صلہ شہیر میں ہے ۔اسے اسی میں دیکھا کریں ۔صلہ کو صلہ میں ڈھونڈیں گی تو آپ کو مایوسی ہو گی خالہ ۔"دھیمی مگر سنجیده آواز ،رقيه نے افسوس سے اسے دیکھا تھا ۔
"اپنی عمر سے بڑی باتیں مت کیا کرو بیٹا ۔مجھے خوف آنے لگتا ہے ۔"انکی بات سن کر وہ خفیف سا مسکرائی ۔ذرا توقف کو چپ رهی اور پھر بولی تو آواز بالکل ہموار اور لہجہ ہر احساس سے عاری تھا ۔
"غلط کہا جاتا ہے عمریں برس بیتنے سے بڑھتی ہیں ۔زندگی بڑی بے رحم ہے ایک ہی جھٹکے میں ایسی پختگی عطا کر دیتی ہے کہ سالوں کے تجربے لمحوں میں سمٹ آتے ہیں ۔میرے لئے بھی ایک تجربہ کافی تھا مزید کی کوئی گنجائش باقی کہاں رہی ہے جو آپ کو خوفزدہ کرے گا خالہ ۔دیر ہو رهی ہے ۔میں تیار ہوتی ہوں ۔"موضوع بحث سمیٹ کر وہ وہاں سے نکلتی چلی گئی ۔رقيه نے اسکی پشت کو دکھ بھری نظروں سے دیکھا تھا ۔کچھ چیزیں اختیار کی حد سے باہر ہوتی ہیں انہی میں سے ایک قسمت ہے جسے بدلنے کا اختیار ہمارے لاکھ چاہنے پر بھی ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتا ۔اگر ایسا ہوتا تو رقيه پہلی فرصت میں صلہ جہانگیر کی قسمت بدل دیتیں ۔نو سال پہلے کے لکھے کو مٹا دیتیں ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
کمرے میں گهپ اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔رات کا آخری پہر شروع ہوا چاہتا تھا کھڑکی کے آگے سے پردہ ہٹا ہوا تھا جہاں سے بارہویں کے تکمیل کی جانب گامزن چاند کی روشنی کمرے کے اندر اک لكیر کی صورت نمودار ہوتی ہر شے کو ملگجی سی روشنی عطا کر رہی تھی ۔ایسے میں بستر پر ہوش و حواس سے بیگانہ وجود پوری طرح پر سکون نیند کی آغوش میں تھا ۔بہت قریب سے دیکھنے پر اسکے نقش کسی حد تک واضح نظر آتے تھے ۔دراز و تنومند جسامت کا وہ تیس کے اوپر کا مرد تھا ۔ماتھے پر بال بے ترتیب سے بکھرے پڑے تھے ۔ ستواں ناک کی نوک چمکتی معلوم ہوتی تھی ۔ہونٹ سوتے ہوئے بھی سختی سے باهم پیوست تھے ۔
اسکے پرسکون خدوخال میں سوتے ہوئے بھی نرمی کا تاثر زائل سا تھا مگر وہاں آرام ده کیفیت صاف دکھائی دیتی تھی ۔
سوتے ہوئے بند پلکوں کے اس پار اسکی آنکھوں کی پتلیوں میں ارتعاش سا برپا ہوا تھا ۔چہرے پر پہلے بے آرامی کا تاثر ابھرا ،پھر شدید ہیجانی کیفیت میں اس کے چہرے نے کہیں رنگ لمحوں میں بدلے تھے ۔نیند کی حالت میں اسکا ہاتھ اپنی گردن تک گیا تھا ۔اور پھر وہ ہربڑا کر اٹھ بیٹھا تھا ۔دوسرا ہاتھ اندھیرے میں بنا سوچے سمجھے سائیڈ پر مار کر لیمپ جلایا گیا تھا ۔
