Afsanay

Dastak

Afsana Dastak written by Badar ul Rija

 تیز تیز چلتے اس کے ہاتھ دستک کی آواز پر ایک دم رکے تھے پیشانی پر نمایاں لکیریں جو یقینا کام کی کرنے کے باعث تھیں ان میں کچھ مزید اضافہ ہوا تھا۔ چھری کو وہیں پر چھوڑتی وہ کیچن سے نکلی اور باہر کا دروازہ احتیاط سے کھولا مگر جھری سے جھانکتے ہی اشتعال کی ایک شدید لہر نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بے اختیار ہی دروازہ پورا کھول کر اس نے باہر موجود بزرگ کے ہاتھ کو دروازے سے جھٹک دیا اور اس سے پہلے کے بزرگ کچھ سنبھلتے وہ اونچی آواز میں بولنے لگی۔

“کیا بابے تجھے میرے گھر کے علاوہ کسی اور کا گھر نظر نہیں آتا روز منہ اٹھا کر آجاتا ہے مانگنے کہہ دیا ہے تجھے کہ نہیں ہے میرے پاس اتنا پیسہ کہ تجھ جیسے لولے لنگڑے کو بھی پالنا شروع کر دوں تیرے جیسے نشئی کو میں کیا دے سکتی ہوں تم لوگوں کو کوئی جتنا دے اڑا ہی دو گے آج کے بعد میرے دروازے پر دستک نہ دئیں، اتنا فالتو وقت نہیں ہے کہ روز منہ ماری کروں تیرے ساتھ اب نکل یہاں سے کہیں اور جا کر یہ ڈھونگ رچا۔”
اس نے اسی اشتعال میں دروازے کو زوردار آواز سے بند کر دیا۔

