Cousin Marriage Based

Umeedon Ka Dia Novel by Dania Sami

Umeedon Ka Dia Is a Cousin Marriage Based, Caring Hero Based, Strong Female Lead, Age Difference Based Novel by Dania Sami Published in Shuaa Digest January 2026.
امیدوں کا دیا از دانیہ سیمع
تبصرہنگار: اقراءعنایت
شعاعڈائجسٹ جنوری ۲۰۲۶
یہ کہانی بہت اچھی ہے اور ایک بار پڑھنے جیسی ہے۔ مجھے اسے پڑھ کر بے حد لطف آیا۔
مصنفہ نے نہایت بہترین انداز میں سماجی مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے یہ بخوبی دکھایا ہے کہ انا اور ضد کس طرح انسان سے بہت کچھ چھین لیتی ہیں، مگر بعض اوقات یہی انا اپنے ہی لوگوں کی طرف سے دیے گئے گہرے زخموں اور ٹوٹے ہوئے اعتماد کا نتیجہ ہوتی ہے۔
مصنفہ نے اس حقیقت کو بھی خوبصورتی سے پیش کیا ہے کہ وہ نوعمر بچے جن پر اکثر والدین یا بہن بھائی توجہ نہیں دیتے، کس طرح دوسروں میں اپنا سکون اور کمفرٹ زون تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور پھر کس طرح وہ غلط لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہو جاتے ہیں۔
مرکزی کردارو کی کیمسٹری اور لطیف سے مکالموں نے کہانی میں جان ڈال دی ہے۔
کیا آپ نے یہ کہانی پڑہی ہے؟

Uzr e Gunah by Bushra Ilyas

عذر گناہ ، عذرگناہ ایک گہر ا لفظ نہیں ہے میرا نہیں خیال کہ اس کے معنی کسی کو سمجھ نہ آئیں۔خیر!ہم جو گناہ کرتے ہیں۔ ان میں چند ہی گناہوں کو تسلیم بھی کرتے ہیں ۔بعض گناہوں پر عذر پیش کردیتے ہیں۔ایسا عذر جو اگر دوسرا شخص سن لے تو اسے وہ بے مطلب لگے اور ہم کند ذہن۔
ایسے ہی عذر گناہ کے تمام کردار ہیں جن کے پاس بھی یہ عذر موجود ہے۔

Wo Jo Lafzon Ke Darmyan Hai by Aasiya Raees Khan

Wo Jo Lafzon Ke Darmyan Hai is a Cousin Marriage Based, Age Difference Based, Bullying Based, Family Drama Based Novel by Aasiya Raees Khan Published in Khawateen Digest November 2025.
ناول: وہ جو لفظوں کے درمیان تھے از آسیہ رئیس خان
خواتین ڈائجسٹ نومبر ۲۰۲۵
تبصرہ نگار: اقراء عنایت اللہ
بُلنگ صرف وہ شخص نہیں کرتا جو تنگ کر رہا ہوتا ہے، بلکہ وہ لوگ بھی ذمہ دار ہوتے ہیں جو سب کچھ دیکھ کر خاموش رہ جاتے ہیں۔ اکثر خاندان میں بچے اپنے ہی کزنز کے ہاتھوں بُلنگ کا شکار ہوتے ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ مذاق نہیں بلکہ اُن کے دل پر لگنے والے زخم ہیں۔ جب بڑے لوگ چپ رہیں تو ظالم کو حوصلہ ملتا ہے اور مظلوم مزید ڈر جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم تب ہی جاگتے ہیں جب بچے کا اعتماد ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ معاشرے کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم خاموش تماشائی نہ بنیں، ورنہ قصور صرف بدمعاش کا نہیں، ہمارا بھی ہوتا ہے۔
اس کہانی کا مرکزی کردار “ ساحل “بھی اسی طرح کی بُلیئنگ کا شکار تھا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو بچے ہوسٹل میں رہتے ہیں انہیں بہت تنگ کیا جاتا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کا ساتھ دینے کے بجائے انہیں وہی سخت جواب دینے کی تربیت دیتے ہیں۔ ساحل کے والد بھی ایسے ہی والدین کی تصویر ہیں جو اپنے بچوں کو ہوسٹل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں، نہ ان کی بات سنتے ہیں اور نہ توجہ دیتے ہیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ والدین دور رہنے والے بچوں پر زیادہ توجہ دیں۔ ان کی غفلت بچوں کے ذہن اور دل دونوں کو زخمی کر دیتی ہے، اور بعض زخم پوری زندگی نہیں بھرتے۔
ساحل نے اپنے دردناک وقت اور تکلیف کو ایک کتاب میں لکھا، اس امید سے کہ شاید اس کے والد اور گھر والے پڑھ کر اس کے احساسات سمجھ سکیں۔ لیکن افسوس، کسی نے اس کی تحریر پڑھنے کی تکلیف تک نہ کی، بس مبارک باد دے دی اور بات ختم۔
پتہ نہیں ہمارے ارد گرد کتنے اور بچے ہوں گے جو ایسی زیادتیاں خاموشی سے برداشت کرتے رہتے ہیں۔ اگر ہم آج دوسروں کو بُلی ہوتا دیکھ کر خاموش رہیں گے تو کل یہی سب ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، اور لوگ ویسے ہی تماشائی بنے رہیں گے جیسے آج ہم ہیں۔
اس ظلم کے چکر کو کون توڑے؟ victim برداشت کرتا رہے، bully ظلم کرتا رہے، اور باقی لوگ چپ رہیں، تو تبدیلی کیسے آئے؟
آسیہ رئیس بلاشبہ اپنے ہر نئے ناول میں کوئی نہ کوئی ایسا احساس اور موضوع ضرور لاتی ہیں جسے ہمارے معاشرے میں کوئی توجہ نہیں دیتا۔ وہ باتیں جو بے حد ضروری ہوتی ہیں، جنہیں ہم محسوس تو کرتے ہیں مگر کبھی کھل کر زیرِ بحث نہیں لاتے، ان پر نہ کوئی سنجیدہ گفتگو ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی حل تلاش کیا جاتا ہے۔ یہ ان کی تحریر کی وہ خوبی ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
اگر آپ لوگوں نے یہ ناول پڑھا ہے تو اپنی رائے ضرور دیں
1 10 11