تیز تیز سانسوں کی بے ربطگی اتنی زیادہ تھی کہ اسے منہ کھول کر گہرے سانس بھرنے پڑے تھے ۔سفید روشنی میں اسکے پسینے سے تر سپید چہرے کا رنگ بالکل فق پڑ رہا تھا ۔جیسے اسکے چہرے پر سے سارا خون نچڑ گیا ہو ۔
آنکھوں کی سراسیمگی کا عالَم یہ تھا کہ پتلیاں پتھرائی ہوئی سی لگتی تھیں ۔یکایک اس نے اپنے دونوں ہاتھ سامنے کیے تھے جن کی لرزش بڑی واضح تھی ۔کشاده ہتھیلیوں پر اسے سرخ خون کا سا گمان ہوا تھا ۔وہ اندھا دھند اٹھ کر واش روم کی جانب بھاگا تھا ۔واش کی بتی جلاتے ہی سارا منظر تیز روشنی میں نہا گیا تھا ۔واش بیسن کے آگے کھڑا وہ صابن مل مل کر ہاتھ دھو رہا تھا ۔مگر وہ سرخ گاڑھا سیال مادہ اترنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا ۔دفعتاً اسکی نگاہ آئینے میں نظر آتے اپنے چہرے پر پڑی تھی ۔اسکے منہ اور گردن پر بھی سرخ خون کے دهبے بڑے نمایاں تھے ۔پے در پے کہیں چھینٹے منہ پر مارتے ہوئے اس نے اتنی شدت سے اپنا چہرہ رگڑا تھا کہ وہاں سے جلد گلابی مائل ہونے لگی تھی ۔کتنی دیر تک وہ یہ عمل دوہراتا رہا تھا اسکی شرٹ پوری طرح پانی سے بھیگ چکی تھی ۔ماتھے پر گیلے بال چپکے گئے تھے ۔بہت سارا پانی آنکھوں میں جا کر جلن اور گلابی پن کا باعث بن چکا تھا ۔تھک کر اس نے آئینے میں اپنا آپ ایک بار پھر سے دیکھا تھا ۔اسکا چہرہ اب کے صاف تھا ۔ہاتھ بھی دھل کر اصلی حالت میں آ چکے تھے ۔ایک اکھڑا ہوا سانس لبوں سے خارج کرتے نل بن کیے کتنی دیر دونوں ہاتھ واش بیسن کے اطراف جمائے ،گردن جھکا کر اس نے آنکھیں موند اپنی حالت پر قابو پانے کی کوشش کی تھی ۔
واپس کمرے میں آ کر ساری لائٹس جلاتے وہ ڈھے جانے والے انداز میں آڑھا ترچھا بیڈ پر گرا تھا ۔آنکھوں کی پتلیاں اب بھی ساکن تھی ۔مگر اب ان میں ہیجان کی سی کیفیت کی جگہ سرد پن نے لے لی تھی ۔چہرے کا رنگ آہستہ آہستہ نارمل ہونے لگا تھا ۔وہاں اب پہلے سی بے چینی ،تکلیف اور خوب و ہراس نہیں تھا بلکہ ایک منجمد کر دینے والا بے تاثر سا احساس ہلکورے لے رہا تھا ۔سانسوں کی آواز بالکل مدهم تھی جو انکے پر سکون ہو جانے کی علامت تھی ۔
