Novels

Mikael


“سنو! مجھے کافی بنا کر دو۔”
وہ ریوالونگ چیئر کو گھماتے ہوئے بولا۔

“سوری____آپ نے مجھ سے کہا؟”
عنوہ جاتے جاتے پلٹ کر نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔

“جی بالکل محترمہ____غالباً آپ کے علاوہ یہاں اور کوئی نہیں ہے؟”
اس نے شان بے نیازی سے کندھے اچکائے۔

“میں یہاں کافی بنانے کی جاب نہیں کرتی۔”
عنوہ بمشکل اپنے غصے پر قابو پاتے متوازن لہجے میں بولی۔

“بابا کو بھی تو دیتی ہو تو کیا ان کی چاپلوسی کرتی ہو؟”
میکائیل نے کہنیاں ٹیبل پر رکھ کر دونوں ہاتھوں پر چہرہ ٹکائے استہزائیہ انداز میں کہہ کر اسے زچ کرنا چاہا اور وہ اپنی کوشش میں کامیاب ٹھہرا تھا۔

“دیکھیں اب آپ حد سے بڑھ رہے ہیں۔ آپ مجھے مجبور نہ کریں میں سر کو آپ کی شکایت کر دوں گی۔”
اس کے وارننگ دیتے لہجے پر میکائیل کاردار کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا۔

“سیریسلی تمھیں لگتا ہے میں اپنے باپ سے ڈر جاؤں گا، شٹل کاک کہیں کی ہونہہ۔”
ہنستے ہنستے اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

عنوہ نے لب بھینچے اس کی ہنسی دیکھی جب سے یہ بندہ آفس آنے لگا تھا تب سے اس کا سکون برباد ہو کر رہ گیا تھا جانے کس بات کا بدلہ لے رہا تھا؟

Beniqab Episode 5

ازل سے ابد تک انسانوں میں ایک چیز مشترک رہی ہے اور وہ طاقت اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے جنگیں، جب انسان غاروں میں رہتے تھے تو لکڑیوں سے ہتھیار بنا کر ایک دوسرے سے لڑا کرتے تھے، اب انسان محلوں میں رہتے ہیں اور ایٹمی ہتھیار بنا کر ایک دوسرے کی نسل کشی کرتے ہیں، جب اللہ تعالی نے انسان کی تخلیق کا ذکر فرشتوں سے کیا تو ان کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ انسان زمین پر خون ریزی کریں گے اور ایک دوسرے کو ناحق قتل کریں گے، چونکہ فرشتے اللہ تعالی کی حکمت سے واقف نہیں تھے تو ان کے ذہن میں انسان کو لے کر جو سب سے معیوب بات آئی وہ ایک دوسرے کا خون بہانہ تھا، آج بھی اس دنیا میں ایسے شر پسند لوگ موجود ہیں جو صرف اپنے مفادات کے لئے پوری پوری نسلوں کی نسل کشی کررہے ہیں لیکن کیوں؟
WAR IS A BLOODY BUSINESS
، جب میں نے بے نقاب کا سفر شروع کیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ ورلڈ وار ون سے اب تک دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں مستقل جاری رہنے والی جنگیں تو دراصل ایک بزنس ہے جو دنیا بھر کے ایلیٹس اپنا اصلحہ بیچنے کے لئے کروارہے ہیں۔
لیکن اس سب کے پیچھے کون ہے اور یہ کھیل کس طرح ترتیب دیا جارہا ہے؟ کیوں کہ یہ ریسرچ کھلے عام انٹرنیٹ پر موجود نہیں تھی اسی لئے میں نے سر توڑ کوششیں کرکے آپ سب کے سامنے ان ایجنڈوں کو بے نقاب کیا ہے جو یہ خونی کھیل ترتیب دے رہے ہیں
بظاہر نظر آنے والی کہانی اصل نہیں ہوتی، کبھی کبھی ہماری نظر میں جو شخص مسیحا ہوتا ہے دراصل وہی سب سے بڑا غدار ہوتا ہے، اس کہانی میں آپ دو پہلو دیکھیں گے، ایک امریکہ کا اور ایک پاکستان کا ، امریکہ چونکہ ہمارے اصل دشمن یہودیوں کا دم چھلا ہے اور ان کی پلیننگز کا گڑھ ہے ، انہیں سب سے زیادہ سپورٹ اسی ملک کی طرف سے حاصل ہے تو میں نے ایسے بہت سارے ایجنڈوں کو بے نقاب کیا ہے جو شاید ہی کبھی آپ لوگوں کو معلوم ہوسکتے، کہا جاتا ہے کہ دشمنوں کو تباہ کرنے سے پہلے ان کی چھپی ہوئی غاروں کو تباہ کرو تو یہ جملہ امریکہ کے لئے ہی ہے، اگر ہمیں اپنے اصل دشمنوں کو ہرانا ہے تو پہلے ہمیں ان کی چھپی ہوئی غاروں کو کھوجنا ہوگا۔
پاکستان کا پہلو ڈالنے کے پیچھے مقصد مسلمانوں کا حال دکھانا تھا، یہ بتانا تھا کہ باہر کی جنگیں جیتنے سے پہلے اندر کی جنگیں جیتنا پڑتی ہیں ورنہ میدانِ جنگ میں اگر عبدللہ بن ابی جیسے منافق ہمارے درمیان نکل آئے تو پوری جنگ کا پاسہ ہی پلٹ سکتا ہے، ہم تب اپنے اصل دشمن سے لڑنے کے قابل ہوں گے جب آستین کے سانپوں کو نکال باہر کردیں، بے نقاب کے آخر میں یہ دونوں کہانیاں ایک دوسرے سے جڑیں گی
امید ہے کہ میری یہ کاوش بہت پسند کی جائے ،  اس حقیقی کہانی کو اس  قدر بھرپور تجسس کے ساتھ لکھنا اور ہر قسط میں
قاری کو جوڑے رکھنا میرے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے ، آپ سے دعا کی درخواست

