Police Hero Based

Aashiqtum

محبت کی انوکھی داستانوں کو بیان کرتے اس ناول کے لیے ہم نے اس لفظ کا انتخاب کیا کیونکہ اس کا معنی ایسا ہے جو ہر جذبے کو اپنے اندر چھپا لیتا ہے۔ “عاشقتم” ایک فارسی لفظ ہے جس کا مطلب ہے
“مجھے تم سے محبت ہے”
“I am in love with you”
اس ناول میں آپ کو سب کچھ ایک ساتھ ملے گا۔ جوائنٹ فیملی بیسڈ یہ ناول آپ کو ہماری عام زندگی کی عکاسی کرتا دکھائی دے گا۔لڑائی،جھگڑے،کزنز کا پیار،موج مستی،کبھی محبت کبھی نفرت۔۔۔۔۔۔غرض یہ ناول تمام جذبات اور ہر رشتے کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے۔

Andekha Khawab By Saman Waheed

خواب محض بند آنکھوں سے دیکھی گئی دُنیا تک محدود نہیں ہوتے بلکہ کچھ خواب جاگتی آنکھوں سے دیکھے گئے ہماری خواہشیں ہوتی ہے، حسرتیں ہوتی ہے، آرزوئیں ہوتی ہے، ہماری لاحاصل حسرتیں ہوتی ہے، ہمارے مقاصد ہوتے ہیں، ہماری منزلیں ہوتی ہے، جنہیں پانے کی جدو جہد کرنا ہمارے بس میں ہوتا ہے، جس کے لیے کوشش کرنا، جسکی جستجو میں راستے تلاش کرنا ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے، بس اللّٰہ کی طرف سے قسمت میں کوئی آزمائش نہ ہو، ورنہ یہ ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اپنی لاحاصل خواہشوں کو حاصل میں بدلنا، اپنے خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنا۔ یہ کہانی ایک ایسی ہی خواب بُننے والی دو آنکھوں کی ہے، جس کے نزدیک خواب دیکھنا اور انکی جستجو میں خود کو مگن کرنا ہی اسکی زندگی کا مقصد ہے۔ جسکی زندگی کے مدار میں بہت کم لوگ گردش کرتے ہیں۔ جسے اپنی اس چھوٹی سی دُنیا میں رہ کر اسے جنت بنانا تھا۔ وہ اپنے خوابوں کو کبھی لاحاصل نہیں سمجھتی تھی کیونکہ اسکے نزدیک اللّٰہ کوشش کرنے والے کو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔ یہ کہانی ہے انصاف کی، حق کے خلاف جنگ کی، کسی کی تکلیف کی، بدلتے رشتوں کی ، محبت کی، کسی اَن دیکھے خواب کی تعبیر میں موجودآزمائشوں کی، اسکی مصیبتوں کی –  مصیبتوں اور آزمائشوں کو صبر سے کاٹنے والوں کے انجام ہمیشہ خوبصورت ہوتے ہیں۔
Andekha Khawab is a  Police Hero Based, Suspense Based Romantic Novel by Saman Waheed.

Azmaish Episode 1

آزمائش تو ہر شخص کی زندگی میں آتی ہے۔ اس چیز کے ذریعے جو آپ کو سب سے بڑھ کر عزیز ہوتی ہے۔ اور کامیاب وہ ہوتے ہیں جو صبر سے اور اللّٰہ پہ توکل کر کے اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔
آزمائش ناول کے کرداروں میں بھی آپ کو ایسی ہی چیزیں نظر آئیں گی۔ دیکھتے ہیں کہ کس طرح نورِ صباح اپنی آزمائش کا مقابلہ کرتی ہے۔

Gawah Novel by Anoosha Muhammad Rafique Arzoo

یہ ناولٹ ایک ایسے گواہ کے نام ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
انسان کی محدود سوچ سے پرے، بہت آگے کہیں کی یہ بات ہے۔ ایک گواہ کی گواہی کا راز ہے۔ یہ ناولٹ ”ایس-پی میرین البلوشی“ کی ایمانداری اور وطنِ عزیز سے محبت کا اظہار ہے۔
یہ ناولٹ، یہ کہانی آپ کو خود اپنا تعارف کرئے گی۔ یہ کہانی خود بتائے گی کہ یہ کہانی کیوں لکھی گئی ہے۔
اور اسی کہانی کے ذریعے آپ ملیں گے انوشہ آرزو کے آنے والے نئے ناول کے کرداروں سے۔ ایک پٹھان ”نگین یوسفزئی“ اور ایک بلوچ ”میرین البلوشی“ کی انوکھی داستان آپ کی منتظر ہے۔
گواہ سے ایک جھلک:
”شکر ہے کہ یہاں کوئی گواہ نہیں ہے۔ جب ثبوت اور گواہ ہی نہیں ہوں گے تو سزا کیسے ملے گی۔“ وہ استہزائیہ ہنسا، اس بات سے بے خبر کہ کوئی اسے سن بھی رہا ہے اور دیکھ بھی رہا ہے۔ یہاں تک کہ دنیا میں اس کی سزا کا تعین بھی کر چکا ہے۔ زمین کے دو فٹ نیچے اپنے گناہ کے تمام ثبوت سمیت وہ اس گناہ کو بھی دفنا رہا تھا جو اس کے نزدیک گناہ نہیں بلکہ آزادی تھی۔ زندگی سے آزادی۔ ایسی زندگی سے آزادی جو اسی شخص کے باعث اس وجود کے لیے موت سے بدتر ہونے والی تھی۔ اور اسے لگ رہا تھا کہ یہ سب کر کے بھی وہ کوئی سزا نہیں پائے گا کیونکہ اس کے گناہ کا اس کے نزدیک کوئی گواہ نہیں تھا۔
جب انسان کو لگتا ہےکہ اسے گناہ کرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا کوئی گواہ نہیں کوئی ثبوت پیچھے باقی نہیں تب اسی لمحے قدرت اس کی حماقت پر مسکراتی ہے کیونکہ دنیا میں ایسا کوئی گناہ نہیں جس کا کوئی گواہ نہ ہو۔ قدرت وسیلے بناتی ہے، اسباب پیدا کرتی ہے اور انسان گھوم پھر کر اپنے گناہ کی طرف لوٹ آتا ہے جہاں سے وہ بے خبر چلا ہوتا ہے اس بات سے کہ ان اللہ بصیر بالعباد (سورۃ فاطر: ۴۴)