اس نے اپنا آپ سنبھال لیا تھا ۔بالکل ویسے جیسے کہیں سال پہلے سنبھالا تھا ۔وہ ایک عرصے سے PDST کا شکار تھا اور اسکا اپنے سوا کوئی طبیب نہیں تھا ۔اپنا مسیحا وہ ہمیشہ سے خود رہا تھا ۔اپنا مددگار اس نے ہمیشہ خود کو چنا تھا ۔اسکا ڈر ،خوف ،اسکی تکالیف ،اسکے سارے مسائل اسکے اپنے تھے جن کا کوئی شریک نہیں تھا ۔اور ان سب سے نمٹنا اس نے بہت چھوٹی عمر میں سیکھ لیا تھا ۔اس وقت بھی اپنے سوا اسے کسی کی ضرورت نہیں تھی ۔باقی کی پوری رات اس نے جاگ کر گزارنی تھی خود کو پہلے جیسا مضبوط کرنا تھا ۔اور صبح آئینے کے سامنے خود کو ماضی کے ہر خوف و ہراس کی قید سے آزاد شخص کے روپ میں دیکھنا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
اتنے تھوڑے دنوں کے لئے آنے کی ضرورت ہی کیا تھی پھر ۔آرام سے رہتے وہیں ۔مجھے بھی سکون سے رہنے دیتے ۔ویسے بھی تمہارے آنے سے کون سا مجھے کوئی فائدہ ہوتا ہے ۔الٹا میرا کام ہی بڑھ جاتا ہے ۔اس عمر میں بھی تمہیں پکا کر ہی کھلانا پڑ رہا ہے ۔"ایپرن باندھے اسکے سامنے کافی کا مگ رکھتے وه واپس مڑے تھے ۔سفید بال اور پوری طرح سے سفید ریش میں انکی سرخ و سپید کشمیری رنگت والا چہرہ اور بھی پر نور لگتا تھا ۔پچھتر کے قریب قریب عمر کے اس حصے میں بھی چاک و چوبند اور بالکل فٹ نظر آتے تھے ۔
"آپ ہی اداس ہو رہے تھے میرے بغیر ۔روز ایک ہی سوال کرتے تھے کب واپس آ رہے ہو ؟اب جب آپکا خیال کر کے دس دن کی لیو پر آ ہی گیا ہوں تو بھی کسی ناراض گرل فرینڈ کی طرح آپ کے گلے ختم نہیں ہو رہے ۔"کافی کا سپ لیتے وہ مسکرایا تھا مگر کندھے پر پڑنے والی ڈوئی نے اسے كراہنے پر مجبور کر دیا تھا ۔
"بو بی ۔۔۔"چھلک جانے سے بال بال بچی کافی کو میز پر رکھ کندھا سہلا تے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا تھا ۔
"شرم تو نہیں آئی ہو گی بوڑھے دادے کو گرل فرینڈ سے تشبیہ دیتے ہوئے ؟"کمر پر ہاتھ جمائے وہ اس کے پہلو میں کھڑے اب خشمگیں نظروں سے اسے گھور رہے تھے ۔جس کی ایکٹنگ اپنے عروج پر تھی ۔
"کمال کرتے ہیں آپ بھی ۔۔۔۔اب آپ سے بھی شرم کرتا پھروں میں ۔"کندھا چھوڑ کر ہنستا وہ مگ پھر سے اٹھا چکا تھا ۔
"شرم مت کرو بیٹا ۔بس تھوڑا خیال کر لو وہی کافی ہو گا میرے لئے ۔"واپس مڑ کر ڈوئی رکھتے اپنے لئے بنائی چپاتی اور سالن کی ٹرے اٹھا کر وہ بھی اس کے ساتھ آ بیٹھے تھے ۔ایپرن اتارنے کا تردد ابھی بھی نہیں کیا گیا تھا ۔
"کس قسم کا خیال بوبی ۔ذرا روشنی ڈالیں ۔"سر ہلاتا وہ اب پوری طرح سے انکی طرف متوجہ تھا ۔جس پر انہوں نے نوالے توڑتے ایک متاسف نگاہ اس پر ڈالی تھی ۔
"میری تنہائی کا ۔۔۔۔میرے اکیلے پن کا ۔اس عمر میں بھی میں بوڑھا تمہیں پکا پکا کر کھلا رہا ہوں ۔اب نہیں ہوتا مجھ سے یہ سب ۔اس گھر میں کوئی پکانے والی آ جانی چاہیے اب ۔جو سب سنبهال لے آ کر ۔"اپنی پلیٹ پر جھکے انکے کہنے پر اس نے سمجھنے کے سے انداز میں سر کو جنبش دی تھی ۔
