Cousin Marriage Based

Dilon Ke Ayene by Naeema Naaz

Dilon Ke Ayene Is a Enemies to Lovers Based, Cousin Marriage Based, Family Drama, Chef Hero Based, Romantic Comedy Based  Novel by Naeema Naaz Published in Shuaa Digest November 2025.
ناول: دلوں کے آئینے
مصنفہ: نعیمہ ناز
شعاع ڈائجسٹ نومبر۲۰۲۵
تبصرہ نگار: اقراء عنایت اللہ
یہ کہانی دو کزنز کی ہے جو بچپن سے ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں، وجہ یہ تھی ( ہیرو کے والد ہمیشہ اس کا موازنہ اپنی بھتیجی سے کرتے رہتے تھے) وقت گزرنے کے باوجود یہ دشمنی برقرار رہی۔ پھر اچانک ایک موڑ آیا جب ان کے بیرونِ ملک رہنے والے کزن پاکستان آئے۔ ایک دوسرے کو نظر انداز کرنے کے لیے دونوں نے ان کزنز پر توجہ دینی شروع کر دی۔ جب بات حد سے آگے بڑھ گئی تو انہیں احساس ہوا کہ وہ دراصل ایک دوسرے کے لیے جیلس ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی بے توقیری انہیں پسند نہیں آتی۔ رفتہ رفتہ انہیں اندازہ ہونے لگا کہ وہ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے ہیں۔ مگر تب تک کچھ فیصلے دیر سے ہوچکے ہوتے ہیں، جس سے کہانی میں ٹویسٹ آتا ہے۔
میل ہیڈ کے ابو اور امی کے سینز بہت مزاحیہ اور دلچسپ ہیں جو کہانی کو مزید ہلکا پھلکا اور فیملی ٹچ دیتے ہیں۔ ناول میں مزاح، لڑائیاں، محبت اور ہلکا پھلکا ڈرامہ سب شامل ہے۔
یہ ناول ایک بار پڑھنے کے لیے اچھا اور مزے دار ہے۔

Wo Jo Lafzon Ke Darmyan Hai by Aasiya Raees Khan

Wo Jo Lafzon Ke Darmyan Hai is a Cousin Marriage Based, Age Difference Based, Bullying Based, Family Drama Based Novel by Aasiya Raees Khan Published in Khawateen Digest November 2025.
ناول: وہ جو لفظوں کے درمیان تھے از آسیہ رئیس خان
خواتین ڈائجسٹ نومبر ۲۰۲۵
تبصرہ نگار: اقراء عنایت اللہ
بُلنگ صرف وہ شخص نہیں کرتا جو تنگ کر رہا ہوتا ہے، بلکہ وہ لوگ بھی ذمہ دار ہوتے ہیں جو سب کچھ دیکھ کر خاموش رہ جاتے ہیں۔ اکثر خاندان میں بچے اپنے ہی کزنز کے ہاتھوں بُلنگ کا شکار ہوتے ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ مذاق نہیں بلکہ اُن کے دل پر لگنے والے زخم ہیں۔ جب بڑے لوگ چپ رہیں تو ظالم کو حوصلہ ملتا ہے اور مظلوم مزید ڈر جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم تب ہی جاگتے ہیں جب بچے کا اعتماد ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ معاشرے کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم خاموش تماشائی نہ بنیں، ورنہ قصور صرف بدمعاش کا نہیں، ہمارا بھی ہوتا ہے۔
اس کہانی کا مرکزی کردار “ ساحل “بھی اسی طرح کی بُلیئنگ کا شکار تھا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو بچے ہوسٹل میں رہتے ہیں انہیں بہت تنگ کیا جاتا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کا ساتھ دینے کے بجائے انہیں وہی سخت جواب دینے کی تربیت دیتے ہیں۔ ساحل کے والد بھی ایسے ہی والدین کی تصویر ہیں جو اپنے بچوں کو ہوسٹل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں، نہ ان کی بات سنتے ہیں اور نہ توجہ دیتے ہیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ والدین دور رہنے والے بچوں پر زیادہ توجہ دیں۔ ان کی غفلت بچوں کے ذہن اور دل دونوں کو زخمی کر دیتی ہے، اور بعض زخم پوری زندگی نہیں بھرتے۔
ساحل نے اپنے دردناک وقت اور تکلیف کو ایک کتاب میں لکھا، اس امید سے کہ شاید اس کے والد اور گھر والے پڑھ کر اس کے احساسات سمجھ سکیں۔ لیکن افسوس، کسی نے اس کی تحریر پڑھنے کی تکلیف تک نہ کی، بس مبارک باد دے دی اور بات ختم۔
پتہ نہیں ہمارے ارد گرد کتنے اور بچے ہوں گے جو ایسی زیادتیاں خاموشی سے برداشت کرتے رہتے ہیں۔ اگر ہم آج دوسروں کو بُلی ہوتا دیکھ کر خاموش رہیں گے تو کل یہی سب ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، اور لوگ ویسے ہی تماشائی بنے رہیں گے جیسے آج ہم ہیں۔
اس ظلم کے چکر کو کون توڑے؟ victim برداشت کرتا رہے، bully ظلم کرتا رہے، اور باقی لوگ چپ رہیں، تو تبدیلی کیسے آئے؟
آسیہ رئیس بلاشبہ اپنے ہر نئے ناول میں کوئی نہ کوئی ایسا احساس اور موضوع ضرور لاتی ہیں جسے ہمارے معاشرے میں کوئی توجہ نہیں دیتا۔ وہ باتیں جو بے حد ضروری ہوتی ہیں، جنہیں ہم محسوس تو کرتے ہیں مگر کبھی کھل کر زیرِ بحث نہیں لاتے، ان پر نہ کوئی سنجیدہ گفتگو ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی حل تلاش کیا جاتا ہے۔ یہ ان کی تحریر کی وہ خوبی ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
اگر آپ لوگوں نے یہ ناول پڑھا ہے تو اپنی رائے ضرور دیں

