Han Tum Mujhe Qubool Ho is a Cousin Marriage Based, Rude Hero Based, After Marriage Based Romantic Novel by Shazia Chaudhary now Available to Download for Free.
Baraf Ke Aansu is a Rude Hero Based, After Marriage Love Based, Cousin Marriage Based, Village Based, Forced Marriage Based Romantic Novel by Nazia Kanwal Nazi now Available to Download for Free.
“سیاهِ منصف” جرم، انصاف اور انسانی نفسیات کی ایک کہانی ہے۔ جبرئیل راؤ، ایک ذہین مگر پریشان ڈیٹیکٹیو، اپنی شناخت کے رازوں اور ماضی کے سائے سے لڑ رہا ہے۔
کیا وہ انصاف کا علم بلند کرے گا یا خود اندھیرے کا شکار ہو جائے گا؟
یہ ناول آپ کو حیرت، سازش اور جذبات کی دنیا میں لے جائے گا۔
کبھی کبھی دوستی وہ زہر بن جاتی ہے جو دل کو مار دیتا ہے اور محبت وہ زنجیر بن جاتی ہے جو تمہیں آزاد نہیں ہونے دیتی۔ نحل آج کی اس نوجوان نسل کی کہانی ہے جو پاکستانی معاشرتی روایات اور جدید دور کے خیالات کے درمیان الجھ سی گئی ہے۔ نحل کا ہر کردار اپنے وجود کی جنگ لڑ رہا ہے، اپنے آپ کو شفایاب کر رہا ہے اور اس بدلتی دنیا میں خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نحل قاری کو روایات، رشتے، محبت، دوستی اور طاقت کے درمیان سے کھینچ کر ایک ایسی دنیا میں لے جائے گا جہاں زندگی میں ہر پل ایک نیا موڑ ہے، ہر قدم پر ایک راز ہے، جذبات کا طوفان ہے، بےوفائی کی گہری چوٹ ہے، محبت کے بیچ میں نفرت کا زہر ہے، ہر قہقہے کے پیچھے اداس چہرہ ہے۔ نحل میں وہ سچائیاں ہیں جو ایک پل میں رشتوں کو خاک میں ملا دیتی ہیں۔ نحل اس کرب کی عکاسی کرتا ہے جس سے ہر کردار نبردآزما ہے اور وہ کرادر آپ ہیں! چاہے وہ روایتوں کی قید ہو یا ذاتی خوابوں کی تباہی یا محبت میں ناکامی۔ نحل آپ کی حقیقت ہے۔ ایک ایسی گہرائی میں چھپی حقیقت جو انسان کو راز رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔
کبھی کبھی دوستی وہ زہر بن جاتی ہے جو دل کو مار دیتا ہے اور محبت وہ زنجیر بن جاتی ہے جو تمہیں آزاد نہیں ہونے دیتی۔ نحل آج کی اس نوجوان نسل کی کہانی ہے جو پاکستانی معاشرتی روایات اور جدید دور کے خیالات کے درمیان الجھ سی گئی ہے۔ نحل کا ہر کردار اپنے وجود کی جنگ لڑ رہا ہے، اپنے آپ کو شفایاب کر رہا ہے اور اس بدلتی دنیا میں خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نحل قاری کو روایات، رشتے، محبت، دوستی اور طاقت کے درمیان سے کھینچ کر ایک ایسی دنیا میں لے جائے گا جہاں زندگی میں ہر پل ایک نیا موڑ ہے، ہر قدم پر ایک راز ہے، جذبات کا طوفان ہے، بےوفائی کی گہری چوٹ ہے، محبت کے بیچ میں نفرت کا زہر ہے، ہر قہقہے کے پیچھے اداس چہرہ ہے۔ نحل میں وہ سچائیاں ہیں جو ایک پل میں رشتوں کو خاک میں ملا دیتی ہیں۔ نحل اس کرب کی عکاسی کرتا ہے جس سے ہر کردار نبردآزما ہے اور وہ کرادر آپ ہیں! چاہے وہ روایتوں کی قید ہو یا ذاتی خوابوں کی تباہی یا محبت میں ناکامی۔ نحل آپ کی حقیقت ہے۔ ایک ایسی گہرائی میں چھپی حقیقت جو انسان کو راز رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔
کچھ لوگ نصیب کے سیاہ ہوتے ہے
ان کو تعلق تو ملتا ہے محبت نہیں
ایسا کیوں ہوتا ہے جس شخص نے ہماری زندگی میں مستقل رہنا نہیں ہوتا وہ ہماری زندگی میں بھی کیو ں آتے ہے ۔ اگر کوئ
مجھ سے پوچھے دنیا کا مشکل ترین کام کون سا ہے ؟
تو میں کہوں گی محبت کرنا ۔محبت کےسفرمیں انسان کو ٹوٹ کر بکھرنا پڑتا ہے جب اندزاہو سامنے والا انسان محبت نہیں کرتا
جس کے ساتھ آپ نے عشق کے مراحل طہ کرنے کا سوچا ہوتا ہے ۔
سارے کھیل چھوڑ کر لوگ جزبات سے کیوں کھیلتے ہے. کیا جذبات سے کھیلنا آسان کام ہے۔۔۔
دل ایساکےسیدھےبھی کئےجوتےبڑوں کےضدایسی کی خودتاج بھی اٹھاکرنہیں پہنا
“اس شوپنیگ بیگ میں تمہارے کپڑے ہیں۔توپھریہ میرے روم میں کیا کر رہا ہے۔اس بات کا جواب تو تم دے ہی سکتی ہو”۔عاقب اس کی بےنیازی پر اپنے اندر امڈ رہے غصے کے ابال کو کم کرتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔
“جی! اس میں موجود کپڑے ضرور میرے لیۓخریدے گئے ہیں لیکن ہیں نہیں۔”شفق آرام سے سینے ہاتھ باندھ کر بولی۔
اب اس بات مطلب؟عاقب کو اسکی بات پر تپ چڑھی۔
“یہ کپڑے آپ کے پیئسوں سے خریدی گئےتھےجو مجھے نہیں چاہئے۔سیمپل۔”شفق نےکاندھےچڑھاکےلاپرواہی سے جواب دیا۔
“کیوں میں حرام کا کماتاہوں۔”عاقب کوتو آگ ہی لگ گئی۔جبکہ شفق کااطمینان قابل دیدتھا۔
“جی ماشاءالله سےآپ محنت سے حلال ہی کماتے ہیں۔لیکن آپ کی اس حلال کمائی کومیں اپنی ذات پرخرچ کرنا حرام سمجھتی بات اصل یہ ہے۔”شفق کااطمینان اب بھی برقرارتھا۔جبکہ عاقب سرتا پاسلگ چکاتھا۔
“دادو نے مجھے تمہیں شوپنگ کرانے کےلئے کہا تھا سو میں نے کرائی تو میں تمہاری اس بکواس کا کیا مطلب نکالوں؟۔”عاقب مٹھیاں بھینچتےہوئےدانت پیس کر بولا۔ورنہ شفق نےاسکابی پی ہائی کرنےمیں کوئی کسرنہیں چھوڑی تھی۔
“دادو نے نکاح کے لۓ کہا کرلی۔دادو نے اس فنکشن میں میرے ساتھ بیٹھنے کے لۓ کہا بیٹھ گئے۔دادو نے یہ شوپینگ کرانے کو کہا کرادی۔اتنے ہی سیدھے ہیں نا آپ؟ شفق نے استہفامیہ اندازمیں جلانےوالی مسکراہٹ کے ساتھ عاقب کاطنزیہ نظروں سےجائزہ لیا۔
“خیر دادو اور اس گھر کے باقی مکینوں کے خلوص اور محبت پر مجھے کوئی شک نہیں ہے یہ تو ان سب کی عنایت ہے مجھ پر لیکن ان کی محبتوں کو میں اپنی خودداری پر فوقیت دوں یہ شفق ابراز کی اناکوگوارانہیں۔نو نیور محبت اپنی جگہ عزتِ نفس اپنی جگہ۔”شفق نفی میں سر ہلاتی قتعت بھرے انداز میں دو ٹوک بولی۔جس پر عاقب کی بھنویں تنی تھی۔
“جب اتنی ہی خوددارہو تو سب کہ منہ پر لینے سے منع کردیتی کمرے میں چپکے سے بیگ رکھ کر لوگوں کے منہ پر منگھڑت جھوٹ بونے کا مقصد؟۔”شفق جو پلٹ رہی تھی عاقب نے پیچھے سے اسکی نازک کلائی کو اپنے مضبوط آہنی ہاتھوں میں سختی سے قید کیا۔
“ان مخلص لوگوں کی محبت کا پاس،اور اس نام نہاد رشتے کا بھرم رکھناسمجھ لیں۔جو رشتہ ہم دونو کے لئے کاغذ جتنی اہمیت بھی نہیں رکھتا۔”شفق نے اپنی کلائی آزاد کی۔
Ohh! now i undrstand
“ہاہاہا ہاہا۔۔مطلب یہ سارا ڈرامہ اس سلسلے میں تھا۔ اس لئے تم سیم ڈریس بس کلر کے فرق سے پہن کرآئی ہوکی مجھے اس سو کالڈ رشتہ سوری پیپر کا یاد دلا سکو۔؟ویسے یار میں تو تمہیں ایک لااوبالی سی بچی سمجھتا تھا لیکن تم تو ٹیپیکل مڈل کلاس لڑکی نکلی کتنا دماغ لگایا ہے۔آئ مسٹ اپریشیٹ ریئلی فئب یار”۔عاقب قہقہ لگا کر دونو ہاتھوں اپر اٹھا کر تالی مارتےہوئے بولا۔
جسٹ شٹ اپ!مسٹرعاقب حیدراگر مجھے بابا اور بھیا کے زبان کا پاس نا ہوتا تومر کر بھی ان پیپرس پرسائین نا کرتی۔اور رہی بات اس تیس ہزار کے معمولی سے ڈریس کی تو یہ کیا اگر میں اپنے باپ بھائیوں سے چاند بھی مانگوں نا تو وہ مجھے وہ بھی لاکر دینے کی آخری کوشش کرینگے۔وہ اسے ساکت چھوڑ کر دور ہوئی پھر پلٹ کر اسے دیکھا۔
اینڈ موسٹ امپورٹنٹ۔میرا کوئی آئیڈیل نہیں ہے اگر ہوتا بھی تواس میں آپ جیسا کوئی گن نا ہوتا۔یہ میرا یقین ہے کیوں کے جنہیں میں پسند کرتی ہوں انکی سوچ اتنی چھوٹی اور گری ہوئی بالکل نہیں ہو سکتی۔وہ نفرت سے پلٹ کر دھرام کی آواز سے دروازہ بند کرتی چلی گئی۔
“جانے دیں بابا اب ماما بھی کیا کرینگی وہ اب ٹیپیکل ماؤں کی طرح نہیں بول سکتی نا کے۔ مہتاب سدھر جاؤ کل کو پرائے گھر جانا ہے وہاں تمہارے یہ نخرے اٹھانے کے لئے ہم نہیں ہونگے پھر جب ساس طعنہ مارے گی نا تب میری باتیں یاد آے گی دیکھنا ۔مہتاب نے خالص ماؤں والے انداز میں کہا تو پورا لاؤج سب کی قہقہوں سے گونج اٹھا۔آفتاب جو مہتاب کی بحث کی وجہ سے اپنی کافی لے کر کمرے کی جانب بڑھ رہا تھا دیھمی مگر جاندار مسکراٹ نے اسکے ہونٹوں کو بھی چھوا۔”