اس شارٹ کامیڈی ناولٹ کو میں نے صرف فن اور مزاح کے لئے ہی لکھا ہے۔
نہ کہ کسی بھی اصل کردار کو برا کہنے یا بتانے کے لئے نہ میں اس دور میں موجود تھی اور نہ ہی میں نے ان سب کی مشقتیں دیکھی ہیں۔
میں نے یہ ناولٹ بس اپنے اس اچانک آجانے والے رات و رات خیال کی وجہ سے لکھا ہے۔
میرا انار کلی یہ اس زمانے سے ریلیٹیٹ لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
میں نے بس اپنے خیال کو اچھے سے آپ سب کے سامنے پیش کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کی ہے۔
کہانی ہے چُلبل سے ایک کردار کی۔جس کی زندگی جڑتی ہے ایسے کردار سے جو بلکل آدم بیزار سا ہے۔کہانی اندھیروں میں پناہ ڈھونڈتے کردار کی جسے روشنی کی طرف لانے کی لیے بس ضرورت ہے ایک سہارے کی۔
زندگی میں آیا ہر انسان اپنے اصل کی بنیادوں پر کھڑا ہوتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے گول گھومتی جلیبی کا ایک سرا اسے اس کے آخری سرے سے بالآخر جوڑ ہی دیتا ہے ، اپنے اصل کو پہنچاننے والا اطمینان اور ٹہراؤ کا پیکر ہوتا ہے اس کے بر عکس جو اپنے اصل کو بھول جائے وہ جا بجا کے روگ کا شکار ہوتا ہے
یہ کہانی ہے مزاح کی جس میں سبق ہے اپنے اصل کی جانب مڑنے کا ، یہ کردار آپ کو ہنسانے کے ساتھ ساتھ آپ کی اصلاح کریں گے تو شروع کرتے ہیں سفر ‘جلیبی’ کا