کہتے ہیں زندگی میں یہ اہم ہے وہ اہم ہے۔لیکن اگر غور کریں تو صرف زندگی کا ہونا اور اُس میں ہمارا سیدھے راستے پر ہونا اہم ہے۔ منوں مٹی تلے سوئے ہزاروں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کی زندگی میں خواب تھے ، خواہشیں تھیں ، دنیا کی خوش نما آسائشیں تھیں اور وہ انھیں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے قبر کے اندھیرے میں جا پہنچے لیکن اب اگر اُنہیں اُٹھا کر پوچھا جائے تو وہ کہیں گے صرف زندگی اور بس زندگی۔ ایک موقعہ ، بس ایک آخری موقعہ ۔
مرنے والے کے سرہانے کھڑے ہوکر اس کے ادھورے رہ چکے خوابوں کے پورا ہوجانے کی دعا نہیں کی جاتی ، اس کی مغفرت کی دعا کی جاتی ہے۔
دور حاضر کے سنجیدہ اور نازک موضوع پر لکھی گئ سادہ سی تحریر حاشر معاذ کے گرد گھومتی ہے ۔ اپنی ہی ذات میں رہنے ، ڈیپریشن اور سٹریس سے حاشر اور اس کی فیملی کو کیا فیس کرنا پڑا جاننے کیلئے پڑھے راہ فرار
یہ افسانہ دل اور خواہش کے درمیان تنازع پر مبنی ہے. ہماری خواہشات ہمارے دل اور زندگی پر براہ راست اثر کرتی ہیں. اس افسانے میں ان خواہشات کا ذکر ہے جو ہماری ذہنی یا جسمانی نشوونما کی بجائے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کرتی ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ جب کوئی خواہش وبالِ جاں بن جائے تو اس سے دستبردار ہوجانا چاہیے. افسانے کا ایک اور پہلو بھی ہے جس میں انسان کو خواہش سے تشبیہ دی گئی ہے. انسان یعنی خواہشات کا پتلا اور اس میں بہتر سے بہتر چیز پالینے کی خواہش ہر لمحہ بڑھتی رہتی ہے اگر وہ خود اس پر قابو نہ پا لے.
جب ردا کا ایک مشہور اداکار کا بت بکھر جاتا ہے، تو اسے فینڈم کی تلخ حقیقتوں اور اندھی عقیدت کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اپنی عقلمند اور معاون بہن ریحام کی مدد سے، ردا خود کی دریافت اور معافی، سیکھنے کے سفر کا آغاز کرتی ہے۔ عاجزی اور کھلے ذہن کے ساتھ زندگی کی پیچیدگیوں کو حل کرنا سیکھتی ہے۔
حکومت سے مایوس کچھ دوستوں کی کہانی جو فلسطین میں جاری مظالم کے خلاف کچھ کرنا چاہتے ہیں اور پھر اپنے طریقے سے اسرائیلی پراڈکٹس کے خلاف بائیکاٹ مہم چلاتے ہیں
It is a story of some friends, disappointed with the government, who want to do something about the atrocities in Palestine, and then, in their own way, launch a boycott campaign against Israeli products.