یہ کہانی وادیِ سراب میں پندرہ سال پہلے ہوئے بس حادثے کے گرد گھومتی ہے۔۔ وہ حادثہ تھا یا اتفاق یا کوئی سازش؟ اس بس حادثے کی دستاویزات پندرہ سال بعد وادیِ سراب کے ایک جانے مانے آدمی کے ہارٹ اٹیک سے موت کے بعد سامنے آتی ہیں۔ جہاں وادیِ سراب کے لوگ حیرت زدہ ہوئے تو وہیں کچھ لوگوں کے چہروں سے نقاب اترا اور کچھ بے چین ہوئے ، کچھ نے سچ کا سامنا کرتے ہوئے اپنا بدلہ قدرت کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا۔۔ حادثہ اتفاق یا سازش یہ اس کہانی کا ایک اہم مدعہ ہے۔۔ حادثہ ؟ اتفاق ؟ یا سازش؟
خواب محض بند آنکھوں سے دیکھی گئی دُنیا تک محدود نہیں ہوتے بلکہ کچھ خواب جاگتی آنکھوں سے دیکھے گئے ہماری خواہشیں ہوتی ہے، حسرتیں ہوتی ہے، آرزوئیں ہوتی ہے، ہماری لاحاصل حسرتیں ہوتی ہے، ہمارے مقاصد ہوتے ہیں، ہماری منزلیں ہوتی ہے، جنہیں پانے کی جدو جہد کرنا ہمارے بس میں ہوتا ہے، جس کے لیے کوشش کرنا، جسکی جستجو میں راستے تلاش کرنا ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے، بس اللّٰہ کی طرف سے قسمت میں کوئی آزمائش نہ ہو، ورنہ یہ ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اپنی لاحاصل خواہشوں کو حاصل میں بدلنا، اپنے خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنا۔ یہ کہانی ایک ایسی ہی خواب بُننے والی دو آنکھوں کی ہے، جس کے نزدیک خواب دیکھنا اور انکی جستجو میں خود کو مگن کرنا ہی اسکی زندگی کا مقصد ہے۔ جسکی زندگی کے مدار میں بہت کم لوگ گردش کرتے ہیں۔ جسے اپنی اس چھوٹی سی دُنیا میں رہ کر اسے جنت بنانا تھا۔ وہ اپنے خوابوں کو کبھی لاحاصل نہیں سمجھتی تھی کیونکہ اسکے نزدیک اللّٰہ کوشش کرنے والے کو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔ یہ کہانی ہے انصاف کی، حق کے خلاف جنگ کی، کسی کی تکلیف کی، بدلتے رشتوں کی ، محبت کی، کسی اَن دیکھے خواب کی تعبیر میں موجودآزمائشوں کی، اسکی مصیبتوں کی – مصیبتوں اور آزمائشوں کو صبر سے کاٹنے والوں کے انجام ہمیشہ خوبصورت ہوتے ہیں۔
Andekha Khawab is a Police Hero Based, Suspense Based Romantic Novel by Saman Waheed.
کچھ کہانیاں ہوتی ہیں جو ختم تو ہو جاتی ہیں مگر ہماری زندگیوں میں اپنا گہرہ اثر چھوڑ جاتیں ہیں۔ انسان کا ماضی بھی اِنہیں کہانیوں جیسا ہوتا ہے۔ وقت گزرتا رہتا ہے اور ماضی خود کو امر کر لیتا ہے۔ پھر یہ ماضی آپ سے جڑے لوگوں پر اثرانداز کرتا ہے اور آپ کے قریبی رشتوں میں دراڑ پیدا کرتا ہے جیسے ایک ماضی صالح ابراہیم اور سُمل التاف کے خوبصورت رشتے کی تلخیوں کا سبب بنا تھا۔
کچھ کہانیاں ہوتی ہیں جو ختم تو ہو جاتی ہیں مگر ہماری زندگیوں میں اپنا گہرہ اثر چھوڑ جاتیں ہیں۔ انسان کا ماضی بھی اِنہیں کہانیوں جیسا ہوتا ہے۔ وقت گزرتا رہتا ہے اور ماضی خود کو امر کر لیتا ہے۔ پھر یہ ماضی آپ سے جڑے لوگوں پر اثرانداز کرتا ہے اور آپ کے قریبی رشتوں میں دراڑ پیدا کرتا ہے جیسے ایک ماضی صالح ابراہیم اور سُمل التاف کے خوبصورت رشتے کی تلخیوں کا سبب بنا تھا۔
کچھ کہانیاں ہوتی ہیں جو ختم تو ہو جاتی ہیں مگر ہماری زندگیوں میں اپنا گہرہ اثر چھوڑ جاتیں ہیں۔ انسان کا ماضی بھی اِنہیں کہانیوں جیسا ہوتا ہے۔ وقت گزرتا رہتا ہے اور ماضی خود کو امر کر لیتا ہے۔ پھر یہ ماضی آپ سے جڑے لوگوں پر اثرانداز کرتا ہے اور آپ کے قریبی رشتوں میں دراڑ پیدا کرتا ہے جیسے ایک ماضی صالح ابراہیم اور سُمل التاف کے خوبصورت رشتے کی تلخیوں کا سبب بنا تھا۔