All

Novelette Ghanti by Mahnoor Rasheed

یہ کہانی انسان کے نفس میں پلنے والی خواہشات کے متعلق ہے، وہ خواہشات جو انسان کو برائی پہ مائل کر تی ہیں، یہی خواہشات انسان پہ غالب آتی ہیں اور انسان اپنے نفس کے ہاتھوں اپنا بڑا نقصان کر بیٹھتا ہے،  یہ کہانی انگریزی کہانی بٹن بٹن سے کافی مماثلت رکھتی ہے مگر کافی حد تک اس سے منفرد بھی ہے۔

Nafaasam

یہ کہانی ہے اللّٰہ پر یقین کی…
یہ کہانی ہے ایک بھائی کی اپنی بہن سے محبت کی…
یہ کہانی ہے فریحہ خان کے صبر کی…
یہ کہانی ہے ماضی میں کھوئے ہوئے رشتوں کے مل جانے کی…
یہ کہانی ہے آپس میں پیار و محبت اور خلوص کی…
یہ کہانی ہے فاریہ خان کے شکر کی…
یہ کہانی ہے ایک بے مثال دوستی کی…
یہ کہانی ہے خان حویلی کی روایات کے ٹوٹ جانے کی…
یہ کہانی ہے مہرین بیگم کے چائے سے عشق کی…
یہ کہانی ہے انتقام کی…

Wajood e Yaad

وجود یاد میرا تیسرا ناول ہے۔ الحمداللہ پہلے دو ناول حسرت زندگی اور آسیب محبت کو لوگوں نے بہت پزیرائی دی اور اسی کے نتیجے میں میں نے تیسرا ناول وجودِ یار لکھا ہے  ۔ یہ ناول تین کرداروں کے گرد گھومتا ہے ۔ اس ناول کے کردار محبت میں رچےہوئے ہیں۔ اس ناول کی تھیم ہی محبت ہے محبت کی یادیں ہیں جو کہ وجود یاد بن جاتی ہیں۔
یہ کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جو اپنی یاداشت کھو بیٹھتی ہے اور اسی دوران اسے محبت ہوتی ہے۔
یہ کہانی ہے ایک ایسے لڑکے کی جو محبت کے لیے اپنا آپ بھی ہارنے کو تیار ہوتا ہے۔ جسے صرف اپنے پیار کی خوشی چاہیے
ہوتی ہے۔ دوسری طرف ایک اور ایسا کردار جو اپنی بے نام محبت کو اللہ سے مانگتا ہے۔
اس ناول میں محبت کا احترام کرنا بتایا گیا ہے۔ نفرت بغض اور کینہ جیسے جذبات کو چھوڑ کر صرف محبت کی ڈور کو سلجھاکے رکھنا دکھایا گیا ہے۔
پورا کا پورا ناول محبت کے وجود پہ ٹکا ہوا ہے جو کہ وجود یاد ہے۔

Haal e Dill

“عورت” کو میرے مذہب نے ایک عظیم الشان رتبے سے نوازا، بیٹی کے روپ میں رحمت کہلائی، بہن کی صورت میں ٹھنڈک، بیوی کا لبادہ اوڑھے راحت کا سبب بنی اور ماں کا منصب عطا کرنے کے ساتھ ربِ کریم نے جنت کو عورت کے قدموں میں سجا دیا گیا۔ افسوس معاشرے کے ایک طبقے نے رحمت کو زحمت گردانا اور بیٹی کی ولادت معیوب سمجھی جانے لگی لیکن اِسی معاشرے میں ایسے لوگ بھی دیکھنے کو ملے جنہوں نے اس رحمت کے ہونے پر سجدۂِ شکر واجب سمجھا۔ عورتوں کی ایک کہانی جہاں ہر لڑکی کو اپنی منفرد داستان کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ “حور خان” کی کہانی جس کے حقیقی باپ نے اپنے ہاتھوں سے چند گھنٹوں کی معصوم بیٹی ایک غیر کے حوالے کردی، غیروں کے درمیان ناز و نعم سے پلتی اپنے پردے کا مان رکھتی “سیدہ آورش شاہ” کی کہانی ۔ “ماہی شازل شاہ” کی کہانی جو اپنے بھائی کے بدلے ونی کر دی گئی۔ “حریم علی” کی کہانی جس کی قسمت میں ماں باپ کا سایہ تو نہ آیا مگر وہ شاہ زادی بنا کر پروان چڑھائی گئی۔ “فجر مستقیم” کی کہانی جس نے بھائی کی خوشیوں کی خاطر اپنا آپ گروی رکھ دیا۔
1 449 450 451 503