family based

Aaramish e Rooh Episode 2

NOVELS HUB SPECIAL NOVEL
یہ کہانی ایک جوان بیوہ ذرجان کی  ہے۔ جو اپنی زندگی اپنے بیٹے کی وجہ سے جی رہی تھی۔ اسکی زندگی پر سکون تھی جبتک اُسکا بچپن کا دوست اسکی زندگی میں واپس نہیں لوٹ آتا۔ جو آتے ساتھ ہی اپنی پسندیدگی کا اظہار کر دیتا ہے۔ اس مرکزی کہانی کے ساتھ اور بھی کہانیاں چلتی ہیں۔

Click Below to Read Novel on Forum Aaramish e Rooh by Wajeeha Asif – Forum Edition

Aaramish e Rooh Upcoming Novel

NOVELS HUB SPECIAL NOVEL
یہ کہانی ایک جوان بیوہ ذرجان کی  ہے۔ جو اپنی زندگی اپنے بیٹے کی وجہ سے جی رہی تھی۔ اسکی زندگی پر سکون تھی جبتک اُسکا بچپن کا دوست اسکی زندگی میں واپس نہیں لوٹ آتا۔ جو آتے ساتھ ہی اپنی پسندیدگی کا اظہار کر دیتا ہے۔ اس مرکزی کہانی کے ساتھ اور بھی کہانیاں چلتی ہیں۔

MARK YOUR CALENDARS TO START THE ROMANCE SAGA WITH NOVELS HUB – NOVEL WILL START PUBLISHING FROM 11TH SEPTEMBER.

 

Nafs Episode 3

اس کہانی میں انسان کے اپنے نفس کے ساتھ ایک ایسی جنگ کا ذکر ہے جہاں وہ دنیا کی خواہشات کے پیچھے خود کو کھو دینے کو ہوتا ہے۔ ہر کردار کی اپنی ایک کہانی یے۔ ان کے ماضی کے ٹراماز سے لر کر حال کی پریشانیوں تک۔ اس میں ہر کردار انسانی نفس کے ایک الگ پہلو کو سامنے لاتا ہے۔ اس میں دنیا سے دین تک کا سفر ہے، اور دین سے دنیا تک کا بھی۔

Hayaat e Yousuf Episode 1

*یوسف سلیمان*
مجھے ڈرامہ بالکل پسند نہیں۔
وہ گناہوں کی دنیا سے تعلق رکھنے والا ایک سفاک قاتل ہے، ایک ایسا قاتل جو اپنے شکار کو کبھی معاف نہیں کرتا اور اس کا شکار کبھی معصوم نہیں ہوتا۔ وہ اذیت ناک موت دینے میں ماہر ہے۔ قانون سے دو قدم آگے اور دنیا داری سے دو قدم پیچھے، یوسف سلیمان۔
*حیات سلطان*
مجھے دھوکہ اور دھوکہ دینے والے زہر لگتے ہیں”
دھوکے کے درمیان پلنے والی، ایک نازک ہرنی، مگر ہار نہ ماننے والی حیات سلطان۔
*داوود سلطان*
“مجھے قانون تو کیا، قانون کا باپ بھی نہیں پکڑ سکتا۔”
پر اعتماد، سفاک اور اپنے کام میں ماہر، وہ اڑتی چڑیا کے پر گن لینے والا شخص ہے، اپنے آس پاس کے لوگوں کو دھوکہ میں رکھنا اور ان کا فائدہ اٹھانے والا داوود سلطان۔
*حمید خان*
“اگر اس یوسف نام کی بلا کو کوئی مار سکتا ہے تو وہ میں ہوں۔”
بدعنوان، چالاک، گناہ کی دنیا کا ایک اہم پہلو، اپنے کام کو بخوبی جانتا ہے۔ 15 سال سے کوئی اسے چھو بھی نہیں پایا، جو چیز نظر بھر کے دیکھ لیتا ہے، وہ اس کی ہو جاتی ہے۔ خود کو زمینی خدا سمجھنے والا حمید خان۔
1 4 5 6 10