یہ کہانی صرف تین لوگوں کی نہیں… بلکہ ان احساسات کی ہے۔ یہ کہانی ہے مہرو، حزامہ اور ابراہیم کی جہاں ایک انجانی دھن اور خاموش سرگوشیاں ان کی زندگی میں ایک ایسے وجود کو لے آتی ہیں جو کبھی گیا ہی نہیں تھا… بس خاموش ہو گیا تھا۔ وہ خود سامنے نہیں آتا۔
بلکہ ایک خیال بن کر آہستہ آہستہ دل اور ذہن میں جگہ بناتا ہے،
وسوسوں کی طرح پھیلتا ہے…
اور ہر سوچ پر حاوی ہو جاتا ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے،
یہ راز گہرا ہوتا جاتا ہے اور تینوں ایک ایسی حقیقت کے قریب پہنچتے ہیں، جس کی واپسی…
شاید پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