second chance Romance

Dua e Hadi Episode 1 & 2 by Khadija Zaheer

اِس کہانی کے بارے میں، میں آپکو زیادہ کچھ نہیں بتا سکتی چند الفاظ میں تو بلکل نہیں یہ کہانی خود اپنا آپ منوائے گی۔ میں بس اتنا کہہ سکتی ہوں کہ اِس کہانی میں موجود ہر کردار پرفیکٹ ہےدوسروں کے لیے۔ اتنا پرفیکٹ جتنا کہ ایک انسان ہو سکتا ہے۔ یہ کمزور کرداروں کی کہانی نہیں ہے۔ اِس میں موجود کوئی کردار بیچارہ اور بے کس نہیں ہے۔ یہ وہ  کردار ہیں جنہیں ہم اپنی حقیقی زندگیوں میں آئیڈیالائز کرتے ہیں جن کے بارے میں ہمارا تصور کہتا ہے کے یہ پرفیکٹ ہیں۔ ہر کام میں بہترین۔۔۔۔۔ پر کیا حقیقت میں کوئی اتنا مکمل ہوتا ہے؟؟؟
یہ میری پہلی کہانی نہیں ہے میری پہلی کہانی اِس سے بہت مختلف تھی یہی کردار یہی حالات مگر انت بلکل مختلف۔ مگر یہ کردار اپنی کہانی مجھ سے بہتر جانتے تھے اور آج جو کہانی آپ پڑھنے جا رھے ہیں وہ میری پہلی کہانی سے بہت مختلف ہے۔ اگر میں یہ کہوں کے اِن کرداروں نے خود کو لکھا ہے تو یہ غلط نا ہو گا۔
یہ کہانی اُمید ہے۔۔۔ کیسے ؟؟ یہ آپ پڑھ کر جانیں گے۔
امید کروں گی آپکا اِن کرداروں کے ساتھ سفر بہترین رہے اور آپ اِن کی غلطیوں سے سیکھیں۔  پرفیکٹ انسانوں کی غلطیاں ؟ عجیب ہے نا؟  یہی مسئلہ ہے ہمارا ہم کچھ انسانوں کو اتنا پرفیکٹ سمجھ لیتے ہیں کہ اُن سے غلطی کرنے کا حق بھی چھین لیتے ہیں۔ غلطیاں تو سب ہی کرتے ہیں بس وہ غلطی نہیں کرنی چاہیے جو کرتے ہوئے گناہ لگے۔۔۔۔ کیونکہ غلطیوں کی معافی مل جاتی ہے گناہوں کے کفارے مشکل ہوتے۔
اس کہانی میں ہم اسماعیل کی بات کریں گے.. پتا ہے اسماعیل کون ہوتا ہے؟ وہ جسے رو رو کر بڑی دعاؤں کے بعد حاصل کیا جائے اور پھر اس پر آزمائش آ جائے۔ ہم سب کی زندگی میں ایک اسماعیل ہوتا ہے جس سے ہمیں بڑی محبت ہوتی ہے جسے ہم بہت دعاؤں سے حاصل کرتے ہیں اور پھر اُسے اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہوتا ہے۔۔۔۔ اور معلوم ہے جب آپ اللہ کی راہ میں اپنا اسماعیل قربان کرتے ہیں تو اللہ اُسے لوٹا دیتا ہے یہی سیکھیں ھم اس کہانی میں۔ اُمید کرتی ہوں آپکو یہ کہانی پسند آئے گی۔

