Serial killer

Novel Jurh by Syed Khizar

مسٹری انسان کو کتا بنا دیتی ہے۔
ایرج جاوید ایک گرافک ڈیزائنر ہے۔ اُسکی زندگی نے اُسکے اپنے بھائی، سعد کے مرنے کے بعد ایک نیا آغاز کیا ہے۔ ایرج اپنی زندگی کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ خوش رہنے کی کوشش میں ہے۔ اسکا دل بہت چیزوں نے، بہت سے لوگوں نے توڑا ہے، مگر سب سے زیادہ اُسکے اپنے کزن ارحم نے۔ وہ خود کو heal کرنے میں لگی ہے، مگر پھر ایک شام اسکی آنکھوں کے سامنے ایک ایسا حادثہ پیش آتا ہے کہ اُسکی زندگی مکمل اُلٹ جاتی ہے۔
ارمغان علی ایک بہترین فٹبال اسٹرائیکر ہے۔ مگر اُسکی زندگی اندر باہر سے مکمل ویران اور کھوکھلی ہے۔ ماضی کی یادوں اور حال کے واقعات میں مبتلا ارمغان اپنی زندگی سے نفرت کرتا ہے۔ مگر اپنی زندگی سے زیادہ نفرت وہ اُس پر اسرار گھڑی سے کرتا ہے جسکا اسکی زندگی پر بہت گہرا اثر ہے۔
سنہری گھڑی ان کرداروں کو ایک قفسِ تکون میں قید کر چکی ہے، اور یہی گھڑی ان کے سامنے ایک دوسرے کے ایسے پوشیدہ رازوں کو عیاں کرنے جارہی ہے جو اُن تینوں کو جرح شدہ بسمل بنادے گا۔ اور اب کی بار یہ جرح مرہم سے بھی مندمل نہ ہو پائے گا۔
جرح کہانی ہے ایسے کرداروں کی جو اپنے سکون کے لیے ایسے حیوان بن جانے کے قابل ہیں، کہ دوسروں کے زخم کریدنا ان کی ہوس بن جاتا ہے۔ یہ کہانی ہے درد سے اطمینان پانے والوں کی۔ یہ کہانی ہے خون کے پیاسوں کی۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے سچ کی جس نے دنیا کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا!