ایک کم ظرف سلطنت میں پلا بڑھا با ظرف اسماعیل جس کے ارادے چٹان کی مانند مضبوط تھے تو حوصلے آسمان جتنے وسیع۔ وہ جو سلطنت کے مرکزی شہر کو شہر خاموشاں کہتا تھا تو وجہ کیا تھی؟ وہ سترہ سال کی عمر میں بھی سلطنت کا غرور توڑتا رہا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ لگ سکی۔ وہ اسماعیل جس کے لیے ہر ماں خواں ہو کہ اس سا بیٹا مل جائے،ہر بہن چاہے کہ بھائی ہو تو اس جیسا۔ وہ اسماعیل کون ہے؟ یہی کہانی ہے،یہی افسانہ۔