Dua e Hadi Episode 3 by Khadija Zaheer

اِس کہانی کے بارے میں، میں آپکو زیادہ کچھ نہیں بتا سکتی چند الفاظ میں تو بلکل نہیں یہ کہانی خود اپنا آپ منوائے گی۔ میں بس اتنا کہہ سکتی ہوں کہ اِس کہانی میں موجود ہر کردار پرفیکٹ ہےدوسروں کے لیے۔ اتنا پرفیکٹ جتنا کہ ایک انسان ہو سکتا ہے۔ یہ کمزور کرداروں کی کہانی نہیں ہے۔ اِس میں موجود کوئی کردار بیچارہ اور بے کس نہیں ہے۔ یہ وہ  کردار ہیں جنہیں ہم اپنی حقیقی زندگیوں میں آئیڈیالائز کرتے ہیں جن کے بارے میں ہمارا تصور کہتا ہے کے یہ پرفیکٹ ہیں۔ ہر کام میں بہترین۔۔۔۔۔ پر کیا حقیقت میں کوئی اتنا مکمل ہوتا ہے؟؟؟
یہ میری پہلی کہانی نہیں ہے میری پہلی کہانی اِس سے بہت مختلف تھی یہی کردار یہی حالات مگر انت بلکل مختلف۔ مگر یہ کردار اپنی کہانی مجھ سے بہتر جانتے تھے اور آج جو کہانی آپ پڑھنے جا رھے ہیں وہ میری پہلی کہانی سے بہت مختلف ہے۔ اگر میں یہ کہوں کے اِن کرداروں نے خود کو لکھا ہے تو یہ غلط نا ہو گا۔
یہ کہانی اُمید ہے۔۔۔ کیسے ؟؟ یہ آپ پڑھ کر جانیں گے۔
امید کروں گی آپکا اِن کرداروں کے ساتھ سفر بہترین رہے اور آپ اِن کی غلطیوں سے سیکھیں۔  پرفیکٹ انسانوں کی غلطیاں ؟ عجیب ہے نا؟  یہی مسئلہ ہے ہمارا ہم کچھ انسانوں کو اتنا پرفیکٹ سمجھ لیتے ہیں کہ اُن سے غلطی کرنے کا حق بھی چھین لیتے ہیں۔ غلطیاں تو سب ہی کرتے ہیں بس وہ غلطی نہیں کرنی چاہیے جو کرتے ہوئے گناہ لگے۔۔۔۔ کیونکہ غلطیوں کی معافی مل جاتی ہے گناہوں کے کفارے مشکل ہوتے۔
اس کہانی میں ہم اسماعیل کی بات کریں گے.. پتا ہے اسماعیل کون ہوتا ہے؟ وہ جسے رو رو کر بڑی دعاؤں کے بعد حاصل کیا جائے اور پھر اس پر آزمائش آ جائے۔ ہم سب کی زندگی میں ایک اسماعیل ہوتا ہے جس سے ہمیں بڑی محبت ہوتی ہے جسے ہم بہت دعاؤں سے حاصل کرتے ہیں اور پھر اُسے اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہوتا ہے۔۔۔۔ اور معلوم ہے جب آپ اللہ کی راہ میں اپنا اسماعیل قربان کرتے ہیں تو اللہ اُسے لوٹا دیتا ہے یہی سیکھیں ھم اس کہانی میں۔ اُمید کرتی ہوں آپکو یہ کہانی پسند آئے گی۔

