ضمیر کا بوجھ موت کی سنگینی سے کہیں بڑھ کر ہے، روح کا جسم سے انقطاع سہل ہے، مگر ہر روز جسم کے قفس میں اذیت کی تڑپ سہنا بدترین عذاب۔۔ خاموش عشق، چھپے راز اور جان سوز جنون… تین دل، ایک محمل، ایک طوفانِ انتقام۔۔
رات کی سیاہی میں ایک چیخ گونجی، قتل کی چیخ پھر گویا سب تھم سا گیا۔۔ثبوت مٹ چکے تھے، گواہ غائب تھے، اور قاتل کی پرچھائیاں ظلمت کے گہرے پردوں میں تحلیل ہو چکی تھی۔۔ یکدم چاند کی زرد روشنی میں خون کا ایک قطرہ چمکا۔۔ایک ہلکی سرسراہٹ نے اس بھید کی گرہ کھولنی چاہی اور بس۔ گلی کے سائے طویل ہو گئے، ہوا میں سرگوشیاں گھلنے لگیں، اور ہر دروازے کے پس پشت الجھنوں نے پناہ لے لی۔ قاتل کون تھا؟ مقتول کی حقیقت کیا تھی؟ یہ صرف ایک قتل نا تھا… یہ ایک ایسا معمہ تھا جس کی ہر تعبیر میں ایک نیا راز پنہاں تھا اس رات ایک کہانی کا آغاز ہوا جو کئی زندگیوں کو ہلا کر رکھ دینے والی تھی۔۔معمہ قتل کی کہانی۔۔۔