Manzil e Rubaru Episode 5

یہ ہر اس شخص کی داستان ہے جو باطل سے اپنی اپنی جنگ لڑتا رہا۔ کہانی میں موجودہ وقت کی کڑیاں ماضی میں ہوئے ایک حادثے سے جا ملتی ہیں جس حادثے سے ناول کے سبھی کردار کسی نہ کسی طرح منسلک ہیں۔ جیسے جیسے ماضی اور حال کے واقعات کا تعلق سمجھ میں آتا یے، دلچسپی بڑھتی جاتی ہے۔
اس کہانی میں بحرینی شاعر السید ہاشم المحفوظ کی کچھ عربی نظمیں ان کی اجازت سے اردو میں ترجمہ کر کے شامل کی گئی ہیں۔

Ala Rasi


“خوش بخت_____________”
اسے دور سے بابا کی آواز سنائی دے رہی تھی۔

وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی کچھ پل تو اسے سمجھ نہ آیا پھر یک دم اٹھ کر دروازہ کھولا جہاں عالم صاحب دونوں ہاتھ سینے پر لپیٹے اسے طنزیہ نگاہوں سے گھور رہے تھے۔

“اوہ بزرگو! کیوں صبح صبح محلے والوں کے ناک میں دم کر رہے ہیں؟”
اس نے جمائیاں لیتے ان سے پوچھا۔

“ملکہ عالیہ! اگر آپ کو یاد ہو تو آج ہم نے مارننگ واک کے لیے جانا ہے میں فجر کی نماز ادا کرنے مسجد جا رہا ہوں آپ بھی جلدی سے وضو کر کے نماز ادا کریں اور میری واپسی پر مجھے گھر کے گیٹ پر ملیں۔”
وہ ایک ہی سانس میں بات پوری کرتے وہاں سے نکل گئے۔

“لو جی ملکہ عالیہ مجھے کہہ رہے ہیں اور حکم خود سنا گئے ہیں، واہ جی واہ۔”
وہ بڑبڑاتی ہوئی جلدی سے واش روم میں جا گھسی۔

