کہانی ہے تراب سکندر کے لازوال عشق کے انتظار کی ، آغافارذ کے پچھتاوے کی ، شہریار فاروقی کی دوستی کی ، زرتاشہ عالم کی پاکیزگی کی ، افسن براق کی شفاف محبت کی ، اسٹیلا کی آزمائش اور اشمیر کا خدا کی ذات سے باغی ہونے کی ۔
شہر مفسدین اس ملک کہ اس نظام کے اوپر روشنی ڈالتا ہے جس میں پیسے کے بلبوتے پر حق اور سچ کو چھپا دیا جاتا ہے ۔ یہ ناول ہر اس صحافی کے نام ہے جس نے حق کا ساتھ دیا۔
یہ مختلف قسم کی انسانی سمجھ سے بالاتر کہانیوں کا ایک مجموعہ ہے۔ کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ اشرف المخلوقات کو قدرت کے چھپے ہر راز کا علم ہو سکے۔ یہ کہانیاں انہی میں سے ایک راز پر مبنی ہیں۔
شہرِ ذات عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی تک کے سفر کا نام ہے جس میں ” مرحا یوسف ” نے اپنی ذات ” تراب سکندر ” نے اپنی محبت اور ” حمزہ یوسف ” نے اپنا سب کچھ گنوا دیا ۔۔ “