Novels

Jab Dill he Na Ho To

یہ کہانی ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے جو ایک بارہ سالہ معصوم لیکن زہین بچہ زمانے کی بے درد ٹھوکریں کھاکر کر منہ کے بل گر پڑا اور جب وہ اٹھا تو اسکی شخصیت ایک مختلف روپ اپنا چکی تھی اس پچیس سال کے مرد کو نفرت ہوچکی تھی اس دوغلی دنیا سے. سوائے اسکے دوستوں کے جو مشکل وقت میں اسکے زخموں پر مرھم ثابت ہوئے تھے… اب اسکی دنیا صرف اور صرف اسکے دوست ہی تھے
یہ کہانی ایک ایسی معصوم لڑکی کی ہے جو اپنی ایک چھوٹی سی لیکن نہایت ہی معصوم خواہش لیے جیتی ہے
یہاں دوستی بھی ہے اور انکی بے غرض محبت بھی یہاں شرارتیں بھی ہے یہاں درد بھی ہے.

Jafa Ka Mausam Khatam Hi Samjho By Qamrosh Shehk

Jafa Ka Mausam Khatam Hi Samjho is a Romantic Novel by Qamrosh Shehak.
“تو بےحیا بےغیرت بدکردار لڑکی۔جانے کب سے میرے شوہر پہ ڈورے ڈال رہی تھی۔بدچلن آوارہ تو خود کو سمجھتی کیا ہے۔اپنی دادی کیلیے روز اذلان کو یہاں بلالیتی اور یہ گل کھلارہی تھی۔میرے ہی حق پر ڈاکہ ڈالنا تھا تجھے۔”
ہ”ہانیہ پاگل ہوگئی ہو کیا۔کس قسم کی لینگویج استعمال کررہی ہو۔”اذلان نے ایک بار پھر سے اسکو قابو کیا تھا۔
“اس جیسی لڑکیوں کیلیے تو یہی لینگویج استعمال کرنی چاہیے۔جانے کہاں سے یہ دادی پوتی اٹھ کر آگئی ہیں بازاری مورت طوائف کا اڈہ بنارکھا ہے اس جگہ کو۔نیچ خاندان کی نیچ لڑکی۔جانے کتنے مرد یہاں آئے ہونگے۔”
“ہانیہ۔”اذلان کی برداشت کی حد ختم ہوگئی تھی۔اس نے دو تین تھپڑ ذور ذور سے ہانیہ کے منہ پہ جڑے تھے کہ اس کے ناک اور ہونٹوں کے پاس سے خون کی ایک لکیر نمودار ہوئی تھی۔
“شکر کرو کہ میرا ظرف یہی تک تھا۔”
ہانیہ اپنے چہرے پہ ہاتھ رکھے ازلان کو قاتلانہ نظروں سے گھور رہی تھی جبکہ مشعل نے دونوں ہاتھ اپنے منہ پہ رکھ لیے۔ہرنی انکھیں ہونق کی طرح پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔
“مشعل میری منکوحہ ہے میں جانتا ہوں اور وثوق سے اسکے بارے میں اسکے باکردار ہونے کی گواہی بھی دیتا ہوں۔تمہیں کیا لگا میں نے اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھ رکھی ہے۔تم اتنے ٹائم سے غائب رہی کہاں تھی کس کے پاس تھی۔کس کے ساتھ تمہارے شب و روز گزر رہے ہیں۔تم جس راستے پہ چل نکلی ہو۔”
“اپنا گناہ چھپانے کیلیے مجھ پر الزام مت رکھو اذلان۔”ہانیہ دھاڑی تھی۔
“میں اس سے ذیادہ کچھ نہیں کہ سکتا۔دفع ہوجاؤ یہاں سے۔”ازلان کا غصہ ساتویں آسمان سے باتیں کررہا تھا۔
1 225 226 227 594