ہوتیں، مگر زمانہ اُنہیں معاف نہیں کرتا۔
کبھی ایک چاند کو دیکھنے کی آرزو، انسان کو ایسی شب کے سپرد کر دیتی ہے جس کے بعد زندگی پہلے جیسی نہیں رہتی۔
ماہ گزیدہ ایک خاموش دل، گھٹے ہوئے ماحول، اور اُن اَن کہے خوفوں کی حکایت ہے جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر رفتہ رفتہ روح پر اپنے نقوش ثبت کر جاتے ہیں۔
یہ افسانہ خواہش اور پابندی، معصومیت اور اندیشے، نیز چاندنی اور تاریکی کے درمیان معلق ایک ایسی کیفیت کو بیان کرتا ہے جسے ہر شخص پڑھ تو سکتا ہے، مگر پوری طرح محسوس نہیں کر پاتا۔