Ongoing Novels

Jugnu Episode 3

مختلف کردار جو کہ سفر میں ہیں۔۔ ایک ایسا سفر جو کہ روشنی سے شروع ہوتا ہے روشنی کی طرف۔۔ مختلف کردار مختلف لوگوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کچھ وہ جو روشنی کو پا لیتے ہیں اور کچھ وہ جو ساری عمر سفر میں رہتے ہیں۔ وہ لوگ جو اندھیرے سے ڈرتے ہیں اور روشنی انھیں خود ڈھونڈ لیتی ہے۔ان لوگوں کی کہانی جنھیں اندھیرے خود جلنا سکھاتے ہیں اور وہ جل کر ایسی روشنی پیدا کرتے ہیں کہ ہر طرف اجالا ہوتا ہے۔

Junoon e Jahzee Episode 1

یہ کہانی ایک جرائم کے بادشاہ، بے رحم، نشے کے عادی، سگریٹ نوشی کرنے والے، ظالم، جنونی، وحشی، بے خوف اور ایسے انسان پر لکھی گئی ہے جس کی فطرت میں انہیں سب چیزوں کی دیوانگی ہے۔
اندھیروں کی اس دنیا میں، جہاں طاقت اور رازوں کا راج ہے، ایک بے رحم مافیا کنگ کا انتقام ایسا شدید ہوتا ہے کہ بے گناہوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔
اس کا دل، جو غداری کے زخموں سے پتھر بن چکا تھا، ایک معصوم لڑکی کو اپنی نفرت کا نشانہ بناتا ہے۔
وہ لڑکی، جو اپنی سادگی میں مگن تھی، اچانک اس کی ستمگری کی دنیا میں کھینچ لی جاتی ہے۔
وہ بے خبر اس گناہ کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے جس کی سزا اسے دی جا رہی ہے، جبکہ وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے اپنے انتقام کی زنجیروں میں جکڑتا جاتا ہے۔
یہ کہانی طاقت، محبت، اور نفرت کے درمیان ایک ایسا پیچیدہ کھیل ہے جس میں دونوں کرداروں کی تقدیر کا فیصلہ ہونا باقی ہے

Junoon Episode 1 by Fiza Saleem

یہ کہانی حقیقت کی تلخیوں اور خوابوں کی روشنیوں کو ملا کر لکھی گئی ہے۔
اس کہانی کے دو مرکزی کردار ہیں: عائشے کریم اور عمر سید۔
عائشے ایک ہندوستانی لڑکی ہے جسے ناولز پڑھنا اور لکھنا بے حد پسند تھا۔ اگر اللہ کی ذات کے بعد اُسے کسی چیز میں سکون اور خوشی محسوس ہوتی تھی تو وہ اُس کی ناولز تھیں، جنہیں پڑھ کر وہ ایک ایسی دنیا میں چلی جاتی تھی جہاں اسے نہ کوئی طنز کرنے والا ہوتا، نہ دھوکہ دینے والا، اور نہ کوئی چھوڑ کے جانے والا۔ ہر چیز بہت خوبصورت ہوتی تھی۔
اس کا‌ پسندیدہ کردار عمر جہانگیر تھا۔
وہ اُسے کبھی اُس کی بے باکی کی وجہ سے پسند کرتی، کبھی اُس کے اپنے جذبات کو کبھی نہ ظاہر کرنے والے انداز سے، اور کبھی صرف اس لیے کہ وہ اُس سے خود کو رلیٹ کرتی تھی۔
اُسے عمر جہانگیر میں اپنا عکس نظر آتا تھا یا‌ خود میں عمر جہانگیر کا۔
عمر سید ایک پاکستانی امیر بزنس مین کا بڑا بیٹا تھا، جسے اپنی ذات کے سوا کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ کوئی دوسرا اُس کے بارے میں کیا سوچتا ہے، اس سے اُسے ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا تھا۔
وہ اپنی نظر میں بہت اچھا تھا — اور اُس کے لیے یہی کافی تھا۔
اس کے قیامت خیز سراپے کے بعد پہلی خاص بات اُس کی زبان تھی، جو ہمیشہ ہر سوال کا فوری اور لاجواب جواب دینے کے لئے تیار رہتی تھی۔
اور دوسری بات — وہ thrill کا دیوانہ تھا۔
چاہے وہ بیچ سڑک پر کار ڈرفٹنگ ہو یا ٹریفک میں ہوا کی رفتار سے بائیک چلانا — وہ ان سب چیزوں میں ماہر تھا۔
یہ سب اُس کی ہوبیز نہیں تھیں — وہ یہ سب کچھ صرف سیلف سیٹسفیکشن کے لیے کرتا تھا۔
عائشے اور عمر کے ملک سے لے کر ان کی زندگی، سوچ اور خیالات سب کچھ بےحد مختلف تھے، لیکن دل تو کسی پر آنے سے پہلے یہ سب نہیں سوچتا نا، اگر ایک شخص پر آ جائے تو قصہ وہیں تمام ہو جاتا ہے، پھر زندگی اُس شخص کے ساتھ لکھی ہو یا محض اُس کی یادوں کے ساتھ۔

