enemies to lovers

Qasas by Musfirah Zubair

 دو خاندان۔ دو دشمنیاں۔ ایک ایسی جنگ جو برسوں سے خاموشی سے جاری تھی۔
 ایک طرف، مغل خاندان کی طاقت، سیاست اور جرم میں لپٹی ہوئی سلطنت۔
 دوسری طرف، کیانی خاندان کے وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگیاں انصاف اور فرض کے نام کر دی تھیں۔
 کہانی اُس وقت نیا موڑ لیتی ہے جب مغل خاندان کی ایک وارث اپنی یادداشت کھو بیٹھتی ہے،
 اور تقدیر اُسے دشمن کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔  اُس دشمن کے سامنے جس کا مقصد اُسے استعمال کرنا تھا۔
 مگر کچھ سچ صرف وقت پر ظاہر ہوتے ہیں، اور کچھ رشتے دشمنی کے خول میں بھی دھڑکن بن جاتے ہیں۔
 یہ کہانی صرف انتقام کی نہیں، بلکہ دھوکے، شناخت اور محبت کی بھی ہے۔
 جہاں ایک لڑکی اپنے ہی خاندان کے خلاف دشمنوں کا ساتھ دیتی ہے۔
اور جہاں جنگ صرف میدانوں میں نہیں، دلوں کے اندر بھی لڑی جاتی ہے۔

Lail Episode 1 by Mah Rukh Zia

المیر عبدالہادی ، کہانی کا مرکزی کردار۔ کچھ گناہ ، پچھتاوے اور محرومیاں اس کے حصے میں آئی تھیں۔
لیل عبدالحد ، جس کا دل شیشے کی طرح صاف تھا اور اسی طرح نازک بھی ، وہ جلدی معاف کر دیتی تھی۔  وہ ہمیشہ رب سے راضی رہی۔
گردش وقت نے ان دو مختلف لوگوں کو ایک کر دیا۔ المیر کے لیے محبت ایک سزا تھی اور لیل کے لیے اعتبار۔
المیر بھی شیشہ گر تھا۔
وہ جو ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہ تھے۔ بھری دنیا میں ایک دوسرے کو ذلیل کیا۔ کیا ساری زندگی ساتھ گزار سکتے تھے؟ لیل کے ساتھ المیر نے سب سے بڑی نا انصافی کی تھی۔
اس کے کئی رنگ تھے ، رات کی طرح سیاہ ، آسمان کی طرح نیلا ، زمین کی طرح بھورا یا شاید جامنی بھی۔
ان سب رنگوں کو صرف ایک عورت پہچانتی تھی! لیل عبدالحد۔
پچھتاوے اور سزا سے آزاد ہو کر محبت کا یہ سفر تکلیف دہ سہی مگر خوبصورت ہے!۔

Mansha Episode 1 by Areeba Sami

اس کہانی کے کردار میرے دل کے بے حد قریب ہیں۔ اس کہانی میں ایک مافیا تنظیم کا ذکر ہے جو اٹلی سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ تنظیم ظلم، دہشت اور لڑکیوں کی اسمگلنگ کو ہمیشہ کے لیے جڑ سے ختم کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔
اس کہانی کے مرکزی کردار شاہزیب حیدر، فاروہ وقار، آمنہ احمد، دبیر حیدر، منیب احمد، حسیب احمد اور حانیہ احمد ہیں۔ ان سب کا اور ان کی تنظیم کا بس ایک ہی منشا ہے، اور وہ یہ کہ مجرموں کا صفایا کر کے عوام کو پُر سکون زندگی گزارنے کا حق دلایا جا سکے۔

Mansha Episode 2 by Areeba Sami

اس کہانی کے کردار میرے دل کے بے حد قریب ہیں۔ اس کہانی میں ایک مافیا تنظیم کا ذکر ہے جو اٹلی سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ تنظیم ظلم، دہشت اور لڑکیوں کی اسمگلنگ کو ہمیشہ کے لیے جڑ سے ختم کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔
اس کہانی کے مرکزی کردار شاہزیب حیدر، فاروہ وقار، آمنہ احمد، دبیر حیدر، منیب احمد، حسیب احمد اور حانیہ احمد ہیں۔ ان سب کا اور ان کی تنظیم کا بس ایک ہی منشا ہے، اور وہ یہ کہ مجرموں کا صفایا کر کے عوام کو پُر سکون زندگی گزارنے کا حق دلایا جا سکے۔

Ayn ul Hayat Episode 1 by Maviya Ansari

چار لوگ، ہر ایک اپنے زخموں اور کہانیوں کا بوجھ اٹھائے، تنہا راستوں پر چل رہے ہیں۔ پھر قسمت ایسا کھیل کھیلتی ہے کہ ان کی دنیا ایک دوسرے سے ٹکرا جاتی ہے۔ دشمنی کی چنگاریوں میں محبت کے پھول کھلنے لگتے ہیں، پہلی نظر میں دل بے اختیار دھڑکنے لگتا ہے، ایک خاموشی اور سنجیدگی کا پیکر تو دوسرا ہنسی اور روشنی کی کرن۔ اور ان سب کے بیچ ایک ایسی محبت جنم لیتی ہے جو دلوں کو نرم، آنکھوں کو نم اور روح کو مکمل کر دیتی ہے۔

Ayn ul Hayat Episode 2 by Maviya Ansari

چار لوگ، ہر ایک اپنے زخموں اور کہانیوں کا بوجھ اٹھائے، تنہا راستوں پر چل رہے ہیں۔ پھر قسمت ایسا کھیل کھیلتی ہے کہ ان کی دنیا ایک دوسرے سے ٹکرا جاتی ہے۔ دشمنی کی چنگاریوں میں محبت کے پھول کھلنے لگتے ہیں، پہلی نظر میں دل بے اختیار دھڑکنے لگتا ہے، ایک خاموشی اور سنجیدگی کا پیکر تو دوسرا ہنسی اور روشنی کی کرن۔ اور ان سب کے بیچ ایک ایسی محبت جنم لیتی ہے جو دلوں کو نرم، آنکھوں کو نم اور روح کو مکمل کر دیتی ہے۔

