اور “داستانِ فراق”… ان دونوں کا ایک سچا، خاموش گواہ ہے۔
اُن رشتوں کی بات ہے جنہیں ہم نبھاتے ہیں، اُن قربانیوں کی جنہیں ہم زبان نہیں دیتے، اور اُن فاصلوں کی جو بسا اوقات دلوں کے درمیان آ کر سب کچھ بدل دیتے ہیں۔
یہ کہانی اُن سب کے نام جو کبھی ٹوٹ کر کسی سے محبت کر بیٹھے تھے،
اور پھر خاموشی سے اُس محبت کو اپنے اندر دفنا بیٹھے۔
داستانِ عشق ایک راز، انتقام اور محبت کی داستان ہے، جہاں زایان درویش، ایک بے رحم مافیا ڈان،
اپنے ماضی کے اندھیروں میں قید ہے۔ سیہر حیات، ایک باہمت ڈاکٹر، اس کی زندگی میں روشنی بن کر آتی ہے۔
لیکن جب محبت اور بدلے کا ٹکراؤ ہوتا ہے، تو کیا زایان اپنے زخموں سے نجات پا سکے گا،
یا ماضی کا سایہ ان کی محبت کو برباد کر دے گا؟
“داستانِ عشق ایک راز، انتقام اور محبت کی داستان ہے، جہاں زایان درویش، ایک بے رحم مافیا ڈان،
اپنے ماضی کے اندھیروں میں قید ہے۔ سیہر حیات، ایک باہمت ڈاکٹر، اس کی زندگی میں روشنی بن کر آتی ہے۔
لیکن جب محبت اور بدلے کا ٹکراؤ ہوتا ہے، تو کیا زایان اپنے زخموں سے نجات پا سکے گا،
یا ماضی کا سایہ ان کی محبت کو برباد کر دے گا؟
یہ کہانی ایک تذکرہ ہے۔ ایک ایسے لڑکے کی کہانی جو اپنی محبت کو جیت یا ہار چکا ہے۔ یہ کہانی حقیقی کرداروں پر مبنی ہے۔ اس کہانی کو لکھتے ہوئے اتنا عرصہ نہیں لگا مگر ارسلان کو سہتے ہوئے کافی سال لگے تھے۔۔۔۔ اس کہانی کو میں نے لکھتے ہوئے محسوس کیا اور کوشش کی کہ یہ ہر طرح سے عمدہ ہو، امید کرتی ہوں کہ یہ چھوٹی سی کہانی پڑھنے والوں کو بے حد پسند آئے گی۔ میں نے ہر طرح سے اس کہانی کو اپنے الفاظوں سے نکھارنے کی کوشش کی ہے۔
یہ داستان ہے ایک ایسے بندھن کی جہاں خاموشی لفظوں سے زیادہ بولتی ہے ، یہ ناول گہرے دوستوں کے گرد گھومتا ہے جنہوں نے مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ نہ چھوڑا ۔ یہ داستان ہے ضد اور جذبات کی ، دوستوں کے ہنسی مزاق کی ، شکوہ ، روگ ، پچھتاوا اور محبت کی ۔ وقت ، حالات اور شک ان کے تعلق کو بار بار آزمائش میں ڈالتی ہے۔ لیکن سچی دوستی اور چاہت ہر امتحان میں خود کو منواتی ہے۔
یہ کہانی ہے فلسطین کی جہاں ایک چھوٹا بچہ جنم لیتا ہے اسکا باپ اور دادا مسجد اقصیٰ کی حفاظت کرتے شہید ہو جاتے ہیں اور جب مہدی جنم لیتا ہے تو اسکی ماں اسے مسجد اقصیٰ کے بارے میں بتاتی ہے جس سے وہ ایک سپاہی بن جاتا ہے اور مسجد اقصیٰ کے لیے لڑتا ہے۔۔۔
یہ کہانی ہے لاہور کی ایک معصوم لڑکی کی جو بہترین رائٹر تھی وہ روز فلسطین پر ہونے والے ظلم کو دیکھ کر انکے لیے دعا کرتی تھی لیکن ایک دن اس نے اپنے رائٹر ہونے کا حق ادا کیا اور فلسطین کے لیے لکھنا شروع کیا۔۔۔ جس سے مہدی ہو کبھی کبھی اپنی ہمت ہارتا محسوس کرتا تھا اسے اس ارٹیکل اور ناول کو دیکھ حوصہ ملتا تھا کہ انکے ملک کے لیے کوئی ہے جو اواز اٹھائ رہا ہے۔۔۔ اور پھر یہاں سے سفر شروع ہوا تھا۔۔۔ دوستی کا ایک گمنام محبت کا جہاد کا ۔۔۔