second marriage based

Khuda To Thaam Leta Hai Episode 1 by Fizzah Amir

یہ کہانی اُن مسافروں کے لیے ہے جو زندگی کی دوڑ میں اکیلے بھاگتے بھاگتے تھک چکے ہیں؛ جنہوں نے دنیا کے ہر دروازے پر دستک دی، مگر ہر جگہ سے خالی ہاتھ لوٹے۔ جن کے دلوں میں ایک ایسا خلا ہے جسے دنیا کی کوئی مادی چیز نہیں بھر سکی۔
اگر آپ کا دل بھی ٹوٹا ہوا ہے، تو مایوس مت ہوں، کیونکہ ٹوٹا ہوا دل ہی وہ مقام ہے جہاں سے ‘نور’ داخل ہوتا ہے۔
یہ ناول آپ کو بتائے گا کہ جب سب سہارے ریت کی دیوار ثابت ہوں، تو ایک سجدہ کیسے زندگی کا سب سے بڑا سہارا بن جاتا ہے۔
یہ بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹنے اور بھٹکی ہوئی روح کو دوبارہ پانے کی داستان ہے۔
یہ ایک دم انسان کے ” میں” سے “خدا” تک کے سفر کی داستان ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ تنہا نہیں ہیں؛ آپ کا رب آپ کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، اور وہ آپ کے ہر زخم کو بھرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
کیونکہ جب سب ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں، تب اللہ ہی ہوتا ہے جو تھام لیتا ہے۔

Kaanch Episode 8 by Safana Ahmed

کہانی ہے ہر اس انسان کی جو زندگی میں کھبی نہ کبھی ہیراسمنٹ کا نشانہ بنتا ہے اور کسی کو بتا بھی نہیں پاتا, یہ کہانی ہے ہر اس انسان کئ جو سچے اور پر خلوص رشتوں کئ تلاش میں خود کہیں کھو جاتا ہے, کہانی ہے ہر اس انسان کی جو وقتی طور پر نفس کئ پیروی کر کے اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی خراب کر لیتا ہے, یہ کہانی ہے ہر اس انسان کی جو زندگی میں سب کے ساتھ رحم کا معاملہ کرتا ہے سواۓ اپنے آپ  کے

Charagh Jalta Raha Novel by Mawra Talha

Charagh Jalta Raha is a Cousin Marriage Based, Second Marriage Based, Domestic Issues Based Novel by Mawra Talha Published in Kiran Digest November 2025.
ناول: چراغ جلتا رہا
مصنفہ: ماورا طلحہ
کرن ڈائجسٹ نومبر ۲۰۲۵
کہانی پڑھ کر بےحد لطف آیا۔ مصنّفہ نے اسے نہایت خوبصورت انداز میں تحریر کیا ہے اور زندگی کے کئی اہم پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ کہانی میں یہ حقیقت بڑی خوبی سے سامنے آتی ہے کہ بعض سختیاں بظاہر تکلیف دہ ضرور ہوتی ہیں مگر انجام کار ہمارے حق میں بہتر ثابت ہوتی ہیں۔ تاہم کچھ لڑکیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو اپنے پیاروں کی سختیوں سے نالاں ہو کر اُن سے نجات پانے کی خاطر کسی بھی اجنبی کی باتوں پر آسانی سے یقین کر لیتی ہیں، اور یہی بھول بعد میں اُن کی زندگی کو
عذاب بنا دیتی ہے۔
اکثر اوقات بڑوں کی بات نہ ماننے اور نصیحتوں کو نظر انداز کرنے کی سزا زندگی بہت بےرحمانہ انداز میں دیتی ہے۔ اس کہانی میں مصنّفہ نے محبت، خود غرضی، استحصال اور رشتوں کی پیچیدگیوں کو بےمثال انداز میں پیش کیا ہے۔
کہانی کا مرکزی مرد کردار، سبطین، مجھے بےحد پسند آیا۔ اگر ہمارے معاشرے میں سبطین جیسے کردار موجود ہوں تو یقیناً یہ معاشرہ عورتوں کے لیے زیادہ محفوظ اور قابلِ رہائش بن سکتا ہے۔
آخر میں قربانی، مشکلات اور صبر کے بعد سبطین اور منیحہ کو اپنی دائمی خوشی مل جانا کہانی کا خوبصورت انجام ہے۔

