second marriage based

Maskan Episode 1 & 2 by Komal Shahid

مسکن ایک ایسی داستان ہے جہاں محبت، رشتے اور راز ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہیں۔ یہ صرف ایک جگہ نہیں، بلکہ ایک احساس ہے۔ ایک ایسی پناہ گاہ جہاں وقت رُک جاتا ہے، مگر دلوں کی دھڑکنیں کبھی نہیں تھمتیں۔یہاں ہر کردار اپنی ذات کا ایک گوشہ چھپائے ہوئے ہے۔
کوئی اپنے ہی قلم کے لفظوں میں بکھراہوا۔۔کوئی یادوں کے سائے میں جیتا  ہوا۔۔۔کوئی طاقت کے نشے میں ڈوبا ہوا۔۔۔اور کوئی انصاف کے سفر میں اپنے زخموں سے لڑ نے کوتیار۔ کہانی کے سب کردار مسکن کی سرزمین پر ایسے جُڑتے ہیں کہ اُن کے راز، اُن کی محبتیں اور اُن کے زخم وقت کے ساتھ ساتھ کھلتے جاتے ہیں)

Meezab e Noor

اس کہانی کو پڑھ آپ کو سمجھ آجاۓ گی کہ میزاب نورنے  یہ کیوں کہا تھا۔
”لوگوں کے سامنے دکھوں کا رونا رو کر ہم ہمدردیاں تو سمیٹ لیتے ہیں لیکن اپنی شخصیت کا وقار ہمیشہ کیلۓ کھو دیتے ہیں ۔“

Mein Naraa’e Mastana

جہانداد خان اور اُدٸیانا کی بے مثال دوستی ، عریز علوی کی احترام بھری محبت کی داستان اور کچھ زندگی کےمزاحیہ رنگ کہ زندگی کے زندہ ہونے کا گمان ہو۔کسی بکھرے وجود کی کرچیاں سمیٹنے والے مہربان کی کہانی۔

Meri Jeet Amar Kar Do

یہ ایک رومانوی ناول ہے جس میں ہماری سماجی زندگی کے مختلف پہلوؤں،خاندانی رشتوں ،مختلف جذبات محبت،عشق ،دوستی،نفرت   کو پیش کیا گیا ہے۔۔۔۔یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی جس نے اپنے بچپن کی محرومیوں کو اپنے وجود میں بھر دیا اور اپنے خول میں بند ہو گیا۔۔۔۔یہ دو پیار  کرنے  کرنے والوں کی خوب صورت کہانی ہے۔ یہ کہانی  ہے محبت کو   پانے اور پا  کر کھو دینے کی جس میں محبت نفرت ،لالچ اور قربانی کو اس انداز میں دکھایا  گیا ہے کہ قارئین کو اپنے سحر میں جکڑ لے۔

Mikael


“سنو! مجھے کافی بنا کر دو۔”
وہ ریوالونگ چیئر کو گھماتے ہوئے بولا۔

“سوری____آپ نے مجھ سے کہا؟”
عنوہ جاتے جاتے پلٹ کر نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔

“جی بالکل محترمہ____غالباً آپ کے علاوہ یہاں اور کوئی نہیں ہے؟”
اس نے شان بے نیازی سے کندھے اچکائے۔

“میں یہاں کافی بنانے کی جاب نہیں کرتی۔”
عنوہ بمشکل اپنے غصے پر قابو پاتے متوازن لہجے میں بولی۔

“بابا کو بھی تو دیتی ہو تو کیا ان کی چاپلوسی کرتی ہو؟”
میکائیل نے کہنیاں ٹیبل پر رکھ کر دونوں ہاتھوں پر چہرہ ٹکائے استہزائیہ انداز میں کہہ کر اسے زچ کرنا چاہا اور وہ اپنی کوشش میں کامیاب ٹھہرا تھا۔

“دیکھیں اب آپ حد سے بڑھ رہے ہیں۔ آپ مجھے مجبور نہ کریں میں سر کو آپ کی شکایت کر دوں گی۔”
اس کے وارننگ دیتے لہجے پر میکائیل کاردار کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا۔

“سیریسلی تمھیں لگتا ہے میں اپنے باپ سے ڈر جاؤں گا، شٹل کاک کہیں کی ہونہہ۔”
ہنستے ہنستے اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

عنوہ نے لب بھینچے اس کی ہنسی دیکھی جب سے یہ بندہ آفس آنے لگا تھا تب سے اس کا سکون برباد ہو کر رہ گیا تھا جانے کس بات کا بدلہ لے رہا تھا؟

Mohabbat Hogaye Akhir

 یہ کہانی لائبہ کی ہے۔ یہ کہانی سیف کی ہے۔ یہ کہانی سمیہ کی ہے۔ یہ کہانی اُس امتحان پر ہے جو دوستی میں لیا جائے۔ پیار کے تکونے میں پھنسے یہ تین افراد آخر کس کو چنیں گے، دوستی کو یا پھر محبت؟
1 7 8 9 15