Novels

Ishq Marham Part 1

یہ 1915 کی محبت کی کہانی ہے۔ جب جاگیرداروں کی حکومت تھی۔ تمام تر اختلافات کے باوجود مالک مکان کے بھتیجے کو ایک عام لڑکی سے پیار ہو جاتا ہے۔ صرف محبت نہیں ایک جان لیوا عشق ، اس محبت کی قیمت ان کے لیے سب کچھ ہے۔ یہ ایک دل دہلا دینے والی محبت کی کہانی ہے، جہاں آپ کو دل ٹوٹتا محسوس ہوتا ہے، درد جو گزرتا ہے اس کا ہر لمحہ احساس ہوگا ۔ اور ان کی – اپنی محبت کی لڑائی شاید وہی ہے جسے ہم سچی محبت کہتے ہیں

Mah e Doran Episode 1

“The Thin Line Between Love and Hate.”
فیری ٹیلز خیالی ہوتی ہیں۔۔جس میں شہزادی اور شہزادہ ایک لمبی مشکلات کی مسافت کے بعد بلآخر ایک ہو جاتے ہیں۔۔اور کہانی ایک حسین مقام پر احتتام پزیر ہو جاتی ہے۔۔
فیری ٹیلز حقیقی بھی ہوتی ہیں۔۔جس کے کردار کسی سلطنت کے شہزادی شہزادہ نہیں ہوتے۔۔بلکہ حقیقی دنیا کے عام کردار ہوتے ہیں۔۔جن کی شروعات تو حسین ہوتی ہے مگر مسافت بدصورت ہوتی ہے اور پھر جانے اس کانٹے دار راستوں سے چھلنی ہونے کے بعد وہ ایک ہوتے بھی ہیں یا نہیں۔۔
اس فیری ٹیل کے کردار بھی محض عام انسان ہیں۔۔جن کے احتتام کا کسی کو علم نہیں۔۔”

It delves into the complexities of relationships, the impact of past actions on present dynamics, and the duality of human nature, where love and hate coexist and transform over time. The narrative could highlight how unresolved issues and misunderstandings from the past resurface, affecting the characters’ present lives and relationships, ultimately seeking resolution and understanding.

