Age Difference Based

Shaam Ki Mundair Se by Mawra Talha

Shaam Ki Mundair Se is a Cousin Marriage Based, Age Difference Based, Love To Hate Based, Forced Marriage Based Romantic Novel by Mawra Talha Shuaa Digest December 2025.
 شام کی منڈیر سے ازقلم ماورا طلحہ
شعاع ڈائجسٹ دسمبر ۲۰۲۵
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
اس کہانی میں جو پہلو مجھے سب سے زیادہ پسند آیا، وہ “ عمر کے فرق” کا تھا۔سودہ ولی سے عمر میں تقریباً دس سال بڑی ہوتی ہے اور دونوں کزنز ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان خاصی اچھی بانڈنگ ہوتی ہے، جسے دیکھ کر ان کے بابا ان کا نکاح کروا دیتے ہیں۔
لیکن یہ فیصلہ دونوں کے لیے آسان نہیں ہوتا اور اس رشتے کو قبول کرنا ان کے لیے مشکل بن جاتا ہے۔ اسی دوران ولی کو کئی غلط فہمیاں ہو جاتی ہیں، جن کی وجہ سے وہ ملک چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔
کافی عرصے بعد وہ اپنے بابا کی وفات پر واپس آتا ہے، مگر واپسی کے بعد سودہ کے ساتھ اس کا رویہ سخت اور تلخ ہو جاتا ہے۔ اب جب آپ کہانی پڑھیں گے تو معلوم ہوگا کہ آخرکار ان دونوں کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں یا نہیں۔

Sukoon e Qalb Ho Tum

یہ کہانی ہے مفرہ اور جازم کی دو کزنوں کی جن میں بھائی بہن والی عقیدت تھی۔اس کہانی میں رشتوں کی بقاء کی خاطر کیسے وہ اپنی ہی چھوٹی عمر کے لڑکے سے نکاح سے رضامند ہوئی۔یہ ناول دوستی کے دوغلے پن کو کھول کر سامنے لائے گا۔

Taqazaye Muhabbat by Maham Mughal

کہانی ہے ایک لڑکی کی جس کا ہونے والا شوہر اس کی شادی والے دن مارا جاتا اور اس کو ونی کے بدلے اس کے بھائی سے بیاہا جاتا ہے لیکن کہانی ایک نیا موڑ لیتی ہے جس میں کچھ حیران کن چیزیں سامنے آتی ہیں رشتوں کی بےلوث محبت دکھائی جاتی ہے۔

Wo Jo Lafzon Ke Darmyan Hai by Aasiya Raees Khan

Wo Jo Lafzon Ke Darmyan Hai is a Cousin Marriage Based, Age Difference Based, Bullying Based, Family Drama Based Novel by Aasiya Raees Khan Published in Khawateen Digest November 2025.
ناول: وہ جو لفظوں کے درمیان تھے از آسیہ رئیس خان
خواتین ڈائجسٹ نومبر ۲۰۲۵
تبصرہ نگار: اقراء عنایت اللہ
بُلنگ صرف وہ شخص نہیں کرتا جو تنگ کر رہا ہوتا ہے، بلکہ وہ لوگ بھی ذمہ دار ہوتے ہیں جو سب کچھ دیکھ کر خاموش رہ جاتے ہیں۔ اکثر خاندان میں بچے اپنے ہی کزنز کے ہاتھوں بُلنگ کا شکار ہوتے ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ مذاق نہیں بلکہ اُن کے دل پر لگنے والے زخم ہیں۔ جب بڑے لوگ چپ رہیں تو ظالم کو حوصلہ ملتا ہے اور مظلوم مزید ڈر جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم تب ہی جاگتے ہیں جب بچے کا اعتماد ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ معاشرے کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم خاموش تماشائی نہ بنیں، ورنہ قصور صرف بدمعاش کا نہیں، ہمارا بھی ہوتا ہے۔
اس کہانی کا مرکزی کردار “ ساحل “بھی اسی طرح کی بُلیئنگ کا شکار تھا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو بچے ہوسٹل میں رہتے ہیں انہیں بہت تنگ کیا جاتا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کا ساتھ دینے کے بجائے انہیں وہی سخت جواب دینے کی تربیت دیتے ہیں۔ ساحل کے والد بھی ایسے ہی والدین کی تصویر ہیں جو اپنے بچوں کو ہوسٹل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں، نہ ان کی بات سنتے ہیں اور نہ توجہ دیتے ہیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ والدین دور رہنے والے بچوں پر زیادہ توجہ دیں۔ ان کی غفلت بچوں کے ذہن اور دل دونوں کو زخمی کر دیتی ہے، اور بعض زخم پوری زندگی نہیں بھرتے۔
ساحل نے اپنے دردناک وقت اور تکلیف کو ایک کتاب میں لکھا، اس امید سے کہ شاید اس کے والد اور گھر والے پڑھ کر اس کے احساسات سمجھ سکیں۔ لیکن افسوس، کسی نے اس کی تحریر پڑھنے کی تکلیف تک نہ کی، بس مبارک باد دے دی اور بات ختم۔
پتہ نہیں ہمارے ارد گرد کتنے اور بچے ہوں گے جو ایسی زیادتیاں خاموشی سے برداشت کرتے رہتے ہیں۔ اگر ہم آج دوسروں کو بُلی ہوتا دیکھ کر خاموش رہیں گے تو کل یہی سب ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، اور لوگ ویسے ہی تماشائی بنے رہیں گے جیسے آج ہم ہیں۔
اس ظلم کے چکر کو کون توڑے؟ victim برداشت کرتا رہے، bully ظلم کرتا رہے، اور باقی لوگ چپ رہیں، تو تبدیلی کیسے آئے؟
آسیہ رئیس بلاشبہ اپنے ہر نئے ناول میں کوئی نہ کوئی ایسا احساس اور موضوع ضرور لاتی ہیں جسے ہمارے معاشرے میں کوئی توجہ نہیں دیتا۔ وہ باتیں جو بے حد ضروری ہوتی ہیں، جنہیں ہم محسوس تو کرتے ہیں مگر کبھی کھل کر زیرِ بحث نہیں لاتے، ان پر نہ کوئی سنجیدہ گفتگو ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی حل تلاش کیا جاتا ہے۔ یہ ان کی تحریر کی وہ خوبی ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
اگر آپ لوگوں نے یہ ناول پڑھا ہے تو اپنی رائے ضرور دیں
1 5 6 7