Junoon Episode 2 by Fiza Saleem

یہ کہانی حقیقت کی تلخیوں اور خوابوں کی روشنیوں کو ملا کر لکھی گئی ہے۔
اس کہانی کے دو مرکزی کردار ہیں: عائشے کریم اور عمر سید۔
عائشے ایک ہندوستانی لڑکی ہے جسے ناولز پڑھنا اور لکھنا بے حد پسند تھا۔ اگر اللہ کی ذات کے بعد اُسے کسی چیز میں سکون اور خوشی محسوس ہوتی تھی تو وہ اُس کی ناولز تھیں، جنہیں پڑھ کر وہ ایک ایسی دنیا میں چلی جاتی تھی جہاں اسے نہ کوئی طنز کرنے والا ہوتا، نہ دھوکہ دینے والا، اور نہ کوئی چھوڑ کے جانے والا۔ ہر چیز بہت خوبصورت ہوتی تھی۔
اس کا‌ پسندیدہ کردار عمر جہانگیر تھا۔
وہ اُسے کبھی اُس کی بے باکی کی وجہ سے پسند کرتی، کبھی اُس کے اپنے جذبات کو کبھی نہ ظاہر کرنے والے انداز سے، اور کبھی صرف اس لیے کہ وہ اُس سے خود کو رلیٹ کرتی تھی۔
اُسے عمر جہانگیر میں اپنا عکس نظر آتا تھا یا‌ خود میں عمر جہانگیر کا۔
عمر سید ایک پاکستانی امیر بزنس مین کا بڑا بیٹا تھا، جسے اپنی ذات کے سوا کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ کوئی دوسرا اُس کے بارے میں کیا سوچتا ہے، اس سے اُسے ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا تھا۔
وہ اپنی نظر میں بہت اچھا تھا — اور اُس کے لیے یہی کافی تھا۔
اس کے قیامت خیز سراپے کے بعد پہلی خاص بات اُس کی زبان تھی، جو ہمیشہ ہر سوال کا فوری اور لاجواب جواب دینے کے لئے تیار رہتی تھی۔
اور دوسری بات — وہ thrill کا دیوانہ تھا۔
چاہے وہ بیچ سڑک پر کار ڈرفٹنگ ہو یا ٹریفک میں ہوا کی رفتار سے بائیک چلانا — وہ ان سب چیزوں میں ماہر تھا۔
یہ سب اُس کی ہوبیز نہیں تھیں — وہ یہ سب کچھ صرف سیلف سیٹسفیکشن کے لیے کرتا تھا۔
عائشے اور عمر کے ملک سے لے کر ان کی زندگی، سوچ اور خیالات سب کچھ بےحد مختلف تھے، لیکن دل تو کسی پر آنے سے پہلے یہ سب نہیں سوچتا نا، اگر ایک شخص پر آ جائے تو قصہ وہیں تمام ہو جاتا ہے، پھر زندگی اُس شخص کے ساتھ لکھی ہو یا محض اُس کی یادوں کے ساتھ۔

K Abad Shehr e Janah ho Part 1

آزمائشوں کے شوریدہ طوفانوں میں ڈولتی محبت کی ناؤ جو بدگمانی اور سازش کی تیز لہروں سے لڑکھڑاتی دکھوں کے گہرے پانیوں میں غوطے کھاتی عشق کے جزیرے پہ اترتی ہے۔۔۔ تاحدہ نگاہ چھائی مشکبار جذبوں کی ہریالی جن کے بل کھاتے رستوں پہ لوگ ملتے بچھڑتے اپنی شناخت پاتے ہیں۔۔۔ جزیرے کے بیچوں بیچ شہر آباد ہے “شہر جاناں، جس میں  اہلِ دل لوگ اپنے مسکن میں بسے محبت کے گیت گاتے عشق کی معراج کو چھوتے ہیں اور آنے والے بنجراؤں کےلیے بانہیں وا کردیتے ہیں آؤ  “کہ آباد شہرِ جاناں ہو”۔۔