اس کا دل تو نہیں تھا جانے کا مگر اپنے واحد ووٹ کو وہ ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتی تھی جو ہر الٹی سیدھی بات میں اس کی ڈھال بن جاتے تھے تبھی وہ جھٹ پٹ سب کام کرتی گیٹ پر آن کھڑی ہوئی رات کو دیر سے سونے کی وجہ سے وہیں اس کی آنکھ لگ گئی۔

وہ گیٹ پر سر رکھے ہوئے ہی اپنی نیند پوری کر رہی تھی جب ٹریک سوٹ میں ملبوس ایک نوجوان اسے دیکھتے ایک لمحے کو رکا تھا اس کی آنکھوں میں حیرت در آئی جس کو وہ اگلے ہی پل چھپاتا آگے بڑھ گیا اس نے پہلی بار کسی کو ایسے سوتے دیکھا تھا حیرت بجا تھی۔

“خوش بخت____”
عالم صاحب نے اس کے کان کے پاس چہرہ لے جا کر زور سے پکارا جس پر وہ یک دم “چور، چور” چلاتی ان سے لپٹ گئی۔

“ملکہ عالیہ اب آپ حد سے بڑھ رہی ہیں پہلے بزرگو اور اب چور بنا ڈالا، توبہ توبہ گندی اولاد نہ مزا نہ سواد۔”
انھوں نے اسے بری طرح گھورا۔

“واہ بھئی واہ! الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔
یہ کیا تھا پھر____؟
ابھی میرا ہارٹ فیل ہو جانا تھا۔”

اس نے دل پر ہاتھ رکھتے ان کی حرکت کی طرف توجہ دلائی تو وہ شان بے نیازی سے کندھے اچکاتے آگے بڑھ گئے۔

“آپ____اور اتنے کمزور دل کی ہو ہی نہیں سکتیں۔
آپ تو وہ ہیں جو دوسروں کے چھکے چھڑا دیں ملکہ عالیہ۔”

وہ اس پر طنز کرنا نہ بھولے۔

“ہاں جی___میں تو بہت بڑے دل کی ہوں جو اپنے ماں باپ کو پال رہی ہوں حالانکہ انھیں مجھے پالنا چاہیے۔

ہائے او ربا میری نکیاں نکیاں چاواں___”

وہ دکھی محبوبہ کی طرح سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔

“اگر آپ کو کسی فلم میں ہیروئن کاسٹ کر لیا جائے تو وہ بری طرح فلاپ ہو۔”
انھوں نے اس کی اوور ایکٹنگ پر چوٹ کرتے ہوئے اپنا بدلہ اتارا۔

“چلیں مجھے ہیروئن کا کردار تو ملتا مگر آپ کو گریٹ گریٹ گریٹ____گرینڈ فادر کا رول ملتا۔”

اس کی بات پر وہ جلتے کڑھتے گلشن اقبال پارک میں داخل ہو گئے۔

Ishq Marham Part 1

یہ 1915 کی محبت کی کہانی ہے۔ جب جاگیرداروں کی حکومت تھی۔ تمام تر اختلافات کے باوجود مالک مکان کے بھتیجے کو ایک عام لڑکی سے پیار ہو جاتا ہے۔ صرف محبت نہیں ایک جان لیوا عشق ، اس محبت کی قیمت ان کے لیے سب کچھ ہے۔ یہ ایک دل دہلا دینے والی محبت کی کہانی ہے، جہاں آپ کو دل ٹوٹتا محسوس ہوتا ہے، درد جو گزرتا ہے اس کا ہر لمحہ احساس ہوگا ۔ اور ان کی – اپنی محبت کی لڑائی شاید وہی ہے جسے ہم سچی محبت کہتے ہیں