Dua e Hadi Episode 4 by Khadija Zaheer

اِس کہانی کے بارے میں، میں آپکو زیادہ کچھ نہیں بتا سکتی چند الفاظ میں تو بلکل نہیں یہ کہانی خود اپنا آپ منوائے گی۔ میں بس اتنا کہہ سکتی ہوں کہ اِس کہانی میں موجود ہر کردار پرفیکٹ ہےدوسروں کے لیے۔ اتنا پرفیکٹ جتنا کہ ایک انسان ہو سکتا ہے۔ یہ کمزور کرداروں کی کہانی نہیں ہے۔ اِس میں موجود کوئی کردار بیچارہ اور بے کس نہیں ہے۔ یہ وہ  کردار ہیں جنہیں ہم اپنی حقیقی زندگیوں میں آئیڈیالائز کرتے ہیں جن کے بارے میں ہمارا تصور کہتا ہے کے یہ پرفیکٹ ہیں۔ ہر کام میں بہترین۔۔۔۔۔ پر کیا حقیقت میں کوئی اتنا مکمل ہوتا ہے؟؟؟
یہ میری پہلی کہانی نہیں ہے میری پہلی کہانی اِس سے بہت مختلف تھی یہی کردار یہی حالات مگر انت بلکل مختلف۔ مگر یہ کردار اپنی کہانی مجھ سے بہتر جانتے تھے اور آج جو کہانی آپ پڑھنے جا رھے ہیں وہ میری پہلی کہانی سے بہت مختلف ہے۔ اگر میں یہ کہوں کے اِن کرداروں نے خود کو لکھا ہے تو یہ غلط نا ہو گا۔
یہ کہانی اُمید ہے۔۔۔ کیسے ؟؟ یہ آپ پڑھ کر جانیں گے۔
امید کروں گی آپکا اِن کرداروں کے ساتھ سفر بہترین رہے اور آپ اِن کی غلطیوں سے سیکھیں۔  پرفیکٹ انسانوں کی غلطیاں ؟ عجیب ہے نا؟  یہی مسئلہ ہے ہمارا ہم کچھ انسانوں کو اتنا پرفیکٹ سمجھ لیتے ہیں کہ اُن سے غلطی کرنے کا حق بھی چھین لیتے ہیں۔ غلطیاں تو سب ہی کرتے ہیں بس وہ غلطی نہیں کرنی چاہیے جو کرتے ہوئے گناہ لگے۔۔۔۔ کیونکہ غلطیوں کی معافی مل جاتی ہے گناہوں کے کفارے مشکل ہوتے۔
اس کہانی میں ہم اسماعیل کی بات کریں گے.. پتا ہے اسماعیل کون ہوتا ہے؟ وہ جسے رو رو کر بڑی دعاؤں کے بعد حاصل کیا جائے اور پھر اس پر آزمائش آ جائے۔ ہم سب کی زندگی میں ایک اسماعیل ہوتا ہے جس سے ہمیں بڑی محبت ہوتی ہے جسے ہم بہت دعاؤں سے حاصل کرتے ہیں اور پھر اُسے اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہوتا ہے۔۔۔۔ اور معلوم ہے جب آپ اللہ کی راہ میں اپنا اسماعیل قربان کرتے ہیں تو اللہ اُسے لوٹا دیتا ہے یہی سیکھیں ھم اس کہانی میں۔ اُمید کرتی ہوں آپکو یہ کہانی پسند آئے گی۔

Eid e Vasal Novel by Sadia Shahzad

یہ کہانی ہے دل کے رشتوں کی جو دِل سے نکل کر روح میں اُتر جاتے ہیں۔
اُس خون کی جو رگوں میں دوڑتا ہے لیکن وقت کے ساتھ سفید ہو جاتا ہے۔
رشتوں میں آئی دراڑ کی جو وقت کے ساتھ گہری ہو جاتی ہے۔
کہانی ہے ہجر کی، کہانی ہے وصل کی۔
کہانی ہے اس عید کی، جب ہجر تمام ہوا اور عید کے چاند کے ہمراہ لمحہ وصل نے بھی جنم لیا۔

Haboot

کوالالمپور انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا ٹرمینل ون اس وقت مسافروں کے ہجوم میں ڈوب رہا تھا۔۔۔
وقت کا پردہ قائم تھا اور گھڑی کی سوئی اپنے مقررہ دائرے میں سستی کے ساتھ چکر کاٹ رہی تھی۔ وہاں موجود لوگ بے خبر تھے، وقت اور جائے کے قفس میں قید۔
آج تین جانوں کو بدلنا تھا، دو سو انتالیس جانوں کو لٹنا تھا، ہزاروں جانوں کو سوگ منانا تھا اور لاکھوں جانوں کو عبرت حاصل کرنی تھی۔ آج وہ ہونے والا تھا جو انہونی تھا، جس کے گواہ بے زبان تھے اور ثبوت مجوف۔
کیا ہوا تھا اس طیارے کی دیواروں کے پار، جب وہ زمین سے ہزاروں فٹ کی بلندی پر آویز تھا؟ کن خیالات نے ان ۲۳۹ جانوں کو گھیرا تھا؟ کون تھے وہ لوگ؟ کون تھا MH370 کا قاتل؟ کون تھا فریب کار اور کون تھے بیکس تماشائی؟
دو سو انتالیس نام، اور جواب۔۔۔ فقط خاموشی۔

