Afsanay

Munfarid Husan

Afsana

مصر کے شہر تھیبس میں ایک باوقار بادشاہ حکومت کر رہا تھا۔ جو نا صرف بہادری بلکہ بے انتہا حسن کا مالک تھا۔ اسکی تین بیٹیاں تھیں۔ آخری بیٹی أیرینا (erina) کے علاؤہ اس بادشاہ کی دونوں بیٹیاں حسن اور خوبصورت رنگت کی مالک تھیں۔
سانولی رنگت کی وجہ سے أیرینا کو بہت عجیب روئیوں کا سامنہ کرنا پڑتا۔ جو عزت اور وقار اس کی بہنوں کی شخصیت میں تھا وہ اس کی شخصیت میں نہ تھا اور اس کمی کی وجہ اسکی سانولی رنگت نہیں بلکہ وہ احساس کمتری تھا جو وہ اپنی رنگت کی وجہ سے محسوس کرتی تھی۔ احساس کمتری اسے کبھی آگے بڑھنے نہ دیتا۔ اس کی دوستیں اکثر یوں ہی اسکی رنگت کو زیر بحث بنا لیتیں جس کے تحت أیرینا کا دل بہت دکھتا۔ کبھی کبھار لوگوں کے روئیوں سے تنگ آ کر اسکا دل چاہتا کہ یہ زندگی چھوڑ کر کہیں دور بھاگ جائے۔ وہ زندگی سے بھرپور لڑکی تھی جس کی زندگی میں صرف حسن کی کمی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ بدصورت تھی بلکہ وہ خوبصورت نقوش کی سانولی رنگت والی شہزادی تھی۔ لیکن اسکا اپنے آپ کا دوسروں سے موازنہ کرنا اسے کمتر کر جاتا تھا۔
مخملی نیلے رنگ کے گھیرے دار گاؤن زیب تن کیے ادھ کھلے کالے گھنے بالوں کو کرلز دئیے کمر پر پھیلایا ہوا تھا۔ پاؤں میں پہنی سینڈلز پر نظریں جمائے وہ کندھے سے لٹکتی ریشمی آسمانی رنگ کی چادر کو دونوں ہاتھوں سے تھامے ندی کے کنارے چلتی ہوئی کوئی اداس بھٹکا ہوا بادل لگ رہی تھی۔ راستے میں آئے چھوٹے سے پتھر کو اس نے اپنے سینڈل سے ٹھوکر ماری تو وہ دور جا گرا۔
“آہ!” کسی کے کراہنے کی آواز پر شہزادی ایرینا چونکی تھی۔ اسے غصہ آیا کون تھا جو یہاں اسکی تنہائی میں مخل ڈالنے کو موجود تھا۔ جبکہ وہ پہرے داروں سے کہہ کر بھی آئی تھی کہ اس وقت وہ اکیلا رہنا چاہتی ہے۔ محل کے اس قریبی باغ میں شاہی خاندان والوں کے علاؤہ کسی کا بھی آنا منع تھا۔ چند قدم آگے جانے پر اسے ایک چولا اوڑھے لمبی سفید داڑھی والا بوڑھا شخص نظر آئے تو اسے افسوس ہوا اپنے پتھر کو لاپرواہی سے مارنے پر۔
“بابا جی! آپ ٹھیک تو ہیں؟” زرا سا جھک کر اس نے زمین پر بیٹھے بابا جی سے ہمدردی سے دریافت کیا۔
بابا جی نے چونک کر نظریں اٹھائیں تو کچھ لمحے اسے دیکھتے رہے اور پھر خاموشی سے نظریں جھکا گئے۔
” ہم شہزادی ایرینا ہیں۔ یقیناً آپ ہمارے نام سے واقف ہوں گے؟” بابا جی کی خاموشی پر وہ پرجوش ہو کر بولی تو سامنے پھر سے خاموشی کو پا کر چڑی۔ بابا جی سر جھکائے بیٹھے رہے۔
“یہ شاہی باغ ہے۔ یہاں عام عوام سے کوئی نہیں آ سکتا۔” اس بار وہ گردن اکڑا کر بولی تو سامنے پھر سے خاموش کو پایا۔
