انسان اپنے رب کے فیصلوں سے لاعلم ہے، وہ اس بات کا اندازہ کبھی نہیں لگا سکتا اور نہ ہی اپنے رب کے فیصلوں کو سمجھ سکتا ہے۔ خدا اپنے بندے کے ساتھ کبھی ناانصافی نہیں کرتا۔ انسان کو اُسی چیز سے نوازتا ہے جس کا وہ حقدار ہوتا ہے۔ انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے۔ اُس کی کی گئی نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ کسی نہ کسی موڑ پر اللہ نے اپنے بندے کے لیے رہنمائی کے دروازے کھولے رکھے ہوتے ہیں۔ بس ہمیں اُن تک خود پہنچنا ہوتا ہے۔ وسیلوں کے ذریعے اور سیکھے گئے سبق کے ذریعے۔
اس ناول میں علامتی طور پے راد خاندان کے زریعے
کولونائیزیشن کو دکھایا ہے کہ کیسے ایک ملک دوسرے ملک پےمہمان بن
کے قابض ہوتا ہےاورپھر اُسے اور اس کی قوم کو نقصان پہنچاتا ہے اور
میں نے اس میں یہ بھی دکھایا ہےکہ کیسےمادہ پرستی انسان سے اس
کاایمان چھین لیتی ہے۔اس کے علاوہ میں نے نئی نسل کو نفس کے ہاتھوں
اپنی عصمت کھوتے دیکھایا ہے اور میں نے سماجی اقدار،روایات،زوبان
اور لباس کی اہمیت بتائی ہے۔
محبت کرنے والوں کی کہانی، محبت میں قربانی دینے والوں کی کہانی، محبت میں بچھڑنے والوں کی کہانی،محبت میں لمبا انتظار کرنے والوں کی کہانی، محبت کو پا لینے والوں کی کہانی۔
یہ ناول سچائی پر مبنی ہے. محبت کا مطلب ایک شخص ہی نہیں ہوتا. محبت سچی ہو تو وہ کسی دوسرے تیسرے سے بھی ہوسکتی ہے. اس رب کے شاہکاروں کو بس سمجھا کرو. محبت خود ہوجائے گی. آپ عزت کیجیے بس محبت خود ہوجائے گی