Novels

Muhabbat Bheek hai Shayad Part 3

“منگتے ہیں ہم ایک ہی در کے۔۔جو در در مانگتا پھرے اسے سوالی نہیں کہتے۔۔”
محبت بھیک ہے شاید؟؟
یہ محبت ہی تو ہے جو اپنے جیسے خوبصورت لفظ کو خالص محرم سے جوڑتے ہوئے زندگی کو خوبصورت معنی دیتی ہے۔۔
جب محبت زندگی کو خوبصورت معنی دیتی ہے تو  کیا محبت بھیک ہوئی؟؟

Muhabbat Bheek hai Shayad Part 5

“منگتے ہیں ہم ایک ہی در کے۔۔جو در در مانگتا پھرے اسے سوالی نہیں کہتے۔۔”
محبت بھیک ہے شاید؟؟
یہ محبت ہی تو ہے جو اپنے جیسے خوبصورت لفظ کو خالص محرم سے جوڑتے ہوئے زندگی کو خوبصورت معنی دیتی ہے۔۔
جب محبت زندگی کو خوبصورت معنی دیتی ہے تو  کیا محبت بھیک ہوئی؟؟

Muhabbat Bheek hai Shayad Part 6

“منگتے ہیں ہم ایک ہی در کے۔۔جو در در مانگتا پھرے اسے سوالی نہیں کہتے۔۔”
محبت بھیک ہے شاید؟؟
یہ محبت ہی تو ہے جو اپنے جیسے خوبصورت لفظ کو خالص محرم سے جوڑتے ہوئے زندگی کو خوبصورت معنی دیتی ہے۔۔
جب محبت زندگی کو خوبصورت معنی دیتی ہے تو  کیا محبت بھیک ہوئی؟؟

Muhabbat Bheek hai Shayad Part 7

“منگتے ہیں ہم ایک ہی در کے۔۔جو در در مانگتا پھرے اسے سوالی نہیں کہتے۔۔”
محبت بھیک ہے شاید؟؟
یہ محبت ہی تو ہے جو اپنے جیسے خوبصورت لفظ کو خالص محرم سے جوڑتے ہوئے زندگی کو خوبصورت معنی دیتی ہے۔۔
جب محبت زندگی کو خوبصورت معنی دیتی ہے تو  کیا محبت بھیک ہوئی؟؟

Muhabbat Bheek hai Shayad Part 8

“منگتے ہیں ہم ایک ہی در کے۔۔جو در در مانگتا پھرے اسے سوالی نہیں کہتے۔۔”
محبت بھیک ہے شاید؟؟
یہ محبت ہی تو ہے جو اپنے جیسے خوبصورت لفظ کو خالص محرم سے جوڑتے ہوئے زندگی کو خوبصورت معنی دیتی ہے۔۔
جب محبت زندگی کو خوبصورت معنی دیتی ہے تو  کیا محبت بھیک ہوئی؟؟

Muhabbat Bheek hai Shayad Part 9

“منگتے ہیں ہم ایک ہی در کے۔۔جو در در مانگتا پھرے اسے سوالی نہیں کہتے۔۔”
محبت بھیک ہے شاید؟؟
یہ محبت ہی تو ہے جو اپنے جیسے خوبصورت لفظ کو خالص محرم سے جوڑتے ہوئے زندگی کو خوبصورت معنی دیتی ہے۔۔
جب محبت زندگی کو خوبصورت معنی دیتی ہے تو  کیا محبت بھیک ہوئی؟؟

Muhabbat Border Paar by Abeera Babar

یہ افسانہ 1947 کی تقسیم کے بعد بچھڑنے والے رشتوں، یادوں اور خوابوں کا نوحہ ہے۔ یہ اُن چھوٹی ریاستوں اور بستیوں کو خراج ہے جنہوں نے ہجرت کا دکھ دل میں بسائے رکھا۔ لکیر نے صرف زمین نہیں، دلوں، رشتوں اور بچپن کی یادوں کو بھی جدا کیا۔ کہانی اُن بچھڑے چہروں اور کھوئے خوابوں کی ہے جو وقت کی گرد میں دب گئے، مگر امید اب بھی زندہ ہے کہ شاید ایک دن سب کچھ پھر سے جُڑ جائے، اور ہم کہہ سکیں: “ہم صرف بچھڑے تھے، بھولے نہیں”۔
1 332 333 334 549