“ویسے آپ یہاں کیسے آئے؟” شہزادی ایرینا کے تیوری چڑھا کر کیے جانے والے سوال پر بابا جی نے ایک بار نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر نظریں جھکا لیں۔
“لگتا ہے بہرے ہیں۔” افسوس سے بابا جی کو دیکھتے ہوئے وہ بولی۔
“لیکن یہ یہاں آئے کیسے؟ ” درخت کے تنے سے ٹیک لگاتے ہوئے وہ پرسوچ نظروں سے بابا جی کو دیکھ رہی تھی۔
“پہرے داروں کی لاپرواہی تو دیکھو، کوئی بھی آ جاتا ہے۔ ” سوچتے ہوئے وہ بابا جی کے قریب آکر اکڑوں بیٹھ گئی اور بغیر نظریں جھپکائے اسے دیکھنے لگ گئی۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بابا جی نے اسے غصے سے دیکھا۔ شاید انہیں ایرینا کا مسلسل تکنا پسند نہیں آیا تھا۔ بابا جی کے گھور کر دیکھنے پر وہ ہنسی تھی۔
“میں سوچ رہی تھی کہ آپ اور میں کتنے مختلف ہیں نا؟” بابا جی کی گھوری کی پرواہ کیے بغیر وہ بولی۔
“ہم میں بہت فرق ہے۔ آپ بوڑھے ہیں… میں جوان ہوں۔ آپ غریب عام آدمی ہیں…میں تھیبس کی شہزادی ہوں۔ آپ بوڑھے لاغر آدمی ہیں… اور میں ایک عورت۔ لیکن دو چیزیں ہماری ایک جیسی ہیں۔ جانتے ہیں کیا؟” گہری سوچ کے زیرِ اثر بولتے ہوئے آخر میں اس نے سوال کیا۔ سامنے پھر کوئی ردعمل نہیں تھا۔
“ہم دونوں انسان ہیں…” کہہ کر وہ ہنسی تھی خوب۔ بابا جی نے ناپسندیدگی سے اسے دیکھا۔
“اور ہم دونوں بدصورت ہیں۔ ” اب اسکی ہنسی کو بریک لگا تھا۔ اس دفعہ بابا جی نے اسکی جانب چونک کر دیکھا انکی نظروں میں تحئیر تھا لیکن شہزادی أئیرینا متوجہ نہ تھی۔
“میں اپنا زیادہ وقت یہیں اسی باغ میں اس ندی کے قریب گزارتی ہوں کیونکہ یہاں کوئی مجھ پر ہنستا نہیں ہے۔ … لیکن یہ سب بھی مجھے اپنے محسوس نہیں ہوتے کیونکہ یہ سب خوبصورت ہیں لوگ انکی تعریف کرتے ہیں یہ مجھے نہیں سمجھ سکتے۔ لیکن آج لگتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی اور بھی ہے میرے جیسا۔ ” وہ خود کو تکتے بابا جی کی جانب دیکھ کر بولتے ہوئے آخر میں مسکرائی تھی۔ بابا جی اپنا چولہ لیے اٹھ گئے تو ائیرینا نے حیرت سے انکی جانب دیکھا۔ مطلب اسکی اتنی دکھی بات پر ایسے ہی اٹھ گئے؟
“مجھے پتہ ہے آپ بہرے نہیں ہیں بس بن رہے ہیں۔” ائیرنا پیچھے سے بولی۔ تو وہ پلٹے۔
“ہم میں بس ایک چیز یکساں ہے۔ اور وہ یہ کہ ہم انسان ہیں۔ بس۔ ” پلٹ کر ایرینا کی جانب دیکھ کر وہ دھیمی لیکن مظبوط آواز میں بولے۔
“مطلب؟” ائیرینا نے اٹھتے ہوئے سوال کیا۔
“مطلب یہ کہ میں بہت خوبصورت اور عقلمند ہوں۔ ” کہہ کر وہ رکے نہیں بلکہ آگے بڑھ گئے اور ائیرینا خاموشی سے انکی پشت کو آگے بڑھتا دیکھتی رہی۔
