Novels

Sirat e Mustaqeem Episode 2

کہانی کا آغاز عیسائ لڑکی سے ہوتا ہے جو ایک اسلامک انسیٹیوٹ کے باہر بورڈ پر لکھی گئ آیت
اھدناالصراط المستقیم
 کو روز دیکھتی اور اسکا مفہوم سمجھنے کی کوشیش میں رہتی یہ کہانی ہے  عیسائیت سے اسلام میں داخل ہونے والی ایزل عشمال کی یہ کہانی ہے ساشہ سے ایزل تک کا سفر طے کرنے والی لڑکی کی
عام سے خدو خال لیکن پُرکشش شخصیت پر غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا میکائیل جو اپنی ماں اور دو بہنوں کے ساتھ اسلام آباد میں مقیم ہے گھر کا واحد کفیل
سید گھرانے سے تعلق رکھنے والے سید اذقان بخاری جو کہ انگلینڈ سے ایم بی بی ایس کرنے کہ بعد لاہور میں اپنا ہسبتال چلانے کہ ساتھ ساتھ اپنے بابا جان کا بزنس بھی سنبھالتے ہیں
انابیہ کا تعلق ایلیٹ کلاس گھرانے سے ہے جو اپنے گھر میں آکیلی رہتی ہے اسکے والدین دو سال پہلے ایک کار حادثے میں فوت ہو چکے ہیں
عائض کہانی کا مرکزی کردار یہ وہ کردار ہے جو کہانی کو لے کر چلے گا کہانی

Sirat el Mustaqeem Episode 1 by Laiba Ayub

صراط المستقیم ایک باہمت بزنس وومن اور ایک مشہور کرکٹر کی کہانی ہے، جن کی زندگیاں الگ راستوں پر چل رہی ہوتی ہیں، مگر سچائی کی تلاش انہیں ایک مقام پر لے آتی ہے۔ یہ صرف کامیابی یا محبت کی نہیں، بلکہ ایمان، خودی اور راستبازی کی جدوجہد کی داستان ہے۔

Sirf Tumhari Bilqees Novel by Mansha Mohsin Ali

Sirf Tumhari Bilqees is a Family Drama | Arrange Marriage Based | Digest Based Social Romantic Novel by Mansha Mohsin Ali Published in Kiran Digest March 2026.
صرف تمہاری بلقیس از منشاء محسن علی
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
کرن ڈائجسٹ مارچ ۲۰۲۶
بلقیس، کارنس پر رکھی ہوئی ایک بھولی بھٹکی ہوئی معمولی سی چیز، مگر کون جانے؟ کس کو خبر؟
وہ کیا تھی؟ وہ کیوں تھی؟
بلقیس ایک عام شکل و صورت کی، مگر زندہ دل لڑکی تھی۔ اس کی شادی مراد سے ہوئی، لیکن شادی کے کچھ ہی دن بعد مراد واپس سعودی عرب چلا گیا۔ وہ یوں گیا کہ پورے تیرہ برس تک واپس نہ آیا۔ حقیقت یہ تھی کہ اسے کبھی بلقیس کی قدر ہی نہ تھی۔ وہ اکثر سوچتا کہ بلقیس اس کی ہم پلہ نہیں اور نہ ہی اس قابل ہے کہ اس کی شریکِ حیات کہلائے۔ چنانچہ وہ اسے اپنے گھر والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلا گیا۔
سالہا سال کی سخت محنت اور مشقت کے بعد جب مراد واپس وطن لوٹا تو ایک حیران کن منظر اس کا منتظر تھا۔ گھر والوں نے ہمیشہ یہی بتایا تھا کہ اس کی بیوی بدسلیقہ ہے اور اس نے بچوں کی تربیت بھی درست نہیں کی۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔
مراد یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ اسی عورت نے نہ صرف بچوں کی بہترین تربیت کی تھی بلکہ خود بھی تعلیم جاری رکھ کر اپنی شخصیت کو یکسر بدل ڈالا تھا۔ وہ پہلے سے زیادہ باوقار، سمجھدار اور مضبوط بن چکی تھی۔
ادھر مراد کے بیشتر رشتہ دار وہی تھے جو اس سے صرف پیسوں کی توقع رکھتے تھے۔ انہیں اس کی محنت، اس کے احساسات یا اس کی جدوجہد سے زیادہ دلچسپی اس کے لائے ہوئے تحائف میں تھی۔
لیکن بلقیس جیسے لوگ دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں۔ وہ سونے کی اینٹوں یا دولت کی طلب گار نہیں ہوتے۔ مگر بلقیس جیسے لوگ نایاب ہوتے ہیں جو سونے کی اینٹوں یا پیسوں کے طلب گار نہیں ہوتے بلکہ صرف کھجور اور زم زم کے پانی سے ہی خوش ہوجاتے ہیں۔
‎ہم اکثر لوگوں کو ان کے ظاہر سے پرکھ لیتے ہیں اور جلد ہی ان کے بارے میں بدگمان ہو جاتے ہیں، حالانکہ کسی انسان کی اصل قدر اس کے کردار، صبر اور ذمہ داری نبھانے کے انداز سے ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ اس کی ظاہری حیثیت سے۔ بلقیس کا کردار اسی حقیقت کی خوبصورت مثال ہے۔
مصنفہ نے اس کہانی میں ان لوگوں کی کٹھن اور مشقت بھری زندگی کی جھلک بھی پیش کی ہے جو پردیس جا کر روزی کماتے ہیں۔ سالہا سال گھر اور اپنوں سے دور رہ کر محنت کرنا، تنہائی اور جدائی کا بوجھ اٹھانا، اور پھر بھی اپنے خاندان کی بہتر زندگی کے لیے جدوجہد جاری رکھنا ایک ایسی حقیقت ہے جسے اس تحریر نے نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔
1 480 481 482 594