یہاں تو ہر کردار کے ماضی میں کوئی نہ کوئی راز چھپا ہوا ہے، اور اب عدن کا ماضی بھی آہستہ آہستہ سامنے آنے لگا ہے۔ آخر یہ اسفندیار کون ہے؟ اور عدن اس سے کیوں چھپ رہی تھی؟ دوسری طرف میر عثمان ایک بار پھر عدن سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ امید ہے کہ عدن جلد ہی اپنی محبت کا اقرار کر کے میر عثمان کو غلط فہمی سے بچا لے گی۔
آدم اور سبیل کے سینز کیوٹ سے تھے۔ ایک سین جو بڑے مزے کا تھا جب سبیل کچن سے باہر نکلتی ہے،آدم کو دیکھ کر چونک جاتی ہے اور فوراً واپس چلی جاتی ہے، جبکہ بیچارہ آدم حیران و پریشان کھڑا رہ جاتا ہے کہ آخر ہوا کیا ہے۔
صفہ اور سبیل کے سینز تو ہمیشہ ہی مزے دار ہوتے ہیں۔ ان کی نوک جھونک کہانی کو مزید دلچسپ اور پرلطف بنا دیتی ہے،