اس ناول کا مختصر حصہ حقیقت پر مبنی ہے جبکہ سارے کردار فرضی ہیں۔ قاری کو رائیٹر کے کچھ خیالات سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ یہ ناول اس معاشرے کے دوغلے پن کو کھول کر سامنے لائے گا جس میں والدین کا اپنی اولاد اور دوسرے کی اولاد کے ساتھ کیا جانے والا امتیازی سلوک ہے۔ اس ناول کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں ہے۔
زندگی میں آیا ہر انسان اپنے اصل کی بنیادوں پر کھڑا ہوتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے گول گھومتی جلیبی کا ایک سرا اسے اس کے آخری سرے سے بالآخر جوڑ ہی دیتا ہے ، اپنے اصل کو پہنچاننے والا اطمینان اور ٹہراؤ کا پیکر ہوتا ہے اس کے بر عکس جو اپنے اصل کو بھول جائے وہ جا بجا کے روگ کا شکار ہوتا ہے
یہ کہانی ہے مزاح کی جس میں سبق ہے اپنے اصل کی جانب مڑنے کا ، یہ کردار آپ کو ہنسانے کے ساتھ ساتھ آپ کی اصلاح کریں گے تو شروع کرتے ہیں سفر ‘جلیبی’ کا
تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا” محض چند کرداروں پر مشتمل ہے جس کی کہانی ان ہی چند کرداروں کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ “نورالعین” اس کہانی کا مرکزی کردار ہے جو اپنی زندگی میں کئی موڑ سے گزرتی ہے۔ کچھ موڑ اسے خوبصورت راستوں اور گلیوں کی سیر کرواتے ہیں تو کچھ موڑ اس کی زندگی کو یکایک تاریکی کی نذر کر دیتے ہیں۔ وہ اپنی معصومیت اور کم عمری کی وجہ سے کئی دفعہ صحیح سمت کا تعین نہیں کر پاتی ہے اور بعض غلط فیصلے تو عمر بھر کا پچھتاوا مقدر کر دیتے ہیں۔ کیا نور کبھی اس پچھتاوے سے، ان خاردار رستوں سے نکل کر حسین منزل کی سمت بڑھ پائے گی؟
یہ کہانی ہے رب پہ توکل کرنے والوں کی۔ یہ کہانی ہے دولت کی دیمک لگے رشتوں کی۔ ایک ایسی مختصر داستان جو ہمیں سکھاتی ہے کہ رشتے محض خون سے نہیں بلکہ اپنے سے جڑے لوگوں کا “احساس” کرنے سے بنتے ہیں۔ آزمائش زندگی کا حصہ ہیں اور ہر مشکل کے بعد آسانی رب کا وعدہ ہے۔
کہانی میں آپ ملیں گے کچھ ایسے چلبلے کرداروں سے جو آپکے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دے گے ،
اس کہانی میں آپ ملے گے تین دوستوں سے جو کچھ زیادہ ہی پاگل ہیں اور ان کو سدھارنے والے بھی ان سے کم نہیں ہیں،
اس کہانی میں آپ ملیں گے ایک بدتمیز شاگردہ اور انکے سلجھے ہوئے پروفیسر سے،ایک حکم چلانے والے باس اور انکی نافرمان سیکرٹری سے ،ایک کھڑوس ہیرو اور ان پر مرنے والی ڈبل کھڑوس ہیروئن سے اب انکی زندگی آپس میں کیسے الجھتی ہے یہ جاننے کے لئے ناول سے جڑے رہیئے۔