"اوہ ۔۔۔۔اچھا اچھا ۔میڈ کی بات کر رہے ہیں آپ ۔۔۔۔۔"شد و مد سے سر ہلاتے انکے تنبیہی انداز میں خود کو گھورنے پر اسکی چلتی زبان کو بریک لگی تھی ۔
"نہیں میڈ کی بات تو نہیں کر رہے آپ ۔۔۔۔گھر کے کاموں تک تو ٹھیک ہے مگر اسکا آپ کی تنہائی اور اکیلے پن سے کیا لینا دینا ۔کامن سینس ۔"
"میں شادی کی بات کر رہا ہوں ۔"مزید اسکے اندازوں کی تاب نہ لا سکتے ہوئے وہ دل پر پتھر رکھ کر تحمل سے بولے تھے ۔البتہ کان سرخ ہونے لگے تھے ۔
مرتضیٰ کے ہونٹ اوہ کی شیپ میں گول ہوتے ٹھہر سے گئے تھے ۔کچھ دیر اس نے انکی بات کو ہضم کرنے کے لئے لیا تھا ۔پھر گلا کھنگار کر گویا ہوا ۔
"بالکل ۔۔۔۔۔میں ایگری کرتا ہوں آپ سے ۔ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہیے ۔بلکہ بہت پہلے سوچ لینا چاہیے تھا
لیکن کوئی بات نہیں دیر اب بھی نہیں ہوئی ۔"اپنا کافی کا مگ ایک سائیڈ پر کرتے دونوں ہاتھ باہم پھنسائے میز کی سطح پر رکھتے وہ سوچ سمجھ کر سنجیدگی سے کہہ رہا تھا ۔عبدالرحمان کاظمی کے چہرے کی خوشی اس لمحے دیدنی تھی ۔
"تو پھر تم بتاؤ ۔تمہاری نظر میں کوئی ہے ؟"وہ پر جوش ہوئے تھے ۔کچھ بے آرامی سے مرتضیٰ نے پہلو ذرا بھر بدلا ۔
"میری نظر میں بو بی ؟؟؟میرے خیال میں یہ فیصلہ آپ کو کرنا چاہیے ۔"ہلکا سا مسکراتے شانے اچکائے ۔عبدالرحمان صاحب نے بھرپور اطمینان سے سر نفی میں ہلایا ۔ناشتے سے ہاتھ وہ روک چکے تھے ۔
"نہیں میں تمہاری پسند کو ترجیج دوں گا مرتضیٰ ۔تم کھل کر اپنی پسند کا اظہار کر سکتے ہو ۔"انکے کہنے پر کچھ متذبذب سا وہ محتاط نظریں ان پر جمائے جیسے سوچ میں پڑ گیا تھا ۔
"مس شازمہ کیسی رہیں گی ؟"ڈرتے ڈرتے انکی طرف دیکھتے اس نے ہمت کر ہی ڈالی تھی ۔
عبدالرحمان کاظمی کی آنکھیں حیرت و بے یقینی سے پھیلی تھیں ۔ایک بھر پور نگاہ اس کے چہرے پر ڈال کر اسکی سنجیدگی جاننی چاہی تھی جو پوری طرح سے سنجیدہ دکھائی دیتا تھا ۔پھر زبردستی ہونٹوں کو کھینچ کر مسکراہٹ میں ڈھالا ۔نگاہوں کے سامنے سلم و سمارٹ سی نک سک تیار رہنے والی انہی کی کالونی کی شازمہ کا سراپا لہرایا تھا جو پچاس کے قریب پہنچنے کو تھیں مگر غیر شادی شدہ تھیں ۔
"شازمہ ۔۔۔۔اچھی ہے وہ مگر عمر میں کچھ بڑی نہیں ہے ؟نہیں مطلب دیکھو میں جانتا ہوں تم نئی نسل کے لئے عمروں کا فرق اب اتنا معنی نہیں رکھتا مگر پھر بھی اگر تم دس بارہ سال اس سے کم عمر کوئی دیکھ لو تو ۔۔۔۔"وہ مناسب الفاظ کا چناؤ کر رہے تھے ۔مرتضیٰ کے ماتھے پر بل پڑے ۔