بادشاہ کی بڑی بیٹی کی شادی کی تقریب پر بہت سے شاہی خاندان اکٹھے ہوئے تھے۔ جن میں سے بہت سے لوگ پہلی بار أیرینا سے مل رہے تھے۔ ان سب کے أیرینا کے تعارف پر حیرت ظاہر کرتے ہوئے یہ سرگوشی کرنا کہ شاید ملکہ سانولی ہوگی جبکہ بادشاہ تو بہت خوبصورت ہیں، أیرینا کا دل توڑ گیا۔ ملکہ بھی بہت خوبصورت تھی جو کہ آیرینا کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد ہی دوسری دنیا کی طرف روانہ ہو گئیں۔
أیرینا خاموشی سے نم آنکھوں سے محفل سے نکل گئی۔
“کاش میں اس دولت، جسکی میں شہزادی ہوں کہیں سے حسن خرید سکوں۔” اس نے محل کی دہلیز پار کرتے ہوئے خواہش کی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ خواہش بےکار ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں، پر پھر بھی اس نے یہ خواہش کی۔
وہ چلتے چلتے محل سے بہت دور نکل آئی تھی۔
چاروں طرف دور دور خاموش صحرا پھیلا ہوا تھا اسے رات کے اس وقت خاموش صحرا سے خوف آیا۔ اسنے واپس پلٹنے کا سوچا لیکن وہ راستہ بھٹک چکی تھی۔ اس صحرا میں جہاں سب بالکل ایک جیسا دکھ رہا تھا، وہ نہیں سمجھ پا رہی تھی وہ کس طرف سے آئی ہے۔ اس نے خوف سے ادھر ادھر بھاگنا شروع کر دیا مگر جس طرف بھی بھاگتی ہر طرف صحرا ہی ہوتا وہ بہت گھبرا گئی اور وہیں بیٹھ کر رونے لگ گئی۔ وہ بہت دیر سے گھٹنوں میں سر دئیے رو رہی تھی کہ اسے اپنے قریب آہٹ محسوس ہوئی، سر اٹھانے پر دیکھا ایک خوبصورت پری اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ وہ چوںکی اور گھبرا گئی۔
“کون ہو تم؟” وہ پیچھے کی طرف لپکی۔
“أیرینا ڈرو نہیں میں تمہاری دوست ہوں۔” اس پری نے مسکراتے ہوئے تحمل سے کہا۔
” میری دوست ؟ ” أیرینا حیران تھی۔
“ہاں! میں کب سے تمہیں دیکھ رہی ہوں تم رو رہی ہو۔ کیا تم بتاؤ گی کہ کیوں رو رہی ہو؟”
“میں اپنا گھر چھوڑ آئی ہوں اور اب اکیلی ہو گئی ہوں۔ گھر کا راستہ بھی بھول گئی ہوں۔”
“گھر کیوں چھوڑ کر آئی ہو؟”
“آپ میرا نام کیسے جانتی ہیں؟” أیرینا نے جواب دینے کے بجائے نیا سوال رکھا۔
“پہلے میرے سوال کا جواب دو۔ ” پری نے مسکرا کر کہا۔
“گھر اس لیے چھوڑ آئی کیونکہ میں خوبصورت نہیں ہوں۔ میں بھی خوبصورت بننا چاہتی ہوں۔ میں بھی چاہتی ہوں کہ میں جب گلابی رنگ پہنوں تو خوبصورت نظر آؤں پر ایسا نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ شاید میں اپنے بابا کی اصلی بیٹی نہیں ہوں۔” أیرینا نے نم آنکھوں سے اپنی کہانی بیان کی۔
“آہ…! انسان بھی اسی چیز کی خواہش رکھتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی۔” پری نے سرد آہ بھر کر کہا۔
“لیکن وہ خواہشات ہمیشہ ادھوری رہ جاتی ہیں۔” أیرینا نے دکھ سے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
“کیسا ہو گا اگر میں تمہاری یہ خواہش پوری کر دوں اور تمہیں حسن دے دوں؟ ” اسکی پیشکش پر أیرینا حیران ہوئی۔
” یہ ممکن نہیں۔” أیرینا نے اپنی حیرت کو پسمنظر پر ڈالتے ہوئے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔ پری مسکرائی۔