Kashmakash – Upcoming Novel

کیا کھوج رہی ہیں ؟”
“خود کو ”
“آسمان پر ؟”
“نہیں خود کو خود میں ہی کھوج رہی ہوں ”
“پھر آسمان پر نگاہیں کیوں ؟”
“آسمان کو تو رشک بھری نظروں سے دیکھ رہی ہوں کتنا خوش قسمت ہے نا یہ دن میں اسکا ساتھی سورج ہوتا ہے رات کو یہ چاند ستارے ،تنہائی اور دکھ تو صرف انسان کی ہی قسمت میں ہیں ”
“لیکن جب بارش یا طوفان آتا ہے تو سورج اور یہ چاند ستارے چھپ جاتے ہیں”
“تب آسمان اکیلا ہوتا ہے ”
“بجلی زوروں سے چمکتی ہے، بادل گرجتے ہیں لیکن آسمان اکیلا ہوتا ہے ، بارش ہوتی ہے ،بارش کے بعد آسمان پر قوس قزاح نظر آنے لگتی ہے آسماں اکیلا نہیں رہتا بلکہ اور خوبصورت ہو جاتا ہے چاند اور ستارے تو لوگ روز ہی دیکھتے ہیں لیکن قوس قزاح کبھی کبھار دیکھینے کو ملتی ہی اور آسمان سب کی نظروں کا مرکز بن جاتا ہے ”
“مطلب ؟”
آسمان سے نظریں ہٹا کر اس نے ابراہیم کو دیکھا وہ اس سے اپنے سوال کا جواب چاہ رہی تھی روئی روئی آنکھیں ،سرخ ناک اور چہرے پر بکھرے بال وہ نظریں چرا گیا اب اسکی نظریں آسمان پر تھی اور زوفشاں کی اس پر ۔
“مطلب یہ کہ دکھ اور مصیبتیں بھی بارش کی طرح ہیں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن جاتے جاتے انسان کو بہت کچھ سکھا جاتے ہیں اب یہ ہم پر ہے کہ ہم آسمان کی طرح مظبوط بن کر انکا مقابلہ کرتے ہیں یا چاند ستاروں کی طرح ڈر کر چھپ جاتے ہیں ”
“آپکی باتیں میرے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں ”
وہ ہلکا سا مسکرائی یکدم ہی موسم بدلنے لگا چاند بادلوں میں چھپ گیا اور آسمان پر کالے بادلوں نے ڈیرا جما لیا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کی لہریں انکے جسم سے ٹکرائی کچھ دنوں سے اب دھند نہیں پڑ رہی تھی جنوری کا مہینہ شروع ہو گیا تھا ۔
“آپ ٹھیک ہیں ؟”
“ہاں مجھے کیا ہونا ؟”
“وہ اس دن آپ رو رہی تھی میں آنا چاہتا تھا پر مجھے لگا کہ اچھا نہیں لگے گا ”
“آپ آتے تو اچھا لگتا مجھے ”
اسکے جملے پر وہ رک سا گیا وہ دوبارہ سے آسمان میں گم ہو گئی ۔
“لگتا ہے بارش ہونے والی ہے ”
“یاد رکھئے گا زوفشاں بارش ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتی کچھ دیر کے لئے ہوتی ہے پھر رک جاتی ہے ”
“کبھی کبھار مسلسل بھی ہوتی ہیں بارشیں اور ان مسلسل بارشوں کی وجہ سے سیلاب آتے ہیں اور اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتے ہیں ”
وہ آسمان سے نظریں ہٹاتی اسکی طرف دیکھ کر بولی تو انکے درمیان کچھ دیر کے لئے خاموشی چھا گئی۔
“کچھ دکھ بھی سیلاب کی طرح ہوتے ہیں ابراہیم اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتے ہیں انساں، اسکے ارمان اور اسکے خواب بھی ”
“خواب دوبارہ بھی تو دیکھے جا سکتے ہیں نا ؟”
اس نے دوبارہ اپنی نظریں آسمان سے ہٹائی وہ اسی کی طرف دیکھ رہا تھا اسکے دیکھنے پر اپنی نظریں پھیر گیا۔
“خواب ٹوٹنے کی چھبن انسان کو بہت ازیت دیتی ہے ابراہیم اتنی کہ وہ نئے خواب دیکھنے سے ڈرنے لگتا ہے ”
“میرا خواب ٹوٹتا تو خیر تھی میرے ساتھ میرے خاندان کا بھی خواب ٹوٹا ہے یہ خواب ہم سب نے مل کر دیکھا تھا ”
آسمان سے ایک بوند اسکے چہرے پر گری اور اسکے ہاتھوں پر کسی کا پہلا آنسو گرا۔
“م۔۔۔میں۔۔۔ن۔۔نے۔۔بہت۔۔۔محنت۔۔۔کی۔۔”
“م۔۔مجھے۔۔۔ل۔۔لگا۔کہ میری پکی نوکری لگ۔۔جائے۔۔گی۔۔تو۔۔سب۔۔ٹھیک۔۔۔”
آنسو اسکی آنکھوں سے متوازن گرنا شروع ہو گئے بارش کی بوندوں کی رفتار بھی تیز ہوئی۔
“م۔۔۔میں۔۔ہوٹل۔۔میں۔۔کام نہیں کر۔۔کرنا چاہتی تھی”
“میں بھی عام لڑکیوں کی طرح زمہ داریوں کے بوجھ سے آزاد جینا چاہتی تھی ل۔۔لیکن م۔۔میں۔۔ہر۔۔رات کل کی فکر م۔۔میں گزارتی ہوں۔۔۔میرا۔۔ہر۔۔دن سوچوں میں گ۔۔گزرتا ہے”
“میں بھی عام لڑکیوں کی طرح جینا چاہتی تھی لیکن میری زندگی نے مجھ سے میرے سارے رنگ چھین لئے اس زندگی نے مجھے بے رنگ بنا دیا ان روز مرہ کی مصیبتوں نے مجھ سے میری ساری رونقیں چھین لی ابراہیم۔۔۔۔”
“میرے لہجے میں کرواہٹ بھر دی ”
“م۔۔۔میں۔۔ن۔۔نے سب برداشت کر کہ پھر بھی ایک خواب دیکھا۔۔۔۔اس۔۔خواب۔۔کو۔۔حقیقت بنانے کی کوشش کی۔۔لیکن۔۔۔”
“ک۔۔۔کیا۔۔۔م۔۔میرا۔۔خوشیوں۔۔پر۔۔کوئی حق نہیں ؟”
ایک بوند ابراہیم کی پلکوں پر آئی ۔
اپنی شال اتار کر اس نے زوفشاں پر اوڑھی وہ وہیں رک گئی اسکے ہونٹ جیسے کسی نے سی دئے تھے وہ اسکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
“جائیں آپکو سردی لگ جائے گی”
“جائیں زوفی۔۔۔”
زوفشاں اسکی طرف دیکھے بغیر وہاں سے بھاگتی ہوئی اسکی نظروں سے دور ہوئی۔
Project will Launch it’s Episode on 23rd June.