"بالکل بھی نہیں ۔مس شازمہ مجھے بہت پسند ہیں وہ ایک اچھی خاتون ہیں ۔اور انکی ایج بھی مناسب ہے ۔اتنی عمر میں میچیورٹی لیول بھی ہائی ہوتا ہے اور یہ دونوں کے حق میں بہتر ہوگا ۔اس سے کم ایج کے حق میں میں قطعی آمادہ نہیں ہوں گا بو بی ۔"دو ٹوک اور قطعی انداز ۔عبدالرحمان نے پریشانی سے ماتھا مسل ڈالا تھا ۔
"مرتضیٰ تم جذباتی بن کر سوچ رہے ہو ۔ٹھیک ہے تمہاری بات سے میں اتفاق کرتا ہوں عورت میچیور ہو تو زندگی آسان گزرتی ہے۔مگر بیٹا اتنی میچیورٹی کا بھی کیا کرنا کہ بعد میں ۔۔۔۔دیکھو بیٹا سمجھنے کی کوشش کرو بعد میں بچوں کی پیدائش میں سو مسئلے ہوتے ہیں ۔"تحمل و متانت سے سمجھاتے ہوئے بھی انکی آواز میں جهنجهلاہٹ در آئی تھی ۔مرتضیٰ ایک جھٹکے سے اپنی کرسی سے اٹھا تھا ۔خاموش ماحول میں کرسی پیچھے ہونے کی چرچراہٹ بڑی واضح تھی ۔
"لاحول ولا قوت الا بلله ۔کیسی باتیں کر رہے ہیں بو بی آپ ۔ابھی مجھے شرم کا پاٹ پڑھایا جا رہا تھا ۔اب پوتے کے سامنے ایسی باتیں کرتے روح نہیں کانپی آپ کی ۔"ہاتھ نچا کر جذباتی عورتوں کی طرح وہ لڑنے پر اتر آیا تھا ۔عبدالرحمان ہونق پن سے اسے دیکھ رہے تھے ۔جو اب دو تین گہرے گہرے سانس لیتا جیسے خود کو کمپوز کر رہا تھا ۔
"دیکھیں بوبی آپ کی تنہائی کا احساس مجھے بھی ہے اس لئے میں اس میں کوئی برائی نہیں سمجھتا اگر آپ شادی کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو ۔بڑھاپے میں اپنے لائف پارٹنر کی اہمیت اور جو جگہ ہوتی ہے وہ زندگی میں کوئی اور نہیں لے سکتا ۔یہ بات سمجھتا ہوں میں ۔مگر اب اتنا اچھا بھی نہیں ہوں کہ اس عمر میں اپنے چچا یا پھپھو کی دنیا میں آمد پر خوش ہوتا پھروں گا ۔"سر جھٹک کر سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ اس نے جو کہا تھا ۔عبدالرحمان صاحب کو وہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا تھا ۔اور اس کے بعد وہ غصے سے بھرے تاثرات چہرے پر لئے جس تیزی سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے بے اختیار وہ دو قدم دور ہوا تھا ۔