اس نے اپنے دائیں ہاتھ کو گھمایا۔ ایک دم سے اسکے خالی ہاتھ میں خوبصورت آئینہ آگیا۔ أیرینا چوںکی۔
اس نے وہ آئینہ آیرینا کے سامنے کیا جس میں آیرینا کو اپنی جگہ ایک حسین لڑکی کا خوش رنگ چہرہ دکھا۔ اسکا حیرت سے منہ کھل گیا۔ آئینہ میں أیرینا ہی تھی مگر نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت۔
“میں پری ہوں۔ میرے لیے یہ ممکن ہے۔ مگر اس حسن کے بدلے تمہیں بھی مجھے کچھ دینا ہو گیا۔” پری نے ہاتھ گھما کر آئینہ کو پھر سے غائب کرتے ہوئے کہا۔
“کیا چاہیے تمہیں؟ میں کچھ بھی دے سکتی ہوں۔ تم جتنی کہو میں اس سے زیادہ دولت دے سکتی ہوں۔” پری اسکی بات پر قہقہ لگا کر ہنسی۔
“ان فانی چیزوں کے پیچھے تم انسان بھاگتے ہو، ہم نہیں۔” پری نے کہا۔
“پھر تمہیں مجھ سے ایسا کیا چاہیے؟ اس کے علاؤہ میرے پاس اور کچھ نہیں ہے۔” أیرینا ناراضگی سے بولی اسے پری کا انداز اچھا نہ لگا۔
“مجھے حسن کے بدلے حسن چاہیے۔” پری مسکرا کر بولی۔
“مطلب؟” أیرینا اسکی بات نہ سمجھ سکی۔
” مجھے وہ چاہیے جو میرے پاس نہیں ہے، لیکن تمہارے پاس ہے۔ میں تمہیں اپنے حسن کا کچھ حصہ دوں گی لیکن بدلے میں تم مجھے اپنے دل کا حسن دو گی۔”
“کیا؟ کیسے اور تمہیں کیوں چاہیے؟”
” کسی خوبصورت دل والی لڑکی سے اسکے دل کا حسن حاصل کر کے میں اس حد تک طاقتور ہو سکتی ہوں کہ اپنے قبیلے پر راج کرسکوں۔ اور مجھ سے حسن لے کر تم مصر کی سب سے خوبصورت شہزادی بن سکتی ہو۔ “
أیرینا کچھ دیر سوچنے کے بعد راضی ہو گئی۔ یہ فیصلہ اسکے لیے مشکل تھا لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ موقع دوبارہ نہیں ملے گا، اسی وجہ سے وہ یہ گالڈن چانس ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“مجھے منظور ہے۔” اس نے تھوڑا ہچکچا کر کہا۔
اور پری کے کچھ پڑھ کر ہوا میں ہاتھ لہرانے سے ایک دم روشنی ہوئی۔ جس سے اسکی آنکھیں چندھیا گئیں اس نے فوراً آنکھوں پر ہاتھ رکھا۔ اور ہاتھ ہٹانے پر سب بدل چکا تھا وہ ایک خوبصورت شہزادی میں بدل چکی تھی، اور اپنے کمرے کے آئینے کے سامنے موجود تھی۔ وہ خاموش صحرا اور پری سب غائب تھا۔
اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا سورج طلوع ہو چکا تھا۔ اس نے اپنی نظریں آئینے کی جانب کی۔ وہ بدل چکی تھی۔
اسکا حسن اس کی سوچ سے زیادہ تھا۔ وہ خوبصورت دکھ رہی تھی بہت، لیکن اسے خوشی محسوس نہیں ہوئی کیوں؟ وہ نہیں جانتی تھی۔
“شہزادی أیرینا! سلطان اعظم نے سب کو اپنے دربار پر اکٹھے ہونے کی دعوت دی ہے۔” ایک ملازمہ نے اندر آ کر سر جھکا کر اس تک پیغام پہنچایا۔ اسے لگا کہ وہ اسے بدلہ ہوا دیکھ کر حیران ہوگی۔ پر ایسا نہ تھا۔
