آزار! کہانی ہے ان لوگوں کی جو دوسروں کو پانے کیلئے اپنا آپ بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔ جن کو لگتا ہے کسی کے کھو جانے سے وہ آزار ہو جاۓ گۓ اور جی نہیں سکے گۓ۔ لیکین ناہی وہ آزار ہوتے ہے ۔ بلکہ جیتے بھی ہے۔۔۔۔ اور جیتتے بھی۔
یہ کہانی ایک جوان بیوہ ذرجان کی ہے۔ جو اپنی زندگی اپنے بیٹے کی وجہ سے جی رہی تھی۔ اسکی زندگی پر سکون تھی جبتک اُسکا بچپن کا دوست اسکی زندگی میں واپس نہیں لوٹ آتا۔ جو آتے ساتھ ہی اپنی پسندیدگی کا اظہار کر دیتا ہے۔ اس مرکزی کہانی کے ساتھ اور بھی کہانیاں چلتی ہیں۔
یہ کہانی ہے سکون سے ظلم تک کے سفر کی….کہی لوگوں کی آہ کی، جس میں کہی آہیں، کہی چیخیں دب گئیں….اس کہانی میں کئی معصوم بچے، مرد اور عورتیں اسی آس میں مار گئے کہ کوئی ہے جو انہیں بچائے….یہ کہانی ہے ان لوگوں کی جنہوں نے صبر سے کام لیا، اس امید میں جئے کہ کوئی تو ہو گا جو انہیں ظالموں کے ظلم سے بچائے گا… یہ کہانی صرف ایک لڑکی کی نہیں، ان تمام لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنے مسلم بھائی بہنوں کا انتظار کیا، اس یقین سے کہ وہ ان کے لیے کچھ کریں گے…