کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو لکھا تو جاتا ہے اور ان کو پڑھتے ہوئے قارئین متاثر بھی ہوتے ہیں اس کے باوجود ان مسائل کو حقیقی زندگی میں دیکھنے پر ان کو سرے سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ یہ کہانی انہی مسائل پر ہے جس کا نتیجہ مجھے بطور لکھاری اور قارئین پتہ ہے پھر بھی میں نے اس موضوع کو چھیڑا ہے جس کو ہماری دنیا مسائل میں شمار بھی نہیں کرتی اور وہ مسئلہ ہے “ذہنی امراض” کا ۔ یہ کہانی اسی کے گرد گھومتی ہے ۔