Himmat Dushwar Pasand by Aasiya Raees Khan

Himmat Dushwar Pasand Is a Second Marriage Based, After Marriage Based, Brave and Strong Female Lead Based, Caring Hro Based Family Drama Based Novel by Aasiya Raees Khan Published in Khawateen Digest January 2026.
ہمت دشوار پسند از آسیہ رئیس خان
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
خواتین ڈائجسٹ جنوری۲۰۲۶
عاصیہ رئیس ہمیشہ اپنے ناولز کے ذریعے قارئین کو حیرت زدہ کر دیتی ہیں۔ ان کی ہر آنے والی کہانی پچھلی سے زیادہ اچھی، گہری اور سبق آموز ہوتی ہے۔ ان کی یہ خوبی مجھے بے حد پسند ہے کہ وہ محض رومانس تک محدود نہیں رہتیں بلکہ معاشرے کے نہایت اہم اور سنجیدہ مسائل کو بھی زیرِ بحث لاتی ہیں۔
ان کی کہانیوں کی مرکزی خواتین کردار عام ناولز کی ہیروئنز سے مختلف ہوتی ہیں۔ وہ باہمت اور مضبوط ہوتی ہیں، مگر ان میں ایک عام گھریلو لڑکی کی سادگی اور حقیقت پسندی بھی موجود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ غیر حقیقی نہیں لگتیں بلکہ قاری آسانی سے خود کو ان سے جوڑ پاتا ہے۔
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بعض اوقات زندگی کے مشکل ترین لمحات میں ہمیں سب سے کٹھن اور فیصلہ کن قدم اٹھانا پڑتا ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب ہمارے فیصلے کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں ہوتا۔ بلکہ اکثر لوگ ہمارے خلاف ہوتے ہیں، ہمیں کمتر سمجھا جاتا ہے، ہماری ہمت توڑی جاتی ہے اور ہمیں طنز و تحقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
مگر ایسی زندگی جو صرف پچھتاووں اور دکھوں کے ساتھ گزاری جائے، اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ مشکل فیصلہ کر لیا جائے جو اگرچہ فوری طور پر تکلیف دہ ہو، مگر آنے والی بڑی مشکلات سے ہمیں بچا لے۔ تاہم ہمارے معاشرے میں عورت کے لیے ایسے فیصلے کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اکثر عورت خود کو یہ کہہ کر خاموش کروا لیتی ہے کہ” اب کیا ہوگا؟”
حالانکہ زندگی میں درست فیصلے کسی بھی وقت کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے لیے وقت نہیں بلکہ صرف ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔
بریرہ، جو اس کہانی کی مرکزی کردار ہے، نے بھی ایسا ہی ایک نہایت مشکل اور بظاہر ناممکن فیصلہ کیا۔ شادی کی پہلی ہی رات اسے اپنے شوہر سے یہ سننے کو ملا کہ *“مجھے کوئی اور پسند ہے”*۔ مگر اسے اپنے لیے فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگا۔ وہ گھر چھوڑ کر واپس آ گئی، اور اہلِ خانہ کے دباؤ، طعنوں اور معاشرتی رویّوں کے باوجود اپنے فیصلے پر قائم رہی۔
اس مشکل وقت میں اس کے ساتھ صرف اس کا چھوٹا بھائی کھڑا تھا۔ دراصل بھائی کا بڑا یا چھوٹا ہونا اہم نہیں ہوتا، اہم یہ ہوتا ہے کہ اس کے دل میں بہن کے لیے احساس اور ساتھ دینے کا حوصلہ موجود ہو۔
تاہم ہر لڑکی میں اتنی ہمت نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگ معاشرے سے لڑ کر، سب سے الگ ہو کر اور نفرتوں کا سامنا کر کے زندگی گزارنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔
یہ سب ہم پر منحصر ہوتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے لیے کیا انتخاب کرتے ہیں “سمجھوتہ یا عزتِ نفس”۔
1 2 3 15