Urdu Digest Novels

Sambhal Jao by Hina javed

Sambhal Jao is a Social Issues Based Novel by Hina Javed Published in Khawateen Digest December 2025.
ناول: سنبھل جاؤ از حناجاوید
خواتین ڈائجسٹ دسمبر ۲۰۲۵
تبصرہ نگار: اقراء عنایت
بعض اوقات کچھ لوگ خود کو اتنا کامل سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کی نظر میں ہر دوسرا انسان حقیر اور کمتر دکھائی دیتا ہے، اور ان کے نزدیک صرف وہی خود عقل مند اور باشعور رہ جاتے ہیں۔
کچھ ایسا ہی معاملہ نازیہ کے ساتھ بھی پیش آیا۔ وہ بچپن ہی سے نہایت باشعور، سمجھ دار، پڑھائی میں ہوشیار اور گھرداری میں اس قدر سلیقہ مند تھی کہ اس کے والدین ہی نہیں بلکہ نانی تک اس کی تعریف کیے بغیر نہ رہتی تھیں۔ اس کے کزنز کا ہر وقت نازیہ سے موازنہ کیا جاتا، جس کے نتیجے میں وہ رفتہ رفتہ لوگوں کی نظروں میں ایک ناپسندیدہ شخصیت بنتی چلی گئی۔
مگر اس کے والدین کے لیے وہ نہایت اہم تھی؛ گھر کا ہر فیصلہ اس کی رضا سے ہوتا تھا۔
تاہم جب یہی “کامل” بیٹی سسرال والوں کے نزدیک “حد سے زیادہ ہوشیار” اور “اوور اسمارٹ” کہلانے لگی تو نازیہ کے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت ہو گئی۔ اس نے کبھی جھکنا سیکھا ہی نہیں تھا، اور یہی ضد اس کے گھر کو بسانے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی۔
کئی سال اکیلے گزارنے کے بعد اسے یہ احساس ہوا کہ تنہائی جس میں انسان اپنی مرضی کا مالک اور بظاہر آزاد ہوتا ہے اس زندگی سے کم تر ہے جس میں اگرچہ معمولی رنجشیں ہوں، مگر بالآخر یہی رشتے مشکل وقت میں انسان کے کام آتے ہیں۔
یہ کہانی دراصل اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ کمال پسندی اگر عاجزی سے خالی ہو تو رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے، اور انسان کو دیر سے ہی سہی، مگر یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ زندگی صرف درست ہونے کا نام نہیں، بلکہ ساتھ چلنے کا ہنر بھی مانگتی ہے۔

Kar Chale Jaan Nisar Hum Episode 7 by Sania Umair

Kar Chale Jaan Nisar Hum is a Haveli based | Strong Female Lead Based | Friendship Based | Suspense Based | Crime Mystery Based | Strangers to Lovers Based by Sania Umair Publishing in Khawateen Digest.
ناول: کر چلے جانثار ہم از قلم سنعیہ عمیر
قسط نمبر ۷
خواتین ڈائجسٹ دسمبر ۲۰۲۵
کہانی تقریباً اپنے اختتام کے قریب ہے۔اس قسط کو پڑھتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ بشّار شاید سب کچھ سنبھال لے گا، حالات کو درست کر دے گا، مگر نہ جانے کیوں اس کا اپنا انجام خوشگوار نظر نہیں آتا۔ مصنفہ نے اس موڑ پر کہانی کو اس قدر جذباتی اور سنجیدہ بنا دیا ہے کہ قاری ہر کردار کے لیے دل سے دعا کرنے لگتا ہے۔
بطور قاری میری دلی خواہش ہے کہ دُرِ ثمین اور بشّار کو آخرکار ایک خوشگوار انجام نصیب ہو، کیونکہ ان دونوں کے حصے میں پہلے ہی بہت آزمائشیں آ چکی ہیں۔ اسی طرح لائبہ اور اویس کی کہانی بھی کسی سکون بھرے موڑ پر ختم ہو
میں سوچتی ہوں کہ آخری قسط میں شاید کچھ قربانیاں سامنے آئیں، کچھ سچ بے نقاب ہوں ۔ یہ ناول اس مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں ایک مضبوط، یادگار اور قدرے درد بھرا انجام اسے دیر تک یاد رہنے والی کہانی بنا سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مصنفہ قاری کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے ہمیں مسکراہٹ دے جاتی ہیں یا آنکھوں میں نمی چھوڑ کر الوداع کہتی ہیں۔
1 128 129 130 173