 

Kashmakash Episode 1

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ زندگی کیا ہے تو میرا ایک لفظی جواب ہو گا
کشمکش ۔
پیدائش سے موت تک کی کشمکش ۔
خوشیوں سے دکھوں تک کی کشمکش
غریبی سے امیری تک کی کشمکش
امیری سے غریبی تک کی کشمکش
بچپن سے جوانی تک کی کشمکش
جوانی سے بڑھاپے تک کی کشمکش
دوستی سے اجنبیت تک کی کشمکش
محبت سے نفرت تک کی کشمکش
یہ کہانی ذوفشاں اکبر کی زندگی کی کشمکش کو بیان کرتی ہے اور اس کہانی کے آئنے میں ہم سب کو اپنی زندگیوں کی کشمکش بھی ضرور نظر آئے گی۔

Yaaran e Rooh

 یہ داستان ہے چار دوستوں کی۔اور ایک لازوال محبت کی اور ایک دلکش رشتے کی۔دوستی ایسا رشتہ ہے کہ جس کو زوال نہیں چاہے وہ ایک دوسرے سے دور ہو جائیں مگر ان کی روحیں ہمیشہ یکجا رہیں گی۔

Diyar e Qaid

دیارِ قید کی یہ کہانی میرے اور آپ کے ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے قلم بند کی گئی ہے ۔ یہ کہانی بظاہر تو لمحوں میں لکھی گئی ہے مگر پڑھنے والوں کو صدیوں پیچھے لے جائے گی۔ یہ ہمیں بتائے گی کہ کوئی ہے جو ہمارا منتظر ہے،
جس کا دیار ہم نے اجاڑ دیا،
جس کا چراغ ہم نے بجھا دیا،
جس کی امیدیں ہم نے توڑ دیں،
جس کی سلاخیں ہم نے جوڑ دیں،
 مگر وہ آج بھی ہماری راہ تکتے ہیں۔۔۔
 ایک آس سے کہ ایک دن ہم آئیں گے۔۔۔۔
اور ان کے دیار کو ظالموں کی قید سے رہا کروائیں گے۔ یہ کہانی ہے ان مظلوموں کی جو ہمیں پکار رہے ہیں۔
 ہاں وہ آج بھی ہمیں پکار رہے ہیں ۔۔۔۔

Mohlat

 کہتے ہیں زندگی میں یہ اہم ہے وہ اہم ہے۔لیکن اگر غور کریں تو صرف زندگی کا ہونا اور اُس میں ہمارا سیدھے راستے پر ہونا اہم ہے۔ منوں مٹی تلے سوئے ہزاروں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کی زندگی میں خواب تھے ، خواہشیں تھیں ، دنیا کی خوش نما آسائشیں تھیں اور وہ انھیں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے قبر کے اندھیرے میں جا پہنچے لیکن اب اگر اُنہیں اُٹھا کر پوچھا جائے تو وہ کہیں گے صرف زندگی اور بس زندگی۔ ایک موقعہ ، بس ایک آخری موقعہ ۔
مرنے والے کے سرہانے کھڑے ہوکر اس کے ادھورے رہ چکے خوابوں کے پورا ہوجانے کی دعا نہیں کی جاتی ، اس کی مغفرت کی دعا کی جاتی ہے۔
1 417 418 419 599