Novels

Mutlashi Episode 1 by Mehak Binte Shabbir

یہ ایک اردو ناول ہے جو انسان کے اپنے آپ کو پہچاننے اور خود کی تلاش کے سفر کو اجاگر کرتا ہے۔ کہانی یہ پیغام دیتی ہے کہ زندگی میں اگر کوئی واقعہ ہماری توقعات اور منصوبہ بندی کے خلاف پیش آجائے، اور بظاہر ناقابلِ قبول محسوس ہو، تو وقت گزرنے کے ساتھ وہی واقعہ ایک نئے معنی اور نئے زاویے کو آشکار کرتا ہے۔
ناول میں غیر قانونی انسانی اعضا کی اسمگلنگ جیسے حساس موضوع کو بھی نمایاں کیا گیا ہے، جو نہ صرف ایک بھیانک حقیقت ہے بلکہ ہماری سوسائٹی، نوجوان نسل اور معیشت پر گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ یہ کہانی قاری کو ایک ایسے سفر پر لے جاتی ہے جہاں ذاتی جدوجہد اور سماجی المیے ایک دوسرے سے جُڑتے ہیں اور ایک سنسنی خیز، حقیقت پر مبنی داستان سامنے آتی ہے۔

Mutlashi Episode 2 by Mehak Binte Shabbir

یہ ایک اردو ناول ہے جو انسان کے اپنے آپ کو پہچاننے اور خود کی تلاش کے سفر کو اجاگر کرتا ہے۔ کہانی یہ پیغام دیتی ہے کہ زندگی میں اگر کوئی واقعہ ہماری توقعات اور منصوبہ بندی کے خلاف پیش آجائے، اور بظاہر ناقابلِ قبول محسوس ہو، تو وقت گزرنے کے ساتھ وہی واقعہ ایک نئے معنی اور نئے زاویے کو آشکار کرتا ہے۔
ناول میں غیر قانونی انسانی اعضا کی اسمگلنگ جیسے حساس موضوع کو بھی نمایاں کیا گیا ہے، جو نہ صرف ایک بھیانک حقیقت ہے بلکہ ہماری سوسائٹی، نوجوان نسل اور معیشت پر گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ یہ کہانی قاری کو ایک ایسے سفر پر لے جاتی ہے جہاں ذاتی جدوجہد اور سماجی المیے ایک دوسرے سے جُڑتے ہیں اور ایک سنسنی خیز، حقیقت پر مبنی داستان سامنے آتی ہے۔

My Kharoos Mr.

“اس بلے کو کتنی جلدی غصہ آ جاتا ہے ہر وقت غصہ غصہ جیسے آیا ہی دنیا میں غصہ کرنے کے لیے ہے!!”
بڑبڑا کر وہ سینے پر ہاتھ بندھتی پیر جھلانے لگی۔ بدر نے ناگواری سے کال کاٹ کر نمبر ڈیلیٹ کر دیا۔
“ویسے تمہیں اتنا غصہ آتا کہاں سے ہے؟”
ہتھیلی پر گال ٹکا کر اس نے آنکھیں بار بار جھپک کر معصومیت سے بولنے کی کوشش کی وہ الگ بات ہے معصومیت سے دور دور تک تعلق نہ ہونے کی وجہ سے یہ کوشش بےکار گئی۔۔
“بچپن سے ایسا ہوں!!!”
کوٹ اٹھا کر پہنتے وہ بےنیازی سے بولا۔ یہ جنگلی بلی کچھ زیادہ فری نہیں ہورہی تھی؟ وہ شرارت سے مسکرائی اسکی نیلی آنکھوں کے کانچ چمک اٹھے تھے۔۔
“پھر تو تمہیں اپنے پیدا ہونے پر بھی غصہ آیا ہوگا جب پہلی بار آنکھ کھلی ہوگی نواب کی۔۔ دنیا میں!!!”
وہ گردن پیچھے پهینکتی ہنس پڑی اس نے جیسے اپنی بات کو انجوائے کیا تھا اب جو کچھ اس کے ذہن میں آ رہا تھا وہ کہہ نہیں سکتی تھی لیکن اسے ہنسی شدید والی آ رہی تھی۔
اسے یوں پاگلوں کی طرح ہنستے دیکھ کر بھی وہ سڑے تاثرات سجائے کھڑا رہا سرمئی آنکھیں البتہ اس کے ہنسی سے سرخ ہوتے چہرے پر گڑھی تھیں۔۔
انہیں دیکھ کر کون کہہ سکتا تھا کہ وہ اس سے ایک سال دو ماہ بڑی تھی۔ اس کے کسرتی جسم اور چھ فٹ سے نکلتی ہائیٹ کی وجہ سے وہ اس کے سامنے بچی لگتی تھی۔
“اچھا ایک آخری بات! اوکے؟ تمہیں سب سے زیادہ غصہ کس پر آتا ہے مطلب سب سے زیادہ!!!” ۔۔
بال کھول کر پھر سے جوڑے میں باندھتے ہوئے وہ سیدھی ہو کر بیٹھی اس کے پیر ہیلز سے کچھ دور ہی تھے۔۔
“تم پر ۔۔۔ اس کے بعد تمہاری ہیلز پر!!”
وہ کٹیلی نظر اس پر پھر زمین پر پڑی ہیلز پر ڈالتا دانت پیس کر بولا۔ اس کا بس چلتا دنیا کی ساری ہیلز کو آگ لگا دیتا سب سے پہلے اس جنگلی گھنگھریالے بالوں والی چڑیل کی جس نے اپنی ہیلز سے گلاس ڈور پر کئی بار ڈیزائن چھاپے تھے۔۔!
ارشیہ کی مسکراہٹ غائب ہوئی اس نے دانت پیس کر اس کھڑوس، بدتمیز، منحوس بلے کو دیکھا۔۔
1 344 345 346 548