Afsana

Gohr e Takhayyul

یہ کہانی ہے میری، آپ کی اور ہر افرحہ کی، ایک ذہین مصنفہ جو اپنے خیالات کے سمندر میں ڈوب رہی ہے۔ جب وہ اپنے ذہن میں کرداروں، پلاٹ کے موڑ اور مناظروں کا گچھا لئے لکھنے کا وقت تلاش کرتی ہے۔ لیکن جب وہ بالآخر لکھنے بیٹھتی ہے تو اس کے خیالات دھوئیں کی طرح غائب ہوجاتے ہیں۔اپنے ہی دماغ کی بھول بھلیوں میں وہ تخلیقی دباؤ کے چیلنجز کا سامنا کرتی ہے۔ کیا وہ اپنے خیالات کو پکڑ پاتی ہے یا وہ ہمیشہ کے لیے غائب ہوجاتے ہیں؟؟ جاننے کےلیے پڑھئے گوہرِ تخیل

Sirat e Mustaqeem

صراط مستقیم” کی” کہانی ایک ایسی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو اپنے ماضی میں ایک غلط راستے پر چل پڑتی ہے اور ایک حرام تعلق میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ گناہوں کی یہ زندگی اسے اندرونی خلاء اور بے چینی کا شکار کرتی ہے۔ لیکن پھر ایک لمحہ آتا ہے جب اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم سے بہت دور ہو چکی ہے۔ یہ احساس اس کے دل میں توبہ اور سچی تبدیلی کی راہ کھولتا ہے۔
اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر، وہ اللہ کی طرف رجوع کرتی ہے اور ایک نئے سفر کا آغاز کرتی ہے۔ اس کی دعا اور اللہ کی طرف لوٹنے کی کوششوں کے نتیجے میں اسے ایک نیک اور باوفا شخص سے شادی کا موقع ملتا ہے، جو اس کا ایمان مضبوط کرتا ہے اور اسے صراط مستقیم پر قائم رہنے میں مدد دیتا ہے۔

Tasawwur e Musawwir

کہتے ہیں کہ خود سے محبت کرنے کے لیے۔۔
انسان کا خوبصورت ہونا لازم ہوتا ہے۔
مگر انسان کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ۔۔
ہر انسان منفرد انداز میں خوبصورت ہوتا ہے۔
اور جان لو تم یہ بات کہ۔۔
خوبصورتی خوداعتمادی کا نام ہے۔
خوداعتمادی کے دو ہی اصول ہیں۔
یا تو تم خود کو جان کو
یا پھر اپنے خدا کو جان لو۔
خالق اور مخلوق کے درمیان
رشتہ صرف محبت کا ہے۔
جیسے کسی تصویر اور مصور کے درمیان
محبت کا تصور ہوتا ہے۔
تصویر کا حسن، مصور کے تصور کا حسن ہے
اور مخلوق کا حسن، خالق کی قدرت کا حسن ہے۔
کسی تصویر کی توہین دراصل مصور کی توہین ہے۔
اور کسی مخلوق کے حسن کی توہین، دراصل خالق کی قدرت کی توہین ہے۔
اگر تم خود سے کبھی محبت نہ کر سکے تو۔
تم حقیقی طور پر خدا سے محبت نہیں کر سکو گے۔

Lugz

یہ افسانہ ایک پراسرار قلمکار کی داستان ہے، جو ایک نازک بانو کی زندگی کے تاریک پہلوؤں کو قرطاس پر بکھیر رہا ہے۔ ایک ایسی لڑکی جس کے ساتھ ناگوار واقعہ پیش آیا، اور پھر اس نے انتقام کی راہ اپنائی۔ جب عدالتوں نے دولت کے آگے دروازے بند کر دیے، تو معاشرے کی بنیادیں ہل گئیں، اور معیشت کی دھڑکنیں سست پڑ گئیں۔ اس کہانی میں راز کی ایک ایسی پرت کھلتی ہے جو حقیقت اور فسانے کی حدود کو چھوتی ہے۔
1 13 14 15 26