Novels

Bakht

 بخت یعنی قسمت انسان کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ بھی آتا ہے جب اس کی زندگی بدل کر رکھ دی جاتی ہے اور پھر اسے ہر جگہ اندھیرا دکھائی دیتا ہے کوئی راہ فرار نظر نہیں آتی تو پھر وہ آزمائش کے مراحل سے گزرتا ہے؟ یہ ٹیسٹ کیوں لیا جاتا ہے؟ اس  لیے کہ دیکھا جاتا ہے کہ انسان مایوس ہوتا ہے یا وہ اس چیز کو پا لیتا ہے جس کے لئے اسے آزمائش میں ڈالا جاتا ہے ہے-یہ اسٹوری قسمتوں کے ملاپ کی ہے اور آزمائشوں میں ڈٹے رہنے کی-

Bakht

کچھ ہیرے نوکیلے بھی ہوتے ہیں ، سب ہی نمائش کی خاطر نہیں پہنے جاتے ۔ ۔ ۔

کچھ ہاتھ قتل بھی کرتے ہیں ، سب ہی رنگوں کو بکھیرنا نہیں جانتے ۔ ۔ ۔
کچھ جادو فطرتاً بھی کیئے جاتے ہیں ، سب ہی غلطی سے سر زد نہیں ہوتے ۔ ۔
کچھ کی ماؤں کو نوچا بھی جاتا ہے ، سب کی حفاظت میں نہیں ہوتیں ۔ ۔ ۔
اور ۔ ۔
کچھ کو کچرے کی زینت بھی کر دیا جاتا ہے ، سب کے سب زںدہ نہیں رہ پاتے ۔ ۔
مگر ۔ ۔
جو زندہ رہ جاتے ہیں اور جو زندہ رہ کر بھی تنہا رہ جاتے ہیں ان سب کا کوئی نا کوئی محافظ بھی ضرور ہوتا ہے ۔ ۔
اور وہ محافظ، وہ خود ہی ہوتے ہیں ۔ ۔
یہی انکا بخت ہے ۔ ۔
اور یہی عرش پر لکھا جا چکا ہے ۔ ۔

Bakht Aur Takht Episode 1 by Fiza Fatima Amin

قسمت آہستہ آہستہ  اپنا کھیل شروع کرتی ہے ۔رشتوں کی بنیاد  رکھی جاتی ہے، راز جنم لیتے ہیں، اور بخت اور تخت کے درمیان ایک ان دیکھا تعلق قائم ہونے لگتا ہے۔دوسری طرف تخت ہے—طاقت، اختیار اور غرور کی علامت۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں فیصلے دل سے نہیں بلکہ مفاد سے کیے جاتے ہیں، اور جہاں احساسات کو کمزوری سمجھا جاتا ہے

Bakht Aur Takht Episode 2 by Fiza Fatima Amin

قسمت آہستہ آہستہ  اپنا کھیل شروع کرتی ہے ۔رشتوں کی بنیاد  رکھی جاتی ہے، راز جنم لیتے ہیں، اور بخت اور تخت کے درمیان ایک ان دیکھا تعلق قائم ہونے لگتا ہے۔دوسری طرف تخت ہے—طاقت، اختیار اور غرور کی علامت۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں فیصلے دل سے نہیں بلکہ مفاد سے کیے جاتے ہیں، اور جہاں احساسات کو کمزوری سمجھا جاتا ہے

Bakht e Muflis by Kainat Jameel Abbasi

کوئی زخموں پر مرہم رکھتا تھا…
کوئی تحریروں سے امیدیں جگاتا تھا…
کوئی سچ کی آنکھ بنا ہوا تھا…
وہ ایک امید تھے، ایک آواز تھے…
ایک روشنی، ایک انقلاب تھے وہ…
مگر امیدیں ٹوٹ گئیں، آوازیں دفن ہو گئیں…
روشنی پر اندھیرے نے راج کر لیا…
اور انقلاب… کبھی آ نہ سکا…
وجہ؟
وہ لوگ… جن کے دلوں میں دل نہیں، پتھر تھے…
جن کے ضمیر مر چکے تھے…
جو لاپرواہ، بےحس، اور خاموش تماشائی بنے رہے…
سب مٹی ہو گئے…
اور جو باقی رہ گئے۔۔
ان کو بچانے بھی کوئی آگے نہیں بڑھا۔
وہ… تنہا رہ گئی…
نم آنکھیں، لرزتے لب،
بہتے آنسو، اور کچھ دعائیں۔۔
چاروں طرف آگ کا طواف…
جس کی تپش اس تک پہنچ رہی تھی۔
اور اس کی آہیں، اس کی پکار…
بس ایک رب سن رہا تھا…
کیا اس کا سننا کافی نہیں؟
کہیں میں اور آپ بھی تکلیف کی شدت میں زبان سے ادا ہونے والی ان بددعائوں میں شامل تو نہیں؟
کیا ہم خاموش تماشائیوں پر عذاب نہیں آئے گا؟
1 62 63 64 594