Afsana

Gohr e Takhayyul

یہ کہانی ہے میری، آپ کی اور ہر افرحہ کی، ایک ذہین مصنفہ جو اپنے خیالات کے سمندر میں ڈوب رہی ہے۔ جب وہ اپنے ذہن میں کرداروں، پلاٹ کے موڑ اور مناظروں کا گچھا لئے لکھنے کا وقت تلاش کرتی ہے۔ لیکن جب وہ بالآخر لکھنے بیٹھتی ہے تو اس کے خیالات دھوئیں کی طرح غائب ہوجاتے ہیں۔اپنے ہی دماغ کی بھول بھلیوں میں وہ تخلیقی دباؤ کے چیلنجز کا سامنا کرتی ہے۔ کیا وہ اپنے خیالات کو پکڑ پاتی ہے یا وہ ہمیشہ کے لیے غائب ہوجاتے ہیں؟؟ جاننے کےلیے پڑھئے گوہرِ تخیل

Waqt Sarab Hai

وقت سراب ہے۔۔۔
کتنا مہربان۔۔۔ کتنا ظالم کوئی آج تک نہیں جان پایا۔ احد ایک لڑکا جو خوش ہے اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ۔۔۔ مگر پھر ایک دن احد کے ساتھ کیا ہوا۔
یہ وقت نے کیسی چال چلی۔۔۔ احد کا سب کچھ کہاں گیا۔۔۔ وقت نے کیا کیا؟
کئی سوال۔۔۔
مگر ایک ہی جواب۔۔۔ “کسے معلوم؟”

Aks e Rawa

“یہ کہانی ہے میشا مصطفی کے عمر فاروق کی یہ کہانی ہے عمر کے ایک پراسرار راز کی تلاش میں میشا کو انکے پرانے ویران فارم ہاؤس لے جانے کی ۔۔۔۔۔۔۔، جہاں وہ ایک دوسرے کو سمجھتے ہے ۔۔۔۔۔یہ  کہانی ہے پراسرار عجیب واقعات کی ۔۔۔۔۔یہ کہانی ہے سایہ دار فام ہاؤس کی۔۔۔۔۔ ۔ یہ کہانی ہے ایک  آدمی کے حسد میں کیے گئے کالے جادو کی۔ ۔۔۔۔۔ جو جادو ایک خوشحال خاندان کی بربادی کا باعث بنتا ہے۔۔۔۔ ، لیکن آخرکار بڑائی کا خاتمہ ہوتا ہے۔۔۔۔ اور خوشیاں دوبارہ واپس آتی ہیں۔ “

Ghehra Smandar

اللہ نے ہر انسان کو اُس کی سوچ سے زیادہ نوازا ہے۔ زندگی اک امتحان ہے، کسی کو دنیا میں بہت کچھ دے کر نوازا گیا ہے تو کسی سے لے کر۔ غرض یہ ہے کہ انسان اپنے اچھے اور برے وقت میں کتنا شکر ادا کرتا، کتنا صبر سے کام لیتا ہے۔ دنیا میں سب سے امیر انسان وہ ہے جس کے والدین حیات ہیں۔ سر پر والدین کا سایہ ہونا کسی نعمت اور خوشنصیبی سے کب نہیں۔

Harq e Palestine

حرقِ فلسطین عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے “جلتا ہوا فلسطین”
جل ہی تو رہا ہے میرا فلسطین
پچھلے نو مہینے سے یا پھر پچھلے پچھتر سالوں سے۔۔۔!!
ہزاروں لوگوں میں سے صرف ایک انسان کی کہانی
جسے اپنے قلم کے ذریعے الفاظ میں ڈھالنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کی ہے
فلسطینیوں کا حق ادا کرنا ہمارے بس میں تو نہیں لیکن اللّٰہ نے جس نعمت سے نوازا ہے اُسی سے شاملِ جہاد ہیں
صرف اس سوچ کے ساتھ کہ بروزِ حشر اللّٰہ کے حضور جواز پیش کرنے کے لئے میرے کاسے میں بھی کچھ ہو۔
1 12 13 14 26