وہ بزرگ اب زمین سے اٹھ رہا تھا ہرے رنگ کے لمبے چولے میں ملبوس سفید لمبی میلی داڑھی، سر پر موجود ہرے رنگ کے بندھے کپڑے اور ہاتھ میں موجود لاٹھی سے ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ بزرگ کی عمر اچھی خاصی ہے ترحم آمیز نگاہوں کا حقدار وہ بوڑھا اس وقت سب کی ہتک آمیز نگاہوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ بوڑھا اب دھیرے دھیرے قدم اس گھر سے آگے بڑھا رہا تھا آنکھوں کے تقریبا بند ہوئے پیوٹوں میں دیکھنے والے کو آنسو صاف دکھائی دے سکتے تھے مگر کیا تھا کوئی وہاں جسے اتنا وقت ہوتا کہ اور کچھ نہ صحیح اس بوڑھے ملنگ کو ایک ترحم بھری نظر سے نواز دیتا۔ ایک آخری پرملال نظر اس گھر کے دروازے پر ڈالتے ہوئے بوڑھا اس گلی سے مڑ گیا بڈھے کے لڑکھڑاتے مگر پختہ قدم اس بات کی نشاندہی کرنے کے لیے کافی تھے کہ اس ذلت کے بعد شاید ہی وہ کبھی دوبارہ اس گلی میں قدم دھرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پھر آیا تھا وہ بڈھا میں نے بری طرح جھڑک” کر نکال دیا بھلا یہ کوئی بات ہے روز کا تماشہ بنا رکھا ہے ان لوگوں نے تو۔” وہ اب اپنے شوہر کے سامنے اس بڈھے پر بھڑاس نکال رہی تھی مگر جب اس نے دیکھا کہ وہ اس کی جانب متوجہ نہیں ہے اور سکون سے کھانا کھانے میں مگن ہے تو پیر پٹختی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔
کون کہہ سکتا ہے کہ تم ایم اے ہو؟” وہ چائے” ٹیبل پر رکھتے ہوئے ابھی بستر پر بیٹھی ہی تھی جب اسے اپنے شوہر کی آواز سنائی دی وہ بظاہر ٹی وی سکرین کی جانب متوجہ تھا۔
مطلب؟ “وہ نا سمجھی سے پوچھنے لگی۔ ”
“مطلب یہ کہ کیا فائدہ ہے تمہاری اس ڈگری کا جب تمہارے لہجے تمہارے انداز سے اس پڑھائی کی ذرہ سی جھلک بھی ظاہر نہیں ہوتی۔” وہ بڑے کاٹ دار انداز میں اس سے سوال کر رہا تھا اور وہ کچھ دیر کے لیے ہی صحیح گنگ ضرور ہوئے تھی۔
تو کیا سارا ان نشئ بڈھوں پر اڑا دوں تم اس” لیے محنت کرتے ہو؟” اس کے لہجے میں اب بھی اتنی ہی ہتک تھی۔
کیا ہو گیا ہے تمہیں کہاں ہے تمہاری وہ عقل” جس کو تم نے اتنی پڑھائی میں زائع کیا تھا کیا تم نہیں جانتی کے گھر آئے سائل کو خالی ہاتھ لوٹانا اچھا نہیں نبی پاک صلی اللہ الیہ وسلم  نے کبھی اپنے گھر آئے کسی سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا اور اگر نہیں ہے تمہارے پاس اتنا کسی کی مدد نہیں کر سکتیں تم تو کم از کم سلوک وہ واحد چیز ہے جس میں تمہارا ایک دھیلہ بھی نہیں لگے گا اس تعلیم کا کیا فائدہ جس نے تمہیں بات کرنے کی تمیز تک نہیں سکھائی؟” وہ بولنے پر آیا تھا تو سارے لحاظ بلائے تاک رکھتے ہوئے بول اٹھا تھا کیونکہ وہ اس کی بدتہزیبی سے تنگ آ چکا تھا وہ بولتی تھی تو اپنے الفاظ سے سامنے والے کو زخمی کر دیتی تھی۔ وہ نادم نظر آنے لگی شاید واقعی وہ تھی بھی بحرحال وہ اسے جان سکا تھا اور نہ آگے اسے یہ امید تھی۔
“سوری میں ان سے معافی مانگ لوں گی اب جب وہ آئیں گے اور پیسے بھی دے دوں گی۔” وہ سر جھکائے ہی بولی تھی شاید وہ اپنی حقیقت اس آئینے میں دیکھ چکی تھی جو اسے ابھی اس کے شوہر نے دکھایا تھا۔
“میرا نہیں خیال وہ بابا جی اب اس گلی میں کبھی آئیں گے۔” اس نے کہتے ہوئے کپ جس میں موجود چائے وہ پی چکا تھا سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بتی بجھا دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کچھ دن بعد کی بات تھی وہ اپنی ایک دوست کے ساتھ خریداری کرنے بازار میں موجود تھی۔ اس کے شوہر کی بات سچ ثابت ہوئی تھی وہ بوڑھا ملنگ پھر دوبارہ سدا دیتے ہوئے اس گلی میں نہ آیا تھا۔
ابھی وہ اور اسکی سہیلی بازار سے نکلی ہی تھیں کہ ہرے رنگ کے چولے میں موجود وہی بڈھا ان دونوں سے مدد کی درخواست کر رہا تھا اسکی دوست نے اپنے پرس سے بیس کا نوٹ بڈھے کو پکڑا دیا وہ ہاتھ میں موجود نوٹ کو دیکھتی اسی بڈھے کو پکڑانا چاہتی تھی مگر وہ خاموشی سے آگے جا چکا تھا اس نے آواز دی تو وہ رک گیا وہ آگے بڑھی اور اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتی بڈھا بول اٹھا۔
“دھیے(بیٹی) جو گھر دروازے دستک دیتی نیکی کو قبول نہ کرے تو سر راہ بھی اسے نیکی کمانے کا کوئی حق نہیں جا چلی جا رکھ یہ پیسے مجھے نہیں چاہیے میرا اللہ ابھی اتنا بے خبر نہیں کے مجھ لنگڑے کو تیرے جیسوں کا محتاج کر دے۔” بڈھا کہتا اپنی راہ پکڑ چکا تھا اور وہ سن اپنی جگہ پر کھڑی اس کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

……….
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button

Adblock Detected

Please disable it to continue using this website.