"بے ہدایتے ،گدھے، بے غیرتے شرم نہ آئی تجھے بوڑھے دادا کے بارے میں اتنا اول فول سوچتے ہوئے ۔میں اپنی نہیں تمہاری شادی کی بات کر رہا تھا ۔اور تم اتنی دیر سے نہ جانے کیا بکواس سوچ کر بے تکی ہانکے جا رہا ہے ۔یہ سفید داڑھی اور قبر میں جاتی ٹانگوں کے ساتھ میں اپنی شادی کی بات کروں گا کیا ۔"غصے اور ضبط کی شدت سے لال پیلے ہوتے وہ اسے شعله بار نظروں سے گھور رہے تھے جو اب منہ کھولے ہق دق سا انہیں دیکھ رہا تھا ۔شکر تھا انسان شرم سے پانی پانی نہیں ہوتا تھا ورنہ اس لمحے اس نے ضرور پانی کا بلبلا بن جانا تھا ۔
"لیکن آپ ہی نے تو کہا آپ کی تنہائی اور اکیلا پن ۔۔۔۔۔"تھوگ نگل کر وہ بمشکل کہہ سکا تھا ۔سارا جوش و ولولہ اس لمحے ہرن ہو چکا تھا ۔
"تو تجھ بیوقوف کی بیوی آئے گی پھر بچے ہوں گے تو میری تنہائی دور ہی ہو گی ۔"دانت پیس کر انہوں نے جس انداز میں کہا تھا مرتضیٰ کے لئے مزید وہاں رکنا محال ہو گیا تھا ۔کچھ دیر پہلے وہ ڈوئی کا حملہ برداشت کر چکا تھا اب مزید کسی خطرناک ہتھیار کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا ۔
"اوکے فائن ۔آئی ایم سوری بوبی ۔میں اپنے سارے الفاظ واپس لیتا ہوں ۔یوں سمجھیں آج کی یہ صبح ہمارے بیچ کبھی آئی ہی نہیں تھی ۔"دونوں ہاتھ اٹھا کر کہتے ہوئے اس نے باہر کی جانب تیز قدموں سے دوڑ لگائی تھی ۔
"اب کہاں بھاگ رہے ہو ۔"پیچھے سے انکی جلالی آواز آئی تھی ۔
"مجھے کل ہی میسج ملا تھا بینک والوں نے بلايا ہے کچھ پیپر ورک کے سلسلے میں ۔اور ساتھ تاکید بھی کی گئی ہے کہ میں جلد از جلد یہ کام آ کر نمٹا جاؤں ۔"دروازے کے فریم میں رک کر وہ تیز تیز بولا تھا ۔
"ہفتے کے دن کون سا بینک کھلا ہو گا تمہارے لئے ۔"
"آہ۔۔۔۔۔۔آج تو ہفتہ ہے مجھے بھول گیا ۔لیکن ۔۔۔۔۔۔۔پھر بھی کیوں کہ میں اس ملک کا ایک ذمہ دار شہری ہوں اس لئے بینک بند ہونے کے باوجود انکے کہے کے عین مطابق میں جلد از جلد جاؤں گا اور بینک کے باہر سے چکر لگا کر واپس آ جاؤں گا ۔ڈونٹ وری بو بی میں ایک گھنٹے تک واپس آتا ہوں ۔"
وہ دروازے کے فریم سے غائب ہو چکا تھا ۔پیچے وہ ضبط کے بڑے بڑے کڑوے گھونٹ پی کر رہ گئے تھے ۔ناشتہ جوں کا توں رکھا تھا ۔اس کی دی ڈوز کے بعد مزید کچھ کھانے کی حاجت باقی کہاں رهی تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
سامنے رکھی فائل سے سر اٹھا کر صلہ نے دروازے کی جانب دیکھا تھا جہاں تھوڑا سا دروازہ کھول کر منہ اندر کیے کھڑا وہ اس کے دیکھنے پر مسکرایا تھا ۔
"میں آ جاؤں ؟"
سر اثبات میں ہلا ئے جانے پر وہ اندر داخل ہوا تھا ۔صلہ نے دونوں بازو پھیلا کر اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا ، تیز قدم لیتا وہ اسکی گود میں آ کر بیٹھتا ایک بازو اسکی گردن میں ڈال چکا تھا جس پر صلہ نے اسکا گال چوما ۔
