self awareness

I Saw The Devil by Khuzema Ahmed

I Saw the Devil is not a story of heroes and villains—it is the story of a man divided within himself. Khalid, fractured by silence, guilt, and unspoken conflicts, keeps his family, his relationships, and his emotions locked away in separate compartments. Through his diary, we witness a haunting portrait of a soul battling its inner demons while struggling to find meaning in a world that feels alien.
This short novel explores themes of alienation, family dynamics, inner conflict, and the thin bridge between good and evil. It is a raw and intimate reflection of what it means to live as an incomplete self—constantly torn, yet unable to let go.
میں نے شیطان کو دیکھا ہیرو اور ولن کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو خود اپنے اندر بکھرا ہوا ہے۔ خالد، جو خاموشی، احساسِ جرم اور ان کہے رشتوں کے بوجھ تلے دبا ہے، اپنے خاندان اور جذبات کو الگ خانوں میں قید رکھتا ہے۔ اُس کی ڈائری کے ذریعے ہم ایک ایسی روح کو دیکھتے ہیں جو اپنے ہی اندھیروں سے لڑ رہی ہے اور ایک اجنبی دنیا میں اپنے وجود کا مطلب تلاش کر رہی ہے۔
یہ ناول اجنبیت، خاندانی کشمکش، باطنی جدوجہد اور نیکی و بدی کے درمیان باریک لکیر کے موضوعات کو چھوتا ہے۔ یہ ایک خام اور سچّا عکس ہے اُس زندگی کا جو ادھوری ہے—ہمیشہ ٹوٹتی ہوئی، مگر کبھی بھی چھوٹنے نہ دینے والی۔

Mere Humsafar

یہ کہانی ہے  دو خود مختار انسانوں کی خود آگہی کی۔ جن کو ان کی تقدیر ایک ساتھ لے آئی۔  جب کہ ان کے خواب کچھ اور تھے۔ آگہی کے سفر کی مشکلیں ان کو ایک دوسرے کے قریب لے آئیں۔ اور انہوں نے جانا کہ بعض دفعہ سکون تو ہمیں پہلے ہی عطا کر دیا گیا ہوتا ہے جبکہ ہم اس کو ڈھونڈنے میں خود کو تھکا رہے ہوتے ہیں ۔

Novel Sibghatullah by Aqsa Batool Hayat

صبغت اللہ دو لوگوں کی کہانی ہے مگر اسے لکھا کئی انسانوں کے لیے گیا ہے۔ گاؤں کے باسی صبغت اللہ اپنی ساری زندگی صبر کا دامن تھامے اللہ کی رضا میں گزار دیتا ہے۔ ماہگل اس سے متاثر ایک ٹین ایج لڑکی ہے جس نے زندگی کے کئی سال اس جیسا بننے کی خفیہ کوشش کی ہے؟
کیا ماہگل صبغت اللہ جیسی بن سکی تھی؟ جاننے کے لیے پڑھیے صبغت اللہ