All

Kon Hon Mein Episode 1 by Wisha Nadeem

یہ کہانی ایک عیسائی یتیم لڑکی کی ہے جو ایک اسلامی ملک میں پروان چڑھ رہی ہے۔ اس کے ذہن میں سوالات کی ایک دنیا آباد ہے، جن کے جوابات اسے ناممکن لگتے ہیں۔ وہ نہیں جانتی کہ وقت اور حالات اس کی زندگی کو کس موڑ پر لے آئیں گے۔ کہانی میں پاکستان میں خواجہ سراؤں کی زندگی، معاشرتی رویے، اور ان کے حقوق کا حساس انداز میں احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ دکھایا گیا ہے کہ انہیں کیسا جینا پڑتا ہے اور درحقیقت انہیں کیسا جینا چاہیے۔ یہ ایک تلاشِ شناخت، سماجی ناہمواری اور انسانیت سے جڑی داستان ہے۔

Kon Khawabon Ke Paar Rehta Hai Episode 1 by Afshan Afridi

آنکھ کو انتظار رہتا ہے
کون خوابوں کے پار رہتا ہے”
خوابوں کی وادی، خیالات کی سرزمین اور تخیلات کا جہان ہمیشہ ہی انسان کو اپنی سحر انگیز کشش سے گھیر لیتا ہے۔ سورج کی سنہری کرنوں کی مانند خواب بھی ایسے ہوتے ہیں جن پر کوئی پابندی عائد نہیں کر سکتا ۔ تمناؤں اور آرزوؤں کی تکمیل میں یہ خیالی جہان کبھی رہنمائی کا چراغ بن کر روشن ہوتا ہے اور کبھی مایوسی کی دھند اوڑھا دیتا ہے۔ اگر انسان ان خوابوں کو جستجو کا اشارہ سمجھے، تو ان کی تعبیر کے حصول کا سفر راہوں کو ہموار کر دیتا ہے اور منزل قریب تر ہو جاتی ہے۔
Kon Khawabon Ke Paar Rehta Hai is a Social Romantic Novel by Afshan Afridi Publishing in Pakeeza Digest.

Kor Novel by Laiba Noor

کور ایک ایسی کہانی ہے جو محض چار دیواری کے تصور سے آگے بڑھ کر
محبت، رشتوں اور اپنے پن کے احساس کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ ناول دکھاتا ہے
کہ اصل گھر اینٹ اور پتھروں سے نہیں بنتا بلکہ اعتماد، قربانی، اور جذبات
کی دیواروں سے تعمیر ہوتا ہے۔
اس میں کرداروں کی زندگیوں کے اتار چڑھاؤ، خوابوں کی تالش، اور ایک
محفوظ پناہ گاہ کے حصول کی جستجو کو پیش کیا گیا ہے۔ ہر کردار اپنے اپنے
دکھ اور امید کے ساتھ جڑا ہے، اور آخرکار سب کی کہانی ایک ہی مرکز پر
سمٹتی ہے ”گھر“ جہاں دل کو سکون ملے۔
جو صدمہ چیخ نہیں بنتا، وہ کہانی بن جاتا ہے۔۔۔۔۔
،اور جو کہانی صرف سنائی نہیں جاتی۔۔۔۔۔
وہ دل میں لکھی جاتی ہے
جیسے کور۔۔۔۔۔۔
ایک کہانی جینے کی اُمید لیے اپنا مسکن ڈھونڈتی ہوئی۔
ایک ایسا خواب جو گر کر بھی مکمل رہا۔

Kothe Ki Malika by Syeda Noor Ul Ain

اس کہانی “کوٹھے کی ملکہ” کا اہم مقصد معاشرے کو ہوش دلانا ہے، کہ اگر آپ نے ایک جگہ جیسے کے “کوٹھا” اسے گندہ کہہ دیا، تو کیا وہ واقعی گندہ ہوگیا؟
بلکہ نہیں! یہی وہ جگہ تھی جہاں “کبیر” اپنے گھر سے پریشان ذہنی سکون کے لئے آیا کرتا تھا۔
پھر دوسری بار بھی اس بیچاری کمزور “کنول” کو بھی اسہی کوٹھے کی چھت ملی، باہر کے درندوں سے خود کو بچانے کے لئے جو خود کو پاک صاف کہتے تھے۔
“شہزاد” کو تو یہی لگتا تھا کہ جیسے کبیر کسی بری راہ پر ہے،
پر سوال یہ ہے کہ کوٹھے میں ایسا کیا تھا؟
جو سب وہاں جانا پسند کرتے تھے۔
کبیر کے “پروفیسر” نے جتنی بہترین اسے سایکولجی پڑھائ کہ اسے پتہ چلا کہ ایسا ہمارا معاشرہ ہے۔
 دوسری طرف کنول کو اسکے گھر والوں نے اور زمانے والوں نے ایسے سبق پڑھائے کہ اسے پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی..
منفی کردار “باجی جی” نے تو جیسے ملکہ کا پیچھے اب تک نہ چھوڑا تھا۔
اب مزید کہانی کو تفصیل سے جاننے کے لئے پڑھیں ناول “کوٹھے کی ملکہ”…

1 237 238 239 503