Cousin Marriage Based

Rah e Hayat Episode 2 by Lubaba Minahil

کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو لکھا تو جاتا ہے اور ان کو پڑھتے ہوئے قارئین متاثر بھی ہوتے ہیں اس کے باوجود ان مسائل کو حقیقی زندگی میں دیکھنے پر ان کو سرے سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ یہ کہانی انہی مسائل پر ہے جس کا نتیجہ مجھے بطور لکھاری اور قارئین پتہ ہے پھر بھی میں نے اس موضوع کو چھیڑا ہے جس کو ہماری دنیا مسائل میں شمار بھی نہیں کرتی اور وہ مسئلہ ہے “ذہنی امراض” کا ۔ یہ کہانی اسی کے گرد گھومتی ہے ۔

Wo Jo Lafzon Ke Darmyan Hai by Aasiya Raees Khan

Wo Jo Lafzon Ke Darmyan Hai is a Cousin Marriage Based, Age Difference Based, Bullying Based, Family Drama Based Novel by Aasiya Raees Khan Published in Khawateen Digest November 2025.
ناول: وہ جو لفظوں کے درمیان تھے از آسیہ رئیس خان
خواتین ڈائجسٹ نومبر ۲۰۲۵
تبصرہ نگار: اقراء عنایت اللہ
بُلنگ صرف وہ شخص نہیں کرتا جو تنگ کر رہا ہوتا ہے، بلکہ وہ لوگ بھی ذمہ دار ہوتے ہیں جو سب کچھ دیکھ کر خاموش رہ جاتے ہیں۔ اکثر خاندان میں بچے اپنے ہی کزنز کے ہاتھوں بُلنگ کا شکار ہوتے ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ مذاق نہیں بلکہ اُن کے دل پر لگنے والے زخم ہیں۔ جب بڑے لوگ چپ رہیں تو ظالم کو حوصلہ ملتا ہے اور مظلوم مزید ڈر جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم تب ہی جاگتے ہیں جب بچے کا اعتماد ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ معاشرے کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم خاموش تماشائی نہ بنیں، ورنہ قصور صرف بدمعاش کا نہیں، ہمارا بھی ہوتا ہے۔
اس کہانی کا مرکزی کردار “ ساحل “بھی اسی طرح کی بُلیئنگ کا شکار تھا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو بچے ہوسٹل میں رہتے ہیں انہیں بہت تنگ کیا جاتا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کا ساتھ دینے کے بجائے انہیں وہی سخت جواب دینے کی تربیت دیتے ہیں۔ ساحل کے والد بھی ایسے ہی والدین کی تصویر ہیں جو اپنے بچوں کو ہوسٹل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں، نہ ان کی بات سنتے ہیں اور نہ توجہ دیتے ہیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ والدین دور رہنے والے بچوں پر زیادہ توجہ دیں۔ ان کی غفلت بچوں کے ذہن اور دل دونوں کو زخمی کر دیتی ہے، اور بعض زخم پوری زندگی نہیں بھرتے۔
ساحل نے اپنے دردناک وقت اور تکلیف کو ایک کتاب میں لکھا، اس امید سے کہ شاید اس کے والد اور گھر والے پڑھ کر اس کے احساسات سمجھ سکیں۔ لیکن افسوس، کسی نے اس کی تحریر پڑھنے کی تکلیف تک نہ کی، بس مبارک باد دے دی اور بات ختم۔
پتہ نہیں ہمارے ارد گرد کتنے اور بچے ہوں گے جو ایسی زیادتیاں خاموشی سے برداشت کرتے رہتے ہیں۔ اگر ہم آج دوسروں کو بُلی ہوتا دیکھ کر خاموش رہیں گے تو کل یہی سب ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، اور لوگ ویسے ہی تماشائی بنے رہیں گے جیسے آج ہم ہیں۔
اس ظلم کے چکر کو کون توڑے؟ victim برداشت کرتا رہے، bully ظلم کرتا رہے، اور باقی لوگ چپ رہیں، تو تبدیلی کیسے آئے؟
آسیہ رئیس بلاشبہ اپنے ہر نئے ناول میں کوئی نہ کوئی ایسا احساس اور موضوع ضرور لاتی ہیں جسے ہمارے معاشرے میں کوئی توجہ نہیں دیتا۔ وہ باتیں جو بے حد ضروری ہوتی ہیں، جنہیں ہم محسوس تو کرتے ہیں مگر کبھی کھل کر زیرِ بحث نہیں لاتے، ان پر نہ کوئی سنجیدہ گفتگو ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی حل تلاش کیا جاتا ہے۔ یہ ان کی تحریر کی وہ خوبی ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
اگر آپ لوگوں نے یہ ناول پڑھا ہے تو اپنی رائے ضرور دیں

