Himmat Dushwar Pasand Is a Second Marriage Based, After Marriage Based, Brave and Strong Female Lead Based, Caring Hro Based Family Drama Based Novel by Aasiya Raees Khan Published in Khawateen Digest January 2026.
ہمت دشوار پسند از آسیہ رئیس خان
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
خواتین ڈائجسٹ جنوری۲۰۲۶
عاصیہ رئیس ہمیشہ اپنے ناولز کے ذریعے قارئین کو حیرت زدہ کر دیتی ہیں۔ ان کی ہر آنے والی کہانی پچھلی سے زیادہ اچھی، گہری اور سبق آموز ہوتی ہے۔ ان کی یہ خوبی مجھے بے حد پسند ہے کہ وہ محض رومانس تک محدود نہیں رہتیں بلکہ معاشرے کے نہایت اہم اور سنجیدہ مسائل کو بھی زیرِ بحث لاتی ہیں۔
ان کی کہانیوں کی مرکزی خواتین کردار عام ناولز کی ہیروئنز سے مختلف ہوتی ہیں۔ وہ باہمت اور مضبوط ہوتی ہیں، مگر ان میں ایک عام گھریلو لڑکی کی سادگی اور حقیقت پسندی بھی موجود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ غیر حقیقی نہیں لگتیں بلکہ قاری آسانی سے خود کو ان سے جوڑ پاتا ہے۔
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بعض اوقات زندگی کے مشکل ترین لمحات میں ہمیں سب سے کٹھن اور فیصلہ کن قدم اٹھانا پڑتا ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب ہمارے فیصلے کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں ہوتا۔ بلکہ اکثر لوگ ہمارے خلاف ہوتے ہیں، ہمیں کمتر سمجھا جاتا ہے، ہماری ہمت توڑی جاتی ہے اور ہمیں طنز و تحقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
مگر ایسی زندگی جو صرف پچھتاووں اور دکھوں کے ساتھ گزاری جائے، اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ مشکل فیصلہ کر لیا جائے جو اگرچہ فوری طور پر تکلیف دہ ہو، مگر آنے والی بڑی مشکلات سے ہمیں بچا لے۔ تاہم ہمارے معاشرے میں عورت کے لیے ایسے فیصلے کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اکثر عورت خود کو یہ کہہ کر خاموش کروا لیتی ہے کہ” اب کیا ہوگا؟”
حالانکہ زندگی میں درست فیصلے کسی بھی وقت کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے لیے وقت نہیں بلکہ صرف ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔
بریرہ، جو اس کہانی کی مرکزی کردار ہے، نے بھی ایسا ہی ایک نہایت مشکل اور بظاہر ناممکن فیصلہ کیا۔ شادی کی پہلی ہی رات اسے اپنے شوہر سے یہ سننے کو ملا کہ *“مجھے کوئی اور پسند ہے”*۔ مگر اسے اپنے لیے فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگا۔ وہ گھر چھوڑ کر واپس آ گئی، اور اہلِ خانہ کے دباؤ، طعنوں اور معاشرتی رویّوں کے باوجود اپنے فیصلے پر قائم رہی۔
اس مشکل وقت میں اس کے ساتھ صرف اس کا چھوٹا بھائی کھڑا تھا۔ دراصل بھائی کا بڑا یا چھوٹا ہونا اہم نہیں ہوتا، اہم یہ ہوتا ہے کہ اس کے دل میں بہن کے لیے احساس اور ساتھ دینے کا حوصلہ موجود ہو۔
تاہم ہر لڑکی میں اتنی ہمت نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگ معاشرے سے لڑ کر، سب سے الگ ہو کر اور نفرتوں کا سامنا کر کے زندگی گزارنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔
یہ سب ہم پر منحصر ہوتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے لیے کیا انتخاب کرتے ہیں “سمجھوتہ یا عزتِ نفس”۔