Rah e Hayat Episode 2 by Lubaba Minahil

کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو لکھا تو جاتا ہے اور ان کو پڑھتے ہوئے قارئین متاثر بھی ہوتے ہیں اس کے باوجود ان مسائل کو حقیقی زندگی میں دیکھنے پر ان کو سرے سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ یہ کہانی انہی مسائل پر ہے جس کا نتیجہ مجھے بطور لکھاری اور قارئین پتہ ہے پھر بھی میں نے اس موضوع کو چھیڑا ہے جس کو ہماری دنیا مسائل میں شمار بھی نہیں کرتی اور وہ مسئلہ ہے “ذہنی امراض” کا ۔ یہ کہانی اسی کے گرد گھومتی ہے ۔

Aur Dhoop Mein Barish Hone Lagi by Fareeha Mirza

“اور دھوپ میں بارش ہونے لگی” میرا تیسرا ناول ہے۔ یہ کہانی ہے دھوپ چھاؤں جیسا مزاج رکھنے والے دائود عالم کی اور ساون کی بارش کی طرح ٹوٹ کر برسنے والے کرداروں کی۔
اس کہانی میں چار کردار ہیں: عالم، عشل، موسیٰ اور فارحہ۔ چاروں اپنے اپنے رنگ رکھتے ہیں مگر کبھی کبھی یہ رنگ ایک دوسرے میں گھل جاتے ہیں۔
عالم اور عشل کی زندگی ایک مجبوری کے دھاگے میں بندھی ہوئی ہے۔ ساتھ رہ کر بھی ساتھ نہیں۔ ہر لمحہ ضد، ہر پل جھگڑا۔ جیسے دھوپ اور بارش، جنہیں ایک دوسرے کا ہونا بھی برداشت ہے اور نہ ہونا بھی۔ مگر سوال باقی ہے… کیا نفرت کے بیچ محبت کا بیج کبھی پھوٹ سکے گا؟
فارحہ کی زندگی ایک الجھی ہوئی دور کی مانند ہے۔ باہر سے سادہ، اندر سے پیچیدہ۔ اس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی پر اعتماد نہیں کر پاتی۔ محبت سامنے آ بھی جائے تو وہ آنکھیں پھیر لیتی ہے۔
موسیٰ بن محمد اس کہانی کا وہ کردار ہے جو محبت کی زبان سمجھتا ہے۔ مگر اس کے حصے میں ہمیشہ دھوپ کی تپش اور رات کی تنہائیاں آئیں۔ ہجر اس کی تقدیر بن گیا ہے۔ سوال یہ ہے کیا کبھی ستاروں کی چھاؤں اسے بھی نصیب ہوگی؟ کیا کبھی محبت اس پر مہرباں ہو گی؟
یہ ناول انہی چاروں کرداروں کی کہانی ہے۔ دھوپ اور چھاؤں کی۔ ہجر اور وصال کی۔ رشتوں کے بوجھ اور دل کی چاہت کی۔ کبھی دھوپ چبھتی ہے، کبھی بارش ٹوٹ کر برستی ہے۔ اور انہی کے بیچ زندگی اپنی اصل کہانی لکھتی ہے۔

Shaam Ki Mundair Se by Mawra Talha

Shaam Ki Mundair Se is a Cousin Marriage Based, Age Difference Based, Love To Hate Based, Forced Marriage Based Romantic Novel by Mawra Talha Shuaa Digest December 2025.
 شام کی منڈیر سے ازقلم ماورا طلحہ
شعاع ڈائجسٹ دسمبر ۲۰۲۵
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
اس کہانی میں جو پہلو مجھے سب سے زیادہ پسند آیا، وہ “ عمر کے فرق” کا تھا۔سودہ ولی سے عمر میں تقریباً دس سال بڑی ہوتی ہے اور دونوں کزنز ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان خاصی اچھی بانڈنگ ہوتی ہے، جسے دیکھ کر ان کے بابا ان کا نکاح کروا دیتے ہیں۔
لیکن یہ فیصلہ دونوں کے لیے آسان نہیں ہوتا اور اس رشتے کو قبول کرنا ان کے لیے مشکل بن جاتا ہے۔ اسی دوران ولی کو کئی غلط فہمیاں ہو جاتی ہیں، جن کی وجہ سے وہ ملک چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔
کافی عرصے بعد وہ اپنے بابا کی وفات پر واپس آتا ہے، مگر واپسی کے بعد سودہ کے ساتھ اس کا رویہ سخت اور تلخ ہو جاتا ہے۔ اب جب آپ کہانی پڑھیں گے تو معلوم ہوگا کہ آخرکار ان دونوں کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں یا نہیں۔

Muhabbat Moatbar Thehri by Rashida Riffat

Muhabbat Moatbar Thehri is a Cousin Marriage Based, Family Drama Based Novel by Rashida Riffat Published in Khawateen Digest December 2025.
ناول: محبت معتبر ٹھہری از راشدہ رفعت
خواتین ڈائجسٹ دسمبر ۲۰۲۵
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
یہ کہانی بہت اچھی تھی اور ایک بار پڑھنے کے لیے بہترین ہے۔ مصنفہ کا لکھنے کا انداز بے حد خوبصورت ہے، جس کی وجہ سے کہانی پڑھتے ہوئے خوب لطف آیا۔ دونوں مرکزی کرداروں کے درمیان کیمسٹری بھی مجھے خاصی پسند آئی۔
کیا آپ نے یہ کہانی پڑھی ہے؟
1 8 9 10 11