یہ کہانی ہے “وفا مصطفیٰ شاہ” کی شاہ ولا کی شرارتی لڑکی کی۔۔
لیکن ہر وقت ہنسے والا انسان جب خاموش ہوتا ہے تو ہر طرف طوفان سا اٹھنے لگتا ہے۔۔
یہ کہانی ہے “تبریز طلال شاہ” کی جو ایک پولیس آفیسر ہیں سنجیدہ طبیت کے مالک آئیں دیکھتے ہیں جب یہ سنجیدہ اور چلبلی لڑکی ملتے ہیں تب کہانی کس موڑپر جاتی ہے۔۔
یہ ناول ہے رشتوں کا محبت کا چاہتوں کا۔۔۔۔ایک لڑکی جس پر بے پناہ مشکلات آئیں مگر اس نے خدا
کی زات پر بھروسہ کیا اور وہ اس مشکل وقت سے نکل آئ ایسے لڑکے کی داستان جو بچپن سے ایک شوخ سی لڑکی کا دیوانہ ہے۔۔۔ایک ایسی لڑکی جو ایک محرم کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے اور کچھ گناہ کر بیٹھتی ہے۔۔۔مگر کیا کبھی توبہ کا دروازہ بند ہوتا ہے۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔کچھ عشق مجازی اور عشق حقیقی کی ملی جلی کہانی۔۔۔۔
محبت ، یقین ، ایمان۔۔۔۔ان کو لے کر چلو تو دنیا فتح ہو جائے ان تین چیزوں سے اس کو راضی کیا جا سکتا ہے اور جب اس کو راضی کر لیا تو ظاہر ہے دنیا فتح ہوگئی-ان میں سے ایک پر بھی عمل کر لو تو تم بہت سوں سے بہتر ہو-یہ کہانی محبت یقین ایمان کے راستے پر چلنے کی ہے جس پر تھوڑا سا ہی عمل کرلو تو بہت کچھ سنور جاتا ہے-
ایک اذیت پسند شخص جو ماضی کے تلخ لہجوں اور اذیت ناک لمحوں کے زد میں آچکا ہے۔ وہ اپنی محبت کو بھی اذیت دینے کے قائل ہے۔تلخ ماضی انسان کو نیم پاگل کردیتا۔ اور یہی کچھ اس کے ساتھ ہوا ہے۔
اقدار و روایات کی پاسداری ، بعض اوقات ایسے فیصلے کرواتی ہے ، کہ مکافاتِ عمل جب دروازے پر دستک دینے پہنچتا ہے ، تو اتنی گہری چوٹ پہنچاتا ہے، کہ ماضی کے ورق بھی لہو ٹپکانے لگتے ہیں ۔
اقدار و روایات کی پاسداری ، بعض اوقات ایسے فیصلے کرواتی ہے ، کہ مکافاتِ عمل جب دروازے پر دستک دینے پہنچتا ہے ، تو اتنی گہری چوٹ پہنچاتا ہے، کہ ماضی کے ورق بھی لہو ٹپکانے لگتے ہیں ۔
یہ کہانی ہے انتقام اور محبت کی۔ مناہل سکندر، ایک ایسا کردار جو انتقام کی بھینٹ چڑھ کر اپنی محبت اور سب رشتوں کو کھو دیتی ہے۔ شایان خان، وہ کردار جو اپنے انتقام کی تکمیل کی خاطر اپنے راستے میں آنے والی رکاوٹ کو پیروں تلے کچل دیتا ہے۔ یہ کہانی کمزور محبت اور ماضی سے جڑے رشتوں کی راز کھولے گی۔ کیا محبت ، انتقام سے جیت پاۓ گی؟ یہ جاننے کے لیۓ پڑھئیے شایان اور مناہل کی زندگی کا سفر