Fakeer e Muhabbat Episode 3 by Nida e Eman

یہ کہانی ہے یک طرفہ عشق کی محبت میں رسوائی کی ایک ایسی لڑکی کی جو نامحرم سے محبت کر بیٹھی۔ ایسا نوجوان جسے وقت نے سفاک بنا دیا جو بدلےکی آگ میں جل رہا تھا جسے اپنی ماں کی موت کا بدلہ لینا تھا یہ کہانی ہے پچھتاوے کی اس لڑکی سے عشق کی جس کا عشق اس نے پا کر بھی کھو دیا ۔

Shajar e Nidamat Episode 3 by Syeda Nimra Batool

شجرِ ندامت کے مرکزی کردار ہیں حمدان عالم٫ سندس جہانگیر اور انکے چار بچے:
 زوبیہ حمدان ( ایکٹریس)
 زاویار حمدان ( بزنس مین)
زنیرہ حمدان( بزنس ویمن)
ذید حمدان( سٹوڈنٹ )
حمدان عالم اور اُنکی اہلیہ سندس جہانگیر کا شمار ملک کے کامیاب ترین لوگوں کی فہرست میں ہوتا ہے جنہوں نے بزنس کی دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔ ذہانت میں دونوں بےمثال ہیں مگر فطرتاً دونوں انا پرست، مغرور اور غصے کے تیز ہے۔ طاقت کے نشے نے اُنکی فطرت میں تکبر کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ اپنے سامنے کسی دوسرے کی بات سنے جانا اُنکو توہین لگتا ہے یہاں تک کہ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کی بات سے بھی وقت بے وقت اختلاف کرتے رہتے ہیں۔ ایک جیسی فطرت کے لوگ اگر ساتھ رہنے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو انکا گھر جنت نہیں بن پاتا کُچھ یہی حال حمدان اور سندس کے گھر کا بھی ہے ۔ بات بات پر اختلاف اور لڑائی جھگڑے نے اُنکے بچوں کو بھی گھمنڈی اور فطرتاً بدتمیز بنا دیا ہے۔ عالمز فیملی دنیا کے سامنے پرفیکٹ فیملی ہونے کا ناٹک کمیابی سے کرتی ہے مگر درحقیقت ہر ایک فرد اندر سے کھوکھلا ہے۔
دنیا کے سامنے پرفیکٹ فیملی نظر آنے والے عالمز کا تختہ اُس وقت الٹ جائےگا جب کہانی کے ولن کی کامیاب چال کے نتیجے میں ہونے والے جھگڑے میں حمدان عالم غصے میں سندس جہانگیر کو طلاق دے دینگے۔ یہ خبر میڈیا پر آتے ہی اُنکے اسٹاک مارکیٹ میں گر جائینگے۔ عالمز کی شناخت کو اس اسکینڈل سے بہت نقصان پہنچے گا۔ طلاق اور پھر حلالہ کی کوشش حمدان عالم اور سندس جہانگیر کے بچوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دے گی۔ دنیا کو ٹھوکر پر رکھنے والے دنیا کا سامنا کرنے سے گریز کریں گے۔ حمدان عالم اور سندس جہانگیر دونوں کی دوسری شادی کے بعد اُنکے بچےکس طرح خود کو سنبھالیں گے اور کیسے مختلف حالات کا مقابلہ کرینگے یہ ناول اُس سفر کے گرد گھومے گا جس میں بہت سے مختلف کردار آئینگے، ماضی کے اوراق بھی کھولے جائیں گے اور اس سفر میں سب اپنا کردار ادا کریں گے۔
یہ کہانی امیر طبقے کے اُس حصے پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہے جہاں کے والدین اپنے بچوں کی ضروریات کو پورا کردیتے ہیں مگر انکی بہترین تربیت کرنا بھول جاتے ہیں۔ کہانی کا اختمام بتائے گا کہ زمین پر اکڑ کر چلنے والوں کو وقت کیسے انکساری سے پیش آنا سکھاتا ہے اور کس طرح حمدان عالم اور سندس جہانگیر دوسرا موقع ملنے پر اپنی اپنی غلطیوں کو سدھاریں گے۔ اس کے علاوہ یہ ناول فرسودہ رسم جس میں عورت کا نکاح قران سے پڑھا دیا جاتا تھا اور حلالہ کا کنسیپٹ جس کو بہت غلط طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے، پر بھی روشنی ڈالے گا۔

Qalb e Siyah by Wania Maqsood

یہ کہانی  اُن لوگوں کی عکاسی کرتی ہے جو اپنی تکلیفوں، محرومیوں اور غلط فیصلوں کے ہاتھوں اپنے دل کو سیاہ کر چکے ہوتے ہیں وہ لوگ جو وقت کے ساتھ اپنی اصل پہچان کھو دیتے ہیں، وہ رشتے، وہ جذبے، وہ احساسات جو اُن کی زندگی کا حقیقی حسن تھے سب کچھ کھو بیٹھتے ہیں۔
یہ کہانی اُن کے لیے بھی ہے جو دکھ کو چھپاتے ہیں، جو مسکراتے چہروں کے پیچھے بکھرے وجود رکھتے ہیں، اور اُن کے لیے بھی جو سمجھتے ہیں کہ سیاہی صرف رنگوں میں ہوتی ہے… دلوں میں نہیں۔
1 6 7 8 14