تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا” محض چند کرداروں پر مشتمل ہے جس کی کہانی ان ہی چند کرداروں کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ “نورالعین” اس کہانی کا مرکزی کردار ہے جو اپنی زندگی میں کئی موڑ سے گزرتی ہے۔ کچھ موڑ اسے خوبصورت راستوں اور گلیوں کی سیر کرواتے ہیں تو کچھ موڑ اس کی زندگی کو یکایک تاریکی کی نذر کر دیتے ہیں۔ وہ اپنی معصومیت اور کم عمری کی وجہ سے کئی دفعہ صحیح سمت کا تعین نہیں کر پاتی ہے اور بعض غلط فیصلے تو عمر بھر کا پچھتاوا مقدر کر دیتے ہیں۔ کیا نور کبھی اس پچھتاوے سے، ان خاردار رستوں سے نکل کر حسین منزل کی سمت بڑھ پائے گی؟
اس ناول کا مختصر حصہ حقیقت پر مبنی ہے جبکہ سارے کردار فرضی ہیں۔ قاری کو رائیٹر کے کچھ خیالات سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ یہ ناول اس معاشرے کے دوغلے پن کو کھول کر سامنے لائے گا جس میں والدین کا اپنی اولاد اور دوسرے کی اولاد کے ساتھ کیا جانے والا امتیازی سلوک ہے۔ اس ناول کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں ہے۔
آزمائشوں کے شوریدہ طوفانوں میں ڈولتی محبت کی ناؤ جو بدگمانی اور سازش کی تیز لہروں سے لڑکھڑاتی دکھوں کے گہرے پانیوں میں غوطے کھاتی عشق کے جزیرے پہ اترتی ہے۔۔۔ تاحدہ نگاہ چھائی مشکبار جذبوں کی ہریالی جن کے بل کھاتے رستوں پہ لوگ ملتے بچھڑتے اپنی شناخت پاتے ہیں۔۔۔ جزیرے کے بیچوں بیچ شہر آباد ہے “شہر جاناں، جس میں اہلِ دل لوگ اپنے مسکن میں بسے محبت کے گیت گاتے عشق کی معراج کو چھوتے ہیں اور آنے والے بنجراؤں کےلیے بانہیں وا کردیتے ہیں آؤ “کہ آباد شہرِ جاناں ہو”۔۔