Dilon Ke Ayene by Naeema Naaz

Dilon Ke Ayene Is a Enemies to Lovers Based, Cousin Marriage Based, Family Drama, Chef Hero Based, Romantic Comedy Based  Novel by Naeema Naaz Published in Shuaa Digest November 2025.
ناول: دلوں کے آئینے
مصنفہ: نعیمہ ناز
شعاع ڈائجسٹ نومبر۲۰۲۵
تبصرہ نگار: اقراء عنایت اللہ
یہ کہانی دو کزنز کی ہے جو بچپن سے ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں، وجہ یہ تھی ( ہیرو کے والد ہمیشہ اس کا موازنہ اپنی بھتیجی سے کرتے رہتے تھے) وقت گزرنے کے باوجود یہ دشمنی برقرار رہی۔ پھر اچانک ایک موڑ آیا جب ان کے بیرونِ ملک رہنے والے کزن پاکستان آئے۔ ایک دوسرے کو نظر انداز کرنے کے لیے دونوں نے ان کزنز پر توجہ دینی شروع کر دی۔ جب بات حد سے آگے بڑھ گئی تو انہیں احساس ہوا کہ وہ دراصل ایک دوسرے کے لیے جیلس ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی بے توقیری انہیں پسند نہیں آتی۔ رفتہ رفتہ انہیں اندازہ ہونے لگا کہ وہ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے ہیں۔ مگر تب تک کچھ فیصلے دیر سے ہوچکے ہوتے ہیں، جس سے کہانی میں ٹویسٹ آتا ہے۔
میل ہیڈ کے ابو اور امی کے سینز بہت مزاحیہ اور دلچسپ ہیں جو کہانی کو مزید ہلکا پھلکا اور فیملی ٹچ دیتے ہیں۔ ناول میں مزاح، لڑائیاں، محبت اور ہلکا پھلکا ڈرامہ سب شامل ہے۔
یہ ناول ایک بار پڑھنے کے لیے اچھا اور مزے دار ہے۔

Firaq Episode 1 to 3 by Sitara Zaman

یہ کہانی ہے ایک ایسی بیٹی کی جس کے خوف نے اس کے اندر سے باپ کی عزت کا ڈر نکال دیا۔ وہ محبت کے پیچھے نہیں تھی، وہ آزادی کے پیچھے تھی، اسے اپنی معصومیت بچانی تھی۔ لیکن اس کی ایک غلط قدم نے سب کچھہ تباھہ کردیا۔ اس نے محبت کرنے والا شفیق باپ کھودیا
چند ایسی زندگیاں جنہوں نے اپنے بڑوں کے کیئے بہگتے۔ جن کے نصیب میں فقط فراق لکھا گیا۔
یہ کہانی ہے ان لوگوں کیلئے جنہیں کبھی محبتیں نہیں ملیں۔ سب کچھہ قربان کرنے کے بعد بھی ہاتھہ خالی رھہ گئے…. اور آخر میں بچا “کاش۔۔۔”

Rah e Hayat Episode 1 by Lubaba Minahil

کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو لکھا تو جاتا ہے اور ان کو پڑھتے ہوئے قارئین متاثر بھی ہوتے ہیں اس کے باوجود ان مسائل کو حقیقی زندگی میں دیکھنے پر ان کو سرے سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ یہ کہانی انہی مسائل پر ہے جس کا نتیجہ مجھے بطور لکھاری اور قارئین پتہ ہے پھر بھی میں نے اس موضوع کو چھیڑا ہے جس کو ہماری دنیا مسائل میں شمار بھی نہیں کرتی اور وہ مسئلہ ہے “ذہنی امراض” کا ۔ یہ کہانی اسی کے گرد گھومتی ہے ۔
1 2 3 4 11