"آپ کا کام ختم ہوا ؟"
"ہاں بس سمجھو ہو گیا ہے ۔"فائل بند کرتے اس نے پوری توجہ اس کی جانب مبذول کی تھی حالاںکہ ابھی اسکا دیکھنے کو کافی کام رہتا تھا ۔
"تو اب آپ فری ہیں ؟"شہیر کی آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہوا ۔اس نے مسکرا کر سر ہاں میں ہلایا ۔
"تو پھر آپ میرے ساتھ پارک چلیں گی ؟"اسے شام میں قریبی پارک جانے کی عادت تھی ۔زیادہ تر وہ رقیہ خالہ ساتھ ہی جایا کرتا تھا ۔معمول کے دنوں میں وہ آفس ہوا کرتی تھی مگر ویک اینڈ پر کبھی فری ہو تو وہ اسے ساتھ گهسیٹ لیا کرتاتھا ۔وہ پارک وغیرہ جانا پسند نہیں کرتی تھی اس لئے زیادہ تر شہیر بھی اسے تنگ نہیں کیا کرتا تھا ۔بلکہ ویک اینڈ پر تو وہ خود بھی نہیں جایا کرتا تھا گھر میں رہتا تھا ۔صلہ کے ساتھ وقت گزارتا تھا ۔اور زیادہ تر گروسری کے لئے وہ ماں بیٹا ویک اینڈ کا ہی انتخاب کیا کرتے تھے ۔ایسے میں اسکی ماں کے ساتھ آئس کریم پارٹی بھی ہو جایا کرتی تھی ۔
"اچھا چلتے ہیں ۔"اس کے اتنے مان بھرے انداز میں کہنے پر وہ چاہ کر بھی انکار نہیں کر پائی تھی ۔صبح سے گھر کے سبھی کام نمٹاتے اور آفس کا کام کرنے کے بعد اب اسکا جی تو بالکل نہیں چاہ رہا تھا مگر شہیر کی خوشی کے لئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔اسکی زندگی میں شہیر حیدر سب سے پہلے آتا تھا ۔اپنی ذات تو عرصہ ہوا کہیں بہت پیچھے رہ گئی تھی ۔
کچھ دیر بعد چادر لے کر صلہ اور شہیر دونوں فلیٹ سے نکلے تھے ۔خلاف معمول شہیر نے اپنا بیگ ساتھ نہیں لیا تھا ۔
"تم آج پینٹنگ نہیں کرو گے ؟"
"نہیں میں آپ کے ساتھ باتیں کروں گا ۔"اسکی انگلی تھامے چلتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔
وہاں چار ایک جیسی عمارتیں تھیں جن کے سامنے کا کچھ ایریا گراؤنڈ پر محیط تھا ۔اور سامنے چھوٹی سی سنگلاخ باؤنڈری وال تھی ۔ایک بڑا سا سنگلاخ گیٹ تھا جہاں پر واچ مین چاک و چو بند کھڑا تھا ۔اب وہ بلڈنگ کے ایریا سے نکل کر مین روڈ پر آ چکے تھے ۔ وہ زیادہ گنجان آباد علاقہ نہیں تھا ۔مین روڈ کے اطراف کہیں کہیں کافی جگہ خالی پڑی ہوئی تھی تو کہیں رہائشی گھر بنے ہوئے تھے ۔
سہ پہر کے بعد کا وقت تھا ۔سورج کے مزاج کچھ ٹھنڈے معلوم ہوتے تھے ۔آسمان پر کہیں کہیں بادلوں کے ٹکڑے سے تیر رہے تھے ۔ایسے میں ہوا کی روش بھی کچھ بدل سی گئی تھی ۔تازہ ہوا کے جھونکے نے اسکے گالوں کو چھوا تو موڈ خوش گوار ہونے لگا تھا ۔