Mah e Doran Episode 1

“The Thin Line Between Love and Hate.”
فیری ٹیلز خیالی ہوتی ہیں۔۔جس میں شہزادی اور شہزادہ ایک لمبی مشکلات کی مسافت کے بعد بلآخر ایک ہو جاتے ہیں۔۔اور کہانی ایک حسین مقام پر احتتام پزیر ہو جاتی ہے۔۔
فیری ٹیلز حقیقی بھی ہوتی ہیں۔۔جس کے کردار کسی سلطنت کے شہزادی شہزادہ نہیں ہوتے۔۔بلکہ حقیقی دنیا کے عام کردار ہوتے ہیں۔۔جن کی شروعات تو حسین ہوتی ہے مگر مسافت بدصورت ہوتی ہے اور پھر جانے اس کانٹے دار راستوں سے چھلنی ہونے کے بعد وہ ایک ہوتے بھی ہیں یا نہیں۔۔
اس فیری ٹیل کے کردار بھی محض عام انسان ہیں۔۔جن کے احتتام کا کسی کو علم نہیں۔۔”

It delves into the complexities of relationships, the impact of past actions on present dynamics, and the duality of human nature, where love and hate coexist and transform over time. The narrative could highlight how unresolved issues and misunderstandings from the past resurface, affecting the characters’ present lives and relationships, ultimately seeking resolution and understanding.

