افسانہ ہے ایسے لڑکے کا جو کوششوں کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔۔ کیا وہ قربانی جیسے موقع پر بھی اپنے پیاروں کا پیٹ بھر سکے گا؟ یاں دنیا کی ٹھوکریں ہی اسکا مقدر ہیں؟
یہ چھوٹی سی کہانی آپ کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دے گی۔ہمارے یہاں محبت کا مفہوم کیا ہے اور اصل حقیقی محبت کسے کہتے ہیں۔اسے پڑھنے کے بعد آپ کو واضح فرق سمجھ آئے گا۔
اس میں موجود کرداروں کے درمیان آپ کو فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے گا کہ کون زیادہ اچھا انسان ہے۔اور میں یہی چاہتی ہوں۔آپ کو کچھ دشواری پیش آئے تا کہ جب آپ فیصلہ کر لیں تو آپ جان جائیں کہ آپ محبت کے کس مقام پر ہیں۔
یہ افسانہ دو کرداروں کے درمیان نہیں گھومتا ۔ اس میں ایک کردار ہی مکمل ہے ۔ اکثر اوقات ایک کردار ہی کچھ سیکھانے کے لیے کافی ہوتا ہے ۔ ایک کردار کے سنگ ہی مکمل کہانیاں جنم لے جاتی ہیں ۔
یہ کہانی حقیقی کرداروں پر مبنی ہے اس میں موجود تمام کردار اس حقیقی دنیا میں موجود ہیں۔ میں اس کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتی آپ لوگ خود اسے پڑھیں اور پھر کوئی اندازہ لگائیں۔
انسان اپنے رب کے فیصلوں سے لاعلم ہے، وہ اس بات کا اندازہ کبھی نہیں لگا سکتا اور نہ ہی اپنے رب کے فیصلوں کو سمجھ سکتا ہے۔ خدا اپنے بندے کے ساتھ کبھی ناانصافی نہیں کرتا۔ انسان کو اُسی چیز سے نوازتا ہے جس کا وہ حقدار ہوتا ہے۔ انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے۔ اُس کی کی گئی نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ کسی نہ کسی موڑ پر اللہ نے اپنے بندے کے لیے رہنمائی کے دروازے کھولے رکھے ہوتے ہیں۔ بس ہمیں اُن تک خود پہنچنا ہوتا ہے۔ وسیلوں کے ذریعے اور سیکھے گئے سبق کے ذریعے۔
یہ کہانی ہے ایسی بیماری کے بارے میں جو ہمارے دلوں کو بیمار کردیتی ہے بظاہر تو ہمیں لگتا ہے میوزک ہی تو ہے لیکن یہ ہمارے دل میں نفاق کا بیج بو دیتی ہے اور نفاق ایمان کے منافی ہے نفاق ہمارے ایمان کو تباہ کردینے کی صلاحیت رکھتا ہے اس لئے میوزک سننا حرام ہے کیونکہ یہ ایمان کے خاتمے کا سبب بنتا ہے یہ کہانی ہے ایسے شخص کی جو میوزک چھوڑ دیتا ہے اللہ تعالیٰ کی خاطر وہ ایک خواب اس کی زندگی بدل دیتا ہے