K Abad Shehr e Janah ho Part 10

آزمائشوں کے شوریدہ طوفانوں میں ڈولتی محبت کی ناؤ جو بدگمانی اور سازش کی تیز لہروں سے لڑکھڑاتی دکھوں کے گہرے پانیوں میں غوطے کھاتی عشق کے جزیرے پہ اترتی ہے۔۔۔ تاحدہ نگاہ چھائی مشکبار جذبوں کی ہریالی جن کے بل کھاتے رستوں پہ لوگ ملتے بچھڑتے اپنی شناخت پاتے ہیں۔۔۔ جزیرے کے بیچوں بیچ شہر آباد ہے “شہر جاناں، جس میں  اہلِ دل لوگ اپنے مسکن میں بسے محبت کے گیت گاتے عشق کی معراج کو چھوتے ہیں اور آنے والے بنجراؤں کےلیے بانہیں وا کردیتے ہیں آؤ  “کہ آباد شہرِ جاناں ہو”۔۔

K Abad Shehr e Janah ho Part 11

آزمائشوں کے شوریدہ طوفانوں میں ڈولتی محبت کی ناؤ جو بدگمانی اور سازش کی تیز لہروں سے لڑکھڑاتی دکھوں کے گہرے پانیوں میں غوطے کھاتی عشق کے جزیرے پہ اترتی ہے۔۔۔ تاحدہ نگاہ چھائی مشکبار جذبوں کی ہریالی جن کے بل کھاتے رستوں پہ لوگ ملتے بچھڑتے اپنی شناخت پاتے ہیں۔۔۔ جزیرے کے بیچوں بیچ شہر آباد ہے “شہر جاناں، جس میں  اہلِ دل لوگ اپنے مسکن میں بسے محبت کے گیت گاتے عشق کی معراج کو چھوتے ہیں اور آنے والے بنجراؤں کےلیے بانہیں وا کردیتے ہیں آؤ  “کہ آباد شہرِ جاناں ہو”۔۔

K Abad Shehr e Janah ho Part 12

آزمائشوں کے شوریدہ طوفانوں میں ڈولتی محبت کی ناؤ جو بدگمانی اور سازش کی تیز لہروں سے لڑکھڑاتی دکھوں کے گہرے پانیوں میں غوطے کھاتی عشق کے جزیرے پہ اترتی ہے۔۔۔ تاحدہ نگاہ چھائی مشکبار جذبوں کی ہریالی جن کے بل کھاتے رستوں پہ لوگ ملتے بچھڑتے اپنی شناخت پاتے ہیں۔۔۔ جزیرے کے بیچوں بیچ شہر آباد ہے “شہر جاناں، جس میں  اہلِ دل لوگ اپنے مسکن میں بسے محبت کے گیت گاتے عشق کی معراج کو چھوتے ہیں اور آنے والے بنجراؤں کےلیے بانہیں وا کردیتے ہیں آؤ  “کہ آباد شہرِ جاناں ہو”۔۔

K Abad Shehr e Janah ho Part 13

آزمائشوں کے شوریدہ طوفانوں میں ڈولتی محبت کی ناؤ جو بدگمانی اور سازش کی تیز لہروں سے لڑکھڑاتی دکھوں کے گہرے پانیوں میں غوطے کھاتی عشق کے جزیرے پہ اترتی ہے۔۔۔ تاحدہ نگاہ چھائی مشکبار جذبوں کی ہریالی جن کے بل کھاتے رستوں پہ لوگ ملتے بچھڑتے اپنی شناخت پاتے ہیں۔۔۔ جزیرے کے بیچوں بیچ شہر آباد ہے “شہر جاناں، جس میں  اہلِ دل لوگ اپنے مسکن میں بسے محبت کے گیت گاتے عشق کی معراج کو چھوتے ہیں اور آنے والے بنجراؤں کےلیے بانہیں وا کردیتے ہیں آؤ  “کہ آباد شہرِ جاناں ہو”۔۔
1 87 88 89 204