Kashmakash – Upcoming Novel

کیا کھوج رہی ہیں ؟”
“خود کو ”
“آسمان پر ؟”
“نہیں خود کو خود میں ہی کھوج رہی ہوں ”
“پھر آسمان پر نگاہیں کیوں ؟”
“آسمان کو تو رشک بھری نظروں سے دیکھ رہی ہوں کتنا خوش قسمت ہے نا یہ دن میں اسکا ساتھی سورج ہوتا ہے رات کو یہ چاند ستارے ،تنہائی اور دکھ تو صرف انسان کی ہی قسمت میں ہیں ”
“لیکن جب بارش یا طوفان آتا ہے تو سورج اور یہ چاند ستارے چھپ جاتے ہیں”
“تب آسمان اکیلا ہوتا ہے ”
“بجلی زوروں سے چمکتی ہے، بادل گرجتے ہیں لیکن آسمان اکیلا ہوتا ہے ، بارش ہوتی ہے ،بارش کے بعد آسمان پر قوس قزاح نظر آنے لگتی ہے آسماں اکیلا نہیں رہتا بلکہ اور خوبصورت ہو جاتا ہے چاند اور ستارے تو لوگ روز ہی دیکھتے ہیں لیکن قوس قزاح کبھی کبھار دیکھینے کو ملتی ہی اور آسمان سب کی نظروں کا مرکز بن جاتا ہے ”
“مطلب ؟”
آسمان سے نظریں ہٹا کر اس نے ابراہیم کو دیکھا وہ اس سے اپنے سوال کا جواب چاہ رہی تھی روئی روئی آنکھیں ،سرخ ناک اور چہرے پر بکھرے بال وہ نظریں چرا گیا اب اسکی نظریں آسمان پر تھی اور زوفشاں کی اس پر ۔
“مطلب یہ کہ دکھ اور مصیبتیں بھی بارش کی طرح ہیں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن جاتے جاتے انسان کو بہت کچھ سکھا جاتے ہیں اب یہ ہم پر ہے کہ ہم آسمان کی طرح مظبوط بن کر انکا مقابلہ کرتے ہیں یا چاند ستاروں کی طرح ڈر کر چھپ جاتے ہیں ”
“آپکی باتیں میرے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں ”
وہ ہلکا سا مسکرائی یکدم ہی موسم بدلنے لگا چاند بادلوں میں چھپ گیا اور آسمان پر کالے بادلوں نے ڈیرا جما لیا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کی لہریں انکے جسم سے ٹکرائی کچھ دنوں سے اب دھند نہیں پڑ رہی تھی جنوری کا مہینہ شروع ہو گیا تھا ۔
“آپ ٹھیک ہیں ؟”
“ہاں مجھے کیا ہونا ؟”
“وہ اس دن آپ رو رہی تھی میں آنا چاہتا تھا پر مجھے لگا کہ اچھا نہیں لگے گا ”
“آپ آتے تو اچھا لگتا مجھے ”
اسکے جملے پر وہ رک سا گیا وہ دوبارہ سے آسمان میں گم ہو گئی ۔
“لگتا ہے بارش ہونے والی ہے ”
“یاد رکھئے گا زوفشاں بارش ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتی کچھ دیر کے لئے ہوتی ہے پھر رک جاتی ہے ”
“کبھی کبھار مسلسل بھی ہوتی ہیں بارشیں اور ان مسلسل بارشوں کی وجہ سے سیلاب آتے ہیں اور اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتے ہیں ”
وہ آسمان سے نظریں ہٹاتی اسکی طرف دیکھ کر بولی تو انکے درمیان کچھ دیر کے لئے خاموشی چھا گئی۔
“کچھ دکھ بھی سیلاب کی طرح ہوتے ہیں ابراہیم اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتے ہیں انساں، اسکے ارمان اور اسکے خواب بھی ”
“خواب دوبارہ بھی تو دیکھے جا سکتے ہیں نا ؟”
اس نے دوبارہ اپنی نظریں آسمان سے ہٹائی وہ اسی کی طرف دیکھ رہا تھا اسکے دیکھنے پر اپنی نظریں پھیر گیا۔
“خواب ٹوٹنے کی چھبن انسان کو بہت ازیت دیتی ہے ابراہیم اتنی کہ وہ نئے خواب دیکھنے سے ڈرنے لگتا ہے ”
“میرا خواب ٹوٹتا تو خیر تھی میرے ساتھ میرے خاندان کا بھی خواب ٹوٹا ہے یہ خواب ہم سب نے مل کر دیکھا تھا ”
آسمان سے ایک بوند اسکے چہرے پر گری اور اسکے ہاتھوں پر کسی کا پہلا آنسو گرا۔
“م۔۔۔میں۔۔۔ن۔۔نے۔۔بہت۔۔۔محنت۔۔۔کی۔۔”
“م۔۔مجھے۔۔۔ل۔۔لگا۔کہ میری پکی نوکری لگ۔۔جائے۔۔گی۔۔تو۔۔سب۔۔ٹھیک۔۔۔”
آنسو اسکی آنکھوں سے متوازن گرنا شروع ہو گئے بارش کی بوندوں کی رفتار بھی تیز ہوئی۔
“م۔۔۔میں۔۔ہوٹل۔۔میں۔۔کام نہیں کر۔۔کرنا چاہتی تھی”
“میں بھی عام لڑکیوں کی طرح زمہ داریوں کے بوجھ سے آزاد جینا چاہتی تھی ل۔۔لیکن م۔۔میں۔۔ہر۔۔رات کل کی فکر م۔۔میں گزارتی ہوں۔۔۔میرا۔۔ہر۔۔دن سوچوں میں گ۔۔گزرتا ہے”
“میں بھی عام لڑکیوں کی طرح جینا چاہتی تھی لیکن میری زندگی نے مجھ سے میرے سارے رنگ چھین لئے اس زندگی نے مجھے بے رنگ بنا دیا ان روز مرہ کی مصیبتوں نے مجھ سے میری ساری رونقیں چھین لی ابراہیم۔۔۔۔”
“میرے لہجے میں کرواہٹ بھر دی ”
“م۔۔۔میں۔۔ن۔۔نے سب برداشت کر کہ پھر بھی ایک خواب دیکھا۔۔۔۔اس۔۔خواب۔۔کو۔۔حقیقت بنانے کی کوشش کی۔۔لیکن۔۔۔”
“ک۔۔۔کیا۔۔۔م۔۔میرا۔۔خوشیوں۔۔پر۔۔کوئی حق نہیں ؟”
ایک بوند ابراہیم کی پلکوں پر آئی ۔
اپنی شال اتار کر اس نے زوفشاں پر اوڑھی وہ وہیں رک گئی اسکے ہونٹ جیسے کسی نے سی دئے تھے وہ اسکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
“جائیں آپکو سردی لگ جائے گی”
“جائیں زوفی۔۔۔”
زوفشاں اسکی طرف دیکھے بغیر وہاں سے بھاگتی ہوئی اسکی نظروں سے دور ہوئی۔
Project will Launch it’s Episode on 23rd June.

 

1 423 424 425 603