أیرینا اس ملازمہ کے ساتھ دربار کی جانب چل دی۔ جہاں اسکا شاندار استقبال کیا گیا۔ وہاں اس کے بہنیں بھی موجود تھیں وہ جو اسے دیکھ کر ہمیشہ مسکراتی تھیں آج اسے دیکھ کر منہ پھیر لیا۔ أیرینا کو حیرت ہوئی لیکن وہ بادشاہ کے ہاتھ کا بوسہ لے کر خاموشی سے اپنی نشست پر براجمان ہو گئی۔ اسے حیرت تھی کہ سب اسے دیکھ کر حیران کیوں نہ ہوئے۔ اور اسکی بہنوں نے منہ کیوں موڑ لیا۔
سب درباریوں کے اکٹھا ہونے کے بعد بادشاہ نے اپنی بات کا آغاز کیا۔
” میری اس محفل میں تشریف رکھنے کا بہت شکریہ۔ جیسا کہ آپ سب یہ بات جانتے ہیں کہ شہزادی أیرینا پورے مصر کی سب سے خوبصورت شہزادی ہیں، اور سب ان سے ملنا اور بات کرنا پسند کرتے ہیں اور وہ ہماری طرح حکومت کرنا بھی جانتی ہیں تو ہمارے بعد ہماری ریاست شہزادی أیرینا کے حوالے ہوگی۔ آپ سب کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟” انکی بات پر تقریباً سب درباری بدمزہ ہوئے۔
“سلطان اعظم! آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ لیکن معاف کیجئے گا، شہزادی أیرینا اس نشست کے لیے بہتر نہیں ہیں۔ ان کے پاس صرف حسن ہے دل نہیں۔ اس سلطنت کو آپ کی طرح کسی نرم دل والے کی ضرورت ہے شہزادی أیرینا کی نہیں، جو کسی کا درد دکھ نہیں سمجھ سکتی۔” کسی درباری نے اٹھ کر مطالبہ کیا۔ باقی درباری بھی اس سے متعفق تھے۔ أیرینا کو جھٹکا لگا۔
بادشاہ خاموش ہوا۔
“ٹھیک ہے، میں اس بات پر سوچوں گا اور اس فیصلے کو اگلی بار پر ملتوی کر دیا جاتا ہے۔”بادشاہ کو بھی انکا مطالبہ غلط نہ لگا۔ یہ سچ تھا کہ أیرینا کی خوبصورتی کا ہر جگہ چرچہ رہتا مگر وہ ان شہزادیوں میں سے تھیں جن کے پاس دل نہیں ہوتا۔ جو کسی کے بارے میں نہیں سوچتیں۔ درباری واپس لوٹ گئے۔ أیرینا بھی واپس چلی گئی۔ آج اس نے وہاں موجود درباریوں کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت محسوس کی تھی۔ ان کے شہر والے ہمیشہ سے ہی أیرینا کو پسند کرتے تھے اس کے نرم اور خوبصورت دل کی وجہ سے۔ پر آج سب اسے ناپسند کرتے تھے۔ وہ کچھ لوگ جو اسکی رنگت کا مزاق اڑاتے تھے وہ آج بھی اس سے ناخوش تھے۔ جو لوگ پہلے اسے پسند کرتے اور جو ناپسند کرتے تھے وہ سب ہی اب أیرینا سے نفرت کرتے تھے کیونکہ أیرینا اپنے دل کی خوبصورتی کا سودا کر چکی تھی اب اسکا دل پہلے کی طرح نہ خوبصورت تھا اور نہ ہی دوسروں کی مدد کے لیے پیش پیش رہتا تھا۔ اسکی سب سے بڑی خواہش پوری ہو گئی پر وہ اکیلی ہو گئی۔ لوگ اسکی خوبصورتی کو دور سے دیکھ کر سراہتے لیکن اسے پسند نہ کرتے۔ أیرینا کی بہنیں اس کو دیکھتے ہی راستہ بدل لیتیں۔
