یہ کہانی ہے روایتوں کی بھینٹ چڑھے کچھ ایسے کرداروں کی جو وقت اور حالات کی گردمیں خواہشات کی تگ ودو میں الجھنوں میں جکڑ کر بلآخر قدرت کے فیصلوں پر سر خم تسلیم کر گئے
ریحان جہانگیر، ایک کامیاب بزنس وومن اور آدھی پاگل عورت، شکاگو میں ایک بزنس ڈیل پہ دستخط کرنے جاتی ہے۔ مگر وہاں اس کا سامنا ایک پرانے چہرے سے ہوتا ہے۔ اب وہ چہرہ، ایک دوست کا ہے، یا دشمن کا، یہ ماضی اور مستقبل کے بیچ لڑی جانے والی حال کی اس پر اسرار اور دل دہلا دینے والی داستان پڑھ کر جانیں، کیونکہ زندگی ہمیشہ دھوپ میں سایہ نہیں دیتی
کسی بھی رشتے میں اعتبار اور بھروسہ ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتا ہے ۔جس کی مضبوطی کے بنا کوئی بھی رشتہ کھوکھلا ہوتا ہے ۔لیکن یہی اعتبار جب کسی ایک رشتے کے ترازو میں اندھا ہو کر تولا جانے لگے تو انسان سے جڑے کسی دوسرے رشتے کے لیے سانس لینا دوبھر کر دیتا ہے ۔
اعتبار کیجیے مگر اندھا نہیں آنکھیں کھلی رکھیں ،آپ کی بند آنکھیں کسی معصوم کی زندگی برباد کرنے کے لیے کافی ہیں ۔
اس ناول کا مختصر حصہ حقیقت پر مبنی ہے جبکہ سارے کردار فرضی ہیں۔ قاری کو رائیٹر کے کچھ خیالات سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ یہ ناول اس معاشرے کے دوغلے پن کو کھول کر سامنے لائے گا جس میں والدین کا اپنی اولاد اور دوسرے کی اولاد کے ساتھ کیا جانے والا امتیازی سلوک ہے۔ اس ناول کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں ہے۔