Haboot Last Episode

کوالالمپور انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا ٹرمینل ون اس وقت مسافروں کے ہجوم میں ڈوب رہا تھا۔۔۔
وقت کا پردہ قائم تھا اور گھڑی کی سوئی اپنے مقررہ دائرے میں سستی کے ساتھ چکر کاٹ رہی تھی۔ وہاں موجود لوگ بے خبر تھے، وقت اور جائے کے قفس میں قید۔
آج تین جانوں کو بدلنا تھا، دو سو انتالیس جانوں کو لٹنا تھا، ہزاروں جانوں کو سوگ منانا تھا اور لاکھوں جانوں کو عبرت حاصل کرنی تھی۔ آج وہ ہونے والا تھا جو انہونی تھا، جس کے گواہ بے زبان تھے اور ثبوت مجوف۔
کیا ہوا تھا اس طیارے کی دیواروں کے پار، جب وہ زمین سے ہزاروں فٹ کی بلندی پر آویز تھا؟ کن خیالات نے ان ۲۳۹ جانوں کو گھیرا تھا؟ کون تھے وہ لوگ؟ کون تھا MH370 کا قاتل؟ کون تھا فریب کار اور کون تھے بیکس تماشائی؟
دو سو انتالیس نام، اور جواب۔۔۔ فقط خاموشی۔

Haboot Part 1

کوالالمپور انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا ٹرمینل ون اس وقت مسافروں کے ہجوم میں ڈوب رہا تھا۔۔۔
وقت کا پردہ قائم تھا اور گھڑی کی سوئی اپنے مقررہ دائرے میں سستی کے ساتھ چکر کاٹ رہی تھی۔ وہاں موجود لوگ بے خبر تھے، وقت اور جائے کے قفس میں قید۔
آج تین جانوں کو بدلنا تھا، دو سو انتالیس جانوں کو لٹنا تھا، ہزاروں جانوں کو سوگ منانا تھا اور لاکھوں جانوں کو عبرت حاصل کرنی تھی۔ آج وہ ہونے والا تھا جو انہونی تھا، جس کے گواہ بے زبان تھے اور ثبوت مجوف۔
کیا ہوا تھا اس طیارے کی دیواروں کے پار، جب وہ زمین سے ہزاروں فٹ کی بلندی پر آویز تھا؟ کن خیالات نے ان ۲۳۹ جانوں کو گھیرا تھا؟ کون تھے وہ لوگ؟ کون تھا MH370 کا قاتل؟ کون تھا فریب کار اور کون تھے بیکس تماشائی؟
دو سو انتالیس نام، اور جواب۔۔۔ فقط خاموشی۔

Haboot Part 2

کوالالمپور انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا ٹرمینل ون اس وقت مسافروں کے ہجوم میں ڈوب رہا تھا۔۔۔
وقت کا پردہ قائم تھا اور گھڑی کی سوئی اپنے مقررہ دائرے میں سستی کے ساتھ چکر کاٹ رہی تھی۔ وہاں موجود لوگ بے خبر تھے، وقت اور جائے کے قفس میں قید۔
آج تین جانوں کو بدلنا تھا، دو سو انتالیس جانوں کو لٹنا تھا، ہزاروں جانوں کو سوگ منانا تھا اور لاکھوں جانوں کو عبرت حاصل کرنی تھی۔ آج وہ ہونے والا تھا جو انہونی تھا، جس کے گواہ بے زبان تھے اور ثبوت مجوف۔
کیا ہوا تھا اس طیارے کی دیواروں کے پار، جب وہ زمین سے ہزاروں فٹ کی بلندی پر آویز تھا؟ کن خیالات نے ان ۲۳۹ جانوں کو گھیرا تھا؟ کون تھے وہ لوگ؟ کون تھا MH370 کا قاتل؟ کون تھا فریب کار اور کون تھے بیکس تماشائی؟
دو سو انتالیس نام، اور جواب۔۔۔ فقط خاموشی۔

Ihyaa e Rooh Episode 1 by Zoha Yousaf

احیاءِ روح یعنی روح کا دوبارہ زندہ ہونا،
خود کو کھو کر پھر سے پا لینا،اور اپنے رب کی طرف واپس لوٹ آنا۔
یہ کہانی ہے ایک دل کی جو ٹوٹ کر بھی دھڑکتا رہا،
ایک روح کی جو مر کر بھی جاگ اٹھی،اور رشتوں کی جو وقت کے شور میں بکھر گئے،مگر احساس کے ایک لمحے نے انہیں پھر سے جوڑ دیا۔“احیاءِ روح” محبت، جدائی، شفا اوراللہ کے قریب آنے کی  داستان ہے۔