Novels

Zakham by Mehak Nawaz

یہ کہانی ایک معصوم سی لڑکی ہے جیسے معاشرے کی نا انصافی نے ظالم خودغرض اور نہایت بے رحم بنا دیا ہے کہ جیسے نہ خود کے زخم نظر آتے ہیں نہ دوسروں کی پروا ہے جو روز دماغی اور دلی جنگ کا نشانہ بنتی ہے جو ظاہری طور پر زندہ ہے مگر دماغی طور پر ختم ہو گئی ہے .

Zakhm by Rania Emaan

زندگی زخم کی روش ہے
اور زخم کے لیے مرہم ڈھونڈنا پڑتا ہے۔
زندگی کٹھن فلسفہ ہے۔
آج کے معاشرے میں عورت کو اس کے حقوق دیے جاتے ہیں مگر پھر بھی نہیں دیے جاتے ۔
میں نے اپنی تحریر میں اسی معاشرتی مسئلہ پر بات کی ہے۔ کہ کیسے مہک اپنے خواب کو پورا کرتی ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے وہ کن مشکلات سے گزرتی ہے۔

Zakhm e Altafat Episode 1

کچھ کردار مر جاتے ہیں، کچھ کو مار دیا جاتا ہے ، کچھ انصاف کیلئے در در بھٹکتے ہیں اور کچھ بھوک مٹانے کیلئے جتن کرتے ہیں ۔ کچھ کرداروں کا قلم خرید کر جھوٹ بیچا جاتا ہے اور کچھ کے ضمیروں کو سلا دیا جاتا ہے۔
اور حکومت قائم رہتی ہے فقط ظلم کی۔
ظلم کبھی مٹتا نہیں ہے۔ اگر اس کو مٹانے کی کوششں کی جائے تو انسان کی نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں لیکن یہ ظلم نئی شکل اختیار کر کے بڑھتا ہی رہتا ہے۔

Zakhm e Altafat Episode 2

کچھ کردار مر جاتے ہیں، کچھ کو مار دیا جاتا ہے ، کچھ انصاف کیلئے در در بھٹکتے ہیں اور کچھ بھوک مٹانے کیلئے جتن کرتے ہیں ۔ کچھ کرداروں کا قلم خرید کر جھوٹ بیچا جاتا ہے اور کچھ کے ضمیروں کو سلا دیا جاتا ہے۔
اور حکومت قائم رہتی ہے فقط ظلم کی۔
ظلم کبھی مٹتا نہیں ہے۔ اگر اس کو مٹانے کی کوششں کی جائے تو انسان کی نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں لیکن یہ ظلم نئی شکل اختیار کر کے بڑھتا ہی رہتا ہے۔

Zakhm e Altafat Episode 3 Saba Gulzar Hashmi

کچھ کردار مر جاتے ہیں، کچھ کو مار دیا جاتا ہے ، کچھ انصاف کیلئے در در بھٹکتے ہیں اور کچھ بھوک مٹانے کیلئے جتن کرتے ہیں ۔ کچھ کرداروں کا قلم خرید کر جھوٹ بیچا جاتا ہے اور کچھ کے ضمیروں کو سلا دیا جاتا ہے۔
اور حکومت قائم رہتی ہے فقط ظلم کی۔
ظلم کبھی مٹتا نہیں ہے۔ اگر اس کو مٹانے کی کوششں کی جائے تو انسان کی نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں لیکن یہ ظلم نئی شکل اختیار کر کے بڑھتا ہی رہتا ہے۔

Zakhm e Altafat Episode 4 by Saba Gulzar Hashmi

کچھ کردار مر جاتے ہیں، کچھ کو مار دیا جاتا ہے ، کچھ انصاف کیلئے در در بھٹکتے ہیں اور کچھ بھوک مٹانے کیلئے جتن کرتے ہیں ۔ کچھ کرداروں کا قلم خرید کر جھوٹ بیچا جاتا ہے اور کچھ کے ضمیروں کو سلا دیا جاتا ہے۔
اور حکومت قائم رہتی ہے فقط ظلم کی۔
ظلم کبھی مٹتا نہیں ہے۔ اگر اس کو مٹانے کی کوششں کی جائے تو انسان کی نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں لیکن یہ ظلم نئی شکل اختیار کر کے بڑھتا ہی رہتا ہے۔
1 583 584 585 603