 اسے اب احساس ہوا کہ وہ کتنا گھاٹے کا سودا کر چکی ہے۔ اپنی خواہش کے پیچھے اور لوگوں کو خوش کرنے کی خاطر اپنا آپ کھو بیٹھی ہے۔ اسکے آنسو بھی اب اسکے نہ تھے۔ اسکا دل سخت ہو گیا تھا وہ روتا نہیں تھا نہ ہنستا تھا، بس تنہا رہتا تھا۔
وہ ندی کے کنارے خاموش بیٹھی تھی جب وہ ہی بابا جی اس کے ساتھ آکر بیٹھ گئے۔ أیرینا نے سر اٹھا کر ایک نظر ان پر ڈالی اور دوبارہ نظریں پانی کی جانب متوجہ کر لیں۔
“بہت عرصے بعد آئی ہو یہاں۔ میں پچھلے کئی مہینوں سے اس باغ میں تمہارا انتظار کرتا ہوں۔ ” بابا جی بولے تھے۔
“کہاں سے داخل ہوتے ہیں آپ شاہی باغ میں کہ کسی پہرے دار کو آپکے ہونے کی خبر نہیں۔ اور آپ یہاں صرف تب آتے ہیں جب میں ہوتی ہوں بس!” أیرینا کی بات پر وہ مسکرائے پر بولے کچھ نہیں۔
” آج ہم میں کیا یکساں ہے؟” أیرینا نے سوال کیا۔
“صرف یہی کہ ہم دونوں انسان ہیں۔”
“نہیں آپ نے پچھلی بار کہا تھا کہ آپ خوبصورت ہیں تو آج میں بتانے آئی ہوں کہ میں بھی اب خوبصورت ہوں۔” أئیرینا کی بات پر بابا جی ہنسے۔
“اس تالاب کے پانی میں اپنا عکس دیکھو اور بتاؤ کیا واقعی تم خوبصورت ہو؟” أئیرینا نے پانی میں اپنا چہرہ پانی میں دیکھا تو اسے خوفناک محسوس ہوا اور وہ ڈر کر پیچھے ہو گئی۔
“یاد ہے ان پچھلے کچھ مہینوں میں تم نے کتنے غریبوں کو نقصان پہنچایا ہے؟ انکی بےبسی کا مزاق اڑایا ہے۔” أیرینا نے آگے ہو کر ایک نظر پھر اپنا پانی میں عکس دیکھا اس بار اسکا خوبصورت چہرہ ہی واضح تھا۔
 “شہزادی أیرینا نے گھاٹے کا سودا کیا ہے اپنی کل دولت دے کر لوہا خریدہ ہے اور وہ بھی زنگ آلود۔” وہ بابا کہتا اٹھ گیا اور واپسی کے لیے چل پڑا۔ شہزادی أئیرینا وہیں بیٹھی رہ گئی اسکا دل خالی تھا وہ کچھ محسوس نہیں کر پارہی تھی سوائے اس کے کہ اس نے اپنی خوشی کھو دی۔ سورج ڈھلنے تک وہ وہیں بیٹھی رہی۔
وہ اس وقت محل کی چھت پر موجود تھی۔ اپنی پوری زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ اس کی زندگی میں بہت خوشیاں تھیں سوائے خوبصورت رنگت کے۔ بس کچھ لوگوں کے عجیب روئیے تھے جنہیں اس نے اس قدر سر پر سوار کر لیا کہ اسکی اپنی ذات گم ہو گئی۔ پر تب اسکی زندگی میں بہت سے مخلص لوگ تھے جو بغیر کسی غرض کے اسکے بارے میں سوچتے تھے۔ أیرینا نے انہیں کھو دیا تھا۔
وہ چھت کی منڈیر پر کھڑی تھی۔ ناجانے دل میں کیا آئی اور وہ کود گئی۔
شہزادی أیرینا اپنی خواہشات کی تکمیل پا کر زندگی ہار گئی۔
ایک چیخ کے ساتھ اسکی آنکھ کھل گئی۔ وہ اپنے بیڈ پر موجود تھی۔ وہ بیڈ سے اٹھ کر شیشے کی طرف بھاگی۔ کچھ نہیں بدلہ تھا۔ وہ پہلے والی ہی أیرینا تھی معمولی شکل کی خوبصورت دل والی۔ وہ ایک دم خوشی سے چینخی۔ اس کی ملازمہ اس کی چیخ سن کر بھاگی آئی۔
“شہزادی أیرینا آپ ٹھیک ہیں؟” اس نے فوراً پوچھا۔ أیرینا اسکا ہاتھ تھام کر خوشی سے کھلکھلاتے ہوئے گھومی ساتھ اسے بھی گھمایا۔ وہ پریشان ہو گئی۔
“دیکھو میں اچھی لگ رہی ہوں نا۔” اس نے رک کر فوراً اس ملازمہ سے پوچھا۔
ملازمہ تھوڑا سا ہچکچانے کے بعد بولی۔
“آپ ہنستے ہوئے بہت پیاری لگتی ہیں۔” اس نے صاف گوئی سے کہا۔
أیرینا کھلکھلائی۔ وہ خوش تھی بہت خوش۔
” سنو اگر تمہیں کوئی کہے نا کہ تم خوبصورت نہیں ہو تو تم ان کی خاطر خوبصورت ہونے کی خواہش نہ رکھنا۔ تم ظاہری خوشی کے پیچھے بھاگ کر اپنے دل کی خوبصورتی کی بے قدری نہ کرنا۔” وہ ملازمہ اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
“میں نے سیکھا ہے کہ ہمیں اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی بےقدری کر کے ان چیزوں کی خواہش نہیں کرنی چاہیے جو اللہ نے ہمارے لیے چنی ہی نہیں۔
میں نے سیکھا ہے کہ میں یوں ہی سب سے خوبصورت ہوں جیسا اللہ نے مجھے بنایا ہے۔
میرا خوبصورت دل سب سے بڑی نعمت ہے جس کی مجھے قدر کرنی ہے۔
میں نے سیکھا ہے کہ مخلص ساتھی خوبصورت دل والوں کو ملتے ہیں خوبصورت شکلوں کو نہیں۔” وہ مگن مسکراتے ہوئے بولتی چلی جا رہی تھی۔
ملازمہ اسے دیکھ کر مسکرائی وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ شہزادی أیرینا ایسا کیوں کہہ رہی ہیں لیکن اسے شہزادی أیرینا مسکراتی ہوئی سب سے خوبصورت لگی، سب سے منفرد۔
شہزادی أیرینا منفرد حسن کی مالک تھیں۔ اسکے دل نے یہ بات تسلیم کی۔
جو حسن صرف وہ لوگ دیکھ پاتے تھے جو اس کے دل سے واقف ہوتے۔
وہ چیز جو آپ کو نہیں عطا کی گئی اس کی خاطر عطا کی گئی نعمت کی بے قدری نہ کرو۔ اللہ جانتا ہے کہ آپ کو کس چیز کی ضرورت تھی۔ اللہ نے آپ کو جیسا بنایا بہترین بنایا۔ اپنے منفرد حسن کو پہچانیں اور لوگوں کو سننا بند کریں۔
اسے کھڑکی پر پڑا خط نظر آیا تو وہ اسکی طرف لپکی۔ آج شاہی دربار میں بادشاہ اعظم نے اپنے بعد سلطنت أئیرینا کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ عوام اس فیصلے پر خوش تھی، کچھ ناخوش بھی تھے لیکن أئیرینا نے دھیان نہیں دیا۔
“شہزادی أیرینا اب ہم میں دو چیزیں یکساں ہیں۔ ایک یہ کہ ہم دونوں انسان ہیں اور دوسرا یہ کہ ہم دونوں خوبصورت ہیں۔ ہماری پہلی ملاقات میں آپ خوبصورت نہیں تھیں کیونکہ آپ کو اپنی خوبصورتی کی نہ پہچان تھی نہ قدر لیکن آج آپ کو پہچان بھی ہے اور قدر بھی۔ ” أئیرینا پڑھ کر مسکرائی۔
“ایک دفعہ سپاہیوں کو میری اتھارٹی میں آنے دو پھر پتہ لگواؤں گی کہ تم ہو کون؟” أئیرینا خط کو الماری میں رکھ کر کہتے ہوئے باہر کی جانب بڑھ گئی جہاں کئی خوشیاں اور کامیابیاں اس کی منتظر تھیں۔
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button

